Monday, 15 September 2014

Imran Khan's Personal Life




عمران خان کی ذاتی زندگی کا قوم پر اجتمائی اثر

عمران خان کی ذاتی زندگی کا قوم پر اجتمائی اثر

ITP والے بھی کمال کےلوگ ہیں - انصاف کی بات کرتے ہیں اور- عمران خان کے اعمال کی سیاہی پوری قوم کے ماتھے پر ملنا چاہتے ہیں - دین کی سربلندی اور مذہبی اقدار کی حصول کے دعویدار بھی ہیں اور دین اور اسکے زریں اصولوں کو یکسر فراموش بھی کر بیٹھے ہیں.

کاش یہ مجھے اور میرے جیسے اوروں کو بھی مطمین کر سکیں اور یہ بتائیں کہ میری اس قوم کا کیا ہوگا جو اپنے جوانوں کوقول وفعل میں حسن وحسین کی مانند دیکھنا چاہتی ہے. اس قوم کا کیا ہوگا جب اسکےنوجوان اپنی تسکین نفس کیلئے کسی طوائف سےاپنےتعلق کواپناذاتی عمل کراردیکر گناہوں سے متنفر ہونا چھوڑ دینگے. ان ماں باپ کا کیا قصور ہے جنکےبچےعمران خان کی ذاتی زندگی سے متاثر ہوکر گناہوں کی دلدل میں دھنس جائیں گے اور اپنی اولاد کو اپنے لئے مغفرت اور ثواب کا وسیلہ سمجھنے والے والدین بچوں کے گناہوں سے منہہ چھپاتے پھرے گے.
  یہ اپنی بت پرستی کی تسکین کیلئے اس خلیفہ وقت کوبھول جاتےہیں جسےاپنےلباس کی لمبائی زیادہ ہونےکا بھی حساب دینا پڑا تھا.

کاش انکے ماں باپ نے انہیں مصر کے گورنر حضرت ایاز بن غنم کا ماجرہ سنایا ہوتا جنہیں ریشمی لباس زیب تن کرنے پر خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنہہ نے بھیڑ بکریاں چراہنے پر لگا دیا تھا - کاش کوئی انکو وہ قصہ بھی سناتا جب اسی خلیفہ وقت نے لوگوں سے پوچھا کہ اگر کبھی عمر کو دنیا کی طرف راغب پاؤ تو کیا کرو گے - مجمع میں سے ایک شخص اٹھا اور کہا کہ اے عمر، ہم تیرا سر قلم کر دیں گے اور قربان جاؤں اپنے وقت کے اس طاقتور ترین حاکم پر جس نے ایک ایسا جملہ کہہ دیا جو آج بھی مہذب معاشروں قوموں اور قیامت تک کے حکمرانوں کے لئے ایک چارٹر کی حیثیت رکھتا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے فرمایا اے خدا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے وہ لوگ عطا  کئے جو مجھے سیدھے رستے سے بھٹکنے نہیں دینگے.

اور آج کے حاکم ایسے کہ ان سے ان کے اعمال کی بازپرس کی جاۓ تو وہ اپنے نامہ اعمال کی سیاہی پر ذاتی زندگی کا لیبل لگا کر اپنے آپ کو معاشرتی و مذہبی اقدار سے ماورا اور آفاقی قوانین سے بھی بلند تر سمجھتے ہیں.

اب کون سمجھاۓ ان عقل کے اندھوں کو جو شب سیاہ کی تاریکی میں اپنی بینائی، عقل و فہم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں - کون یاد کراۓ انکو کہ حکمران خود تو مر جاتے ہیں مگر انکا ماضی کبھی نہیں مرتا - انکا ماضی آسیب کی طرح لوگوں کے شعور اور مورخ کے قلم کی نوک کے سائےتلے ہمیشہ زندہ رہتا ہے.

کون یاد دلاۓ ان مادر پدر آزاد خیال فسطائیوں کو کہ آزاد قومیں یا تو اپنے حکمرانوں کی تقلید کرتی ہیں یا انکو راہ راست پر رکھتی ہیں

حیف بے میرے ITP کے دوستوں پر
حیف بےان نادانوں پر

جودنیا فرعون کی چاہتےہیں
اورعاقبت موسیٰ کی

ذاتی زندگی پلے بوائے کی چاہتے ہیں 

اوراجتمائی زندگی امیرالمومینن کی

وما علينا إلا البلاغ المبين


ثواب دارین کے لیے مزید لوگوں تک پہنچائیں