Wednesday, 13 December 2017

اے ابن آدم تو تو کم ظرف نکلا

اے ابن آدم 
تو تو کم ظرف نکلا

تو بھول گیا
تو اسکا ہر کرم بھول گیا
تو اپنے رب کا ہر کرم بھول گیا

تجھے یاد نہ رہا
تیرے رب نے تیرے لئے کیا کیا نہ کیا

تو پانی کا اک قطرہ تھا
تو مشت بھر مٹی تھا

تیرے رب نے کرم کیا
تجھے انسان کی مورت بنایا
تجھ میں روح پھونکی
تجھے آدم بنایا
تجھے ابن آدم بنایا

کیا تو دیکھتا نہیں
پانی میں تیرنے والی
زمین پر بھاگنے والی
ہواؤں میں اڑنے والی
کیا یہ سب اسکی مخلوق نہیں

کیا رب قادر نہ تھا
کہ تجھے بھی چوپایہ بنادیتا

وہ چاہتا تو تجھے چیونٹی بنا دیتا
وہ چاہتا تو تجھے ہاتھی بنا دیتا

مگر اے ابن آدم

اس نے تجھ پر کرم کیا
اس نے تجھے انسان بنایا

اور تو نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ
کیا اس نے تجھ پر یہ کرم
کسی سے پوچھ کر کیا

اس نے وہی کیا جو وہ چاہتا تھا
اس سے پوچھنے والا کون تھا

وہ قہار ہے
وہ مختار ہے
وہ جابر ہے
وہ قادر ہے


اس نے تجھ پر کرم کیا

تو نے چلنا چاہا
اس نے تجھے چلنا سکھایا

تو نے بولنا چاہا
اس نے تجھے کلام سکھایا

تجھے رزق کی ضرورت تھی
اس نے پوری دنیا کو تیرا
دسترخوان بنایا

تو بے لباس تھا
تجھے لباس پہنایا 

تو نے اڑنا چاہا
اس نے تجھے اڑنا سکھایا

تو نے تیرنا چاہا
اس نے تجھے تیرنا سکھایا

مگر اے ابن آدم

تو تو ناشکرا نکلا
تو بھول گیا

 کہ گر وہ چاہتا تو تجھے
پتھروں کا پجاری بنا دیتا
گر وہ چاہتا تو تجھے اپنی مخلوق
کیعبادت کرنے والا بنا دیتا

کیا تو دیکھتا نہیں
کہ انسان آگ کو پوجتے ہیں
سانپ کو پوجتے ہیں
پتھروں کو پوجتے ہیں
ہزاروں سال نسل در نسل
کفر پر جیتے ہیں

مگر تجھ پر اس نے کرم کیا
تجھے امت محمدی کیلئے چن لیا
تجھے اپنا کلمہ سکھایا
تجھے اپنا دین سکھایا
تجھے اپنا بنایا
تجھے محمدی بنایا

تیرا رب اتنا رحیم
تیرا رب اتنا کریم
تیرا رب اتنا شفیق

تو کمزور تھا
اس نے تجھے طاقت بخشی
تیرے نحیف بازوؤں کو دم بخشا
تیرے سینے کو وسعت بخشی
تیرے ڈگمگاتے قدموں کو
استقامت بخشی

تو جاہل تھا
تجھے علم بخشا
اپنی کائنات میں تجھے
اشرف المخلوقات کا شرف بخشا

مگر اے ابن آدم
تو تو ناشکرا نکلا
تو اسکا ہر کرم بھول گیا

تو بھول گیا
کہ تو تو پانی کا اک قطرہ تھا
تو تو مشت بھر مٹی کا ڈھیر تھا

تجھے دین کا علم سکھایا
کہ تو رب تک جانے
کا راستہ ڈھونڈھے
اسکی مخلوق کو اس سے ملانے
کا بہانہ ڈھونڈھے

اور آج تو اتنا طاقتور ہوگیا
آج تو اپنے رب کا احسان بھول بیٹھا
تو جنت اور جہنم کا مالک بن بیٹھا

اللہ نے تو اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا
مگر تو تو انکا حاکم بن بیٹھا
تو تو انکا رب ہی بن بیٹھا

Thursday, 19 October 2017

اگالدان



اصل کھیل، اصل کھلاڑی اور تاریخ کا اگالدان 

نوازشریف سے پوچھا جا رہا تھا کہ اس کے بچوں نے لندن کے فلیٹ کیسے لئے. اسکے بچے بتانے کو اور حساب کتاب دینے کو تیار تھے. مگر مکمل کیس کو ایسے چلایا گیا کہ مقدمہ کے اختتام پر نوازشریف کرپٹ ثابت ہو یا نہ ہو اسکا ووٹ بینک ضرور خراب ہو جائے

یہاں ججوں کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ نواز شریف پر کوئی الزام بھی ثابت نہ ہوسکا مگر اسے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کہنے والے ججوں اور انکے سہولت کاروں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ موجود نہ تھا اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کیلئے بیٹے سے نہ لی جانے والی تنخواہ کو بنیاد بناتے ہوئے میاں صاحب کو نااہل قرار دیکر انہیں جس قدر سیاسی نقصان پہنچا سکتے تھے اسکی انہوں نے مقدور بھر کوشش کی

یہاں ان ججوں سے یہ غلطی ہوگئی کہ وہ بھول گئے کہ پاکستانی عوام کا سیاسی شعور بہت بلند ہوچکا ہے اور انہتائی غیرموافق حالات کے باوجود انہوں نے میاں صاحب کی پنڈی سے لاہور ریلی اور حلقہ این اے 120 میں اپنے ووٹ کے ذریعہ اسکا برملا اظہار بھی کیا

اب آئیے عمران خان کی طرف
تھو تھو تھو

معذرت دوستو
 عمران خان کا تصور آتے ہی اس پر تھوکنے کو دل کرتا ہے

عمران خان پر اپنے اثاثے چھپانے کا مقدمہ ہے. اگر تیسری دفعہ وزیراعظم بننے والا میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے باوجود نہ لی جانے والی دس ہزار درہم تنخواہ پر نااہل ہو سکتا ہے تو عمران خان کے جرم کی نوعیت تو بہت سنگین تھی

 اس نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ ٹیکس چوری کرنے کیلئے اپنا اربوں روپے مالیت کا بنی گالہ محل بیوی کا تحفہ ظاہر کیا اور اپنی باقی تمام جائیداد اس باپ کی وراثت ظاہر کی جو اپنی تنخواہ سے انہیں خریدنے کی سکت نہ رکھتا تھا

عمران خان کے مقدمہ میں اسکی نااہلی تو نوشتہ دیوار تھی مگر بھوٹانی ججوں کا کمال دیکھیں کہ انہوں نے پارٹی فنڈز میں گھپلہ، ہسپتال کی زکات وخیرات میں کرپشن، کرکٹ میچز پر جوا اور سٹہ بازی اور امیر عورتوں سے پیسے کیلئے شادی کرنے جیسے گناہوں میں لتھڑے عمران خان کی ڈرائی کلیننگ شروع کردی

وہ بجائے اس پہلو پر غور کرتے کہ عمران خان نے کہیں ہسپتال کے فنڈز سے تو اپنے اثاثے نہیں بنائے، یا اس نے پارٹی کے فنڈز اپنی ذات پر تو خرچ نہیں کیے، بھوٹان کے ان جج حضرات نے پوری بھوٹانی قوم کو عمران خان اور اسکی سابقہ بیوی جمائمہ کے درمیان ہونے والے لین دین کے پیچھے لگا دیا ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ عمران خان کے وہ ووٹرز اور سپورٹرز جو پیدائشی طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں وہ مایوس ہوکر جرومِ یروشلم سے ایسے سوال پوچھنا نہ شروع کردیں جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے

مثلاّ اگر اسکے سپورٹرز عمران خان سے یہ پوچھیں کہ جناب آپ ہمیں خود داری کا سبق دیتے ہیں، لیکن آپ اپنی بیٹی اور بیٹوں کو خود پالنے کی بجائے انہیں اپنے سابقہ یہودی سسرال کے اس مال پر کیوں پال رہے ہیں جو آپ کیلئے حرام ہے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جاسکے کہ جناب آپ کے بچے اس یہودی خاندان میں کیوں پرورش پارہے ہیں جہاں شراب اور لحم خنزیر کا استعمال حلال ہے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ کیا کوئی مسلمان پاکستانی اتنا بغیرت ہوسکتا ہے کہ اسکے سگے بیٹے اور بیٹی اسکی سابقہ غیر مسلم بیوی کے گھر یہودی مال پر پرورش پائیں اور وہ اس پر فخر محسوس کرے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ کیا اسے طلاق کے بعد بھی اپنی بیوی سے پیسے مانگتے شرم نہیں آتی اور کیا اسے یہ سوچ کر اپنے وجود سے گھِن نہیں آتی کہ اسکے بچے یہودیوں کے صدقات اور خیرات پر پل رہے ہیں؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ آپ کے بچے کعبہ کی طرف منہ کرکے پانچ نمازیں پڑھتے ہیں کہ یروسشلم کی طرف منہ کرکے تین نمازیں پڑھتے ہیں اور یا پھر وہ ہر اتوار چرچ کی گھنٹیاں بجا کر ہی روحانیت کے مدارج طے کر رہے ہیں

جناب یہی سوالات ہیں جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے معزز عدلیہ کے ججوں نے عمران خان کو بدکردار، جواری اور دھوکہ باز کہنے کی بجائے اسکے تمام گناہوں کو میاں بیوی کے درمیان معاملات کا رنگ دے دیا ہے

یارو – یہ عمران خان کی ذاتی زندگی ہے اور ہمیں شائد یہ سوال نہیں پوچھنے چاہیئیں لیکن اگر اسے پاکستان کا وزیراعظم بننے کا شوق ہے تو اسے کبھی نہ کبھی ان سوالوں کا جواب لازمی دینا ہوگا

کاش کوئی شخص سپریم کورٹ کی اگلی پیشی میں اک آئنہ اپنے ساتھ لے جائے اور ججوں سے کہے جناب پہلے آپ نوازشریف کا چہرہ آلودہ کرنا چاہ رہے تھے اور اب  آپ عمران خان کے چہرے سے غلاظت صاف کرنا چاہ رہے ہیں لیکن اس آئنہ میں اپنا چہرہ دیکھیں کہ اصل میں آپ نے اپنے ہی چہرے کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ آنے والی نسلیں جب پاکستان کی تاریخ پڑھیں گی تو وہ آپکے نام اور منہ پر اتنا تھوکیں گے کہ آپ کا چہرہ تاریخ میں اگالدان  (spittoon) کی حیثیت اختار کر جائے گا

Friday, 29 September 2017

ہم سب کے حسین












محرم کا وہ دن آ پہنچا
وہ شام، وہ رات اور
وہ لمحات آپہنچے

آج ہی کے دن پیارے آقا صل الله علیہ وسلم کے اہل بیت میدان کربلا میں تین دن کی بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد اللہ کریم کی مقدس بارگاہ میں اپنی پاک جانوں کا نذرانہ لئے پیش ہوئے ہونگے

ان اہل بیت میں
بچے بھی تھے
جوان بھی تھے
بوڑھے بھی تھے

آج سب کا خیال آتا ہے اور دل بھر آتا ہے

مگر جب چھ ماہ کے ننھے شہزادے علی اصغر کا خیال آتا ہے تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں

دوستو
ہم اس دور میں موجود نہ تھے
جن لوگوں نے وہ وقت دیکھا ہوگا
وہ آج ہم میں موجود نہیں

کاش کوئی بتا سکتا
کہ جب دریائے فرات کے کنارے آل نبی  کے جلتے خیموں کی تمازت پھیلی اور انکی راکھ ہوا کے دوش اڑتی پھر رہی ہوگی تو سبز گنبد کے مکین کے نواسے کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی

کاش کوئی بتا سکتا
کہ جوان سال علی اکبر کی والدہ نے جب اپنے جگر کے ٹکرے کو مقتل کی جانب رخصت کیا تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی


دوستو
غور کریں تو آج اس کائنات میں سورج اور چاند کے سوا اور کوئی نہیں جو سانحہ کربلا کا عینی شاہد ہو

تو آؤ
اک لمحہ کیلئے
آسمان پر روشن چاند اور سورج سے پوچھتے ہیں
کہ آج چودہ صدیاں گزر گئیں

تم نے تو کربلا کے مقتل میں وہ دن اور وہ راتیں حسین کے ساتھ گزاری تھیں

تم آج چودہ سو سال بعد بھی ہر روز کربلا کے ان ریگزاروں کو سلام کرکے آتے ہو
یہ تو بتاؤ کہ تب تم نے ایسا کیا دیکھا تھا
جو اس پہلے اور اسکے بعد کبھی نہ دیکھا ہو

اے چاند تجھ سے شروع کرتے ہیں
تو بتا
تجھے ان راتوں کی قسم
جب آمنہ کے لعل  اپنے پنگھوڑے میں لیٹے تجھ سے کھیلا کرتے تھے

ہمیں بتا کہ کربلا کے میدان میں تو نے کیا دیکھا تھا

یارو
گر سن سکتے
تو گنبد خضری اور مزار حسین پر ہر روز حاضری دینے والے چاند کی زبان سے اس کا گریہ سن لیتے

وہ ہمیں بتاتا کہ
اس روز میں جب کربلا کے میدان میں اترا
تو وہ رات ہی کا کوئی پہر تھا
اور مجھے رخ مصطفی کی قسم
میں نے وہاں بھی رخ مصطفی ہی دیکھا
میں جس حسین کو کونین کے مالک کے کندھوں پرسوار دیکھا کرتا تھا، اس دن میں نے انہیں کربلا میں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے دیکھا

یہ کہہ کر اگر چاند خاموش ہوجائے تو یہ مت سمجھنا کہ اس کے پاس بتانے کو کچھ نہیں بلکہ یہ سمجھ جانا کہ اسکا حوصلہ جواب دے گیا ہے

یہی سوال گر سورج سے بھی پوچھیں کہ اس نے بھی وہ منظر اپنی بوڑھی مگر جہاندیدہ آنکھوں سے دیکھا ہوگا
کیا اسے آج یہ یاد ہے کہ
اس نے کربلا کے میدان میں کیا دیکھا

یارو
گر سورج کو قوت گویائی مل جائے
 تو وہ بتائے گا کہ

میں نے آدم کا زمین پر اترنا دیکھا
میں نے ابراہیم کا آگ میں کودنا دیکھا
میں نے نوح کا طوفان بھی دیکھا
میں نے موسی کو کوہ طور پراللہ سے ہم کلام بھی دیکھا
میں نے عیسی کو صلیب پر چڑھتے دیکھا
میں نے اک نگاہ محمد سے قبلہ بھی بدلتا دیکھا

میں نے یہ سب دیکھا
اور پھر وہ دن بھی آ پہنچا
جب میں نے وہ دیکھا
جو اس سے پہلےمیں نے نہ دیکھا تھا 

میں نے دیکھا 
کہ جس نبی رحمت نے اپنی امت سے روز محشر انکو حوض کوثر سے پانی پلانے کا وعدہ کر رکھا ہے اسی نبی کی اسی امت نے اسکے بچوں کا تین دن سے پانی بند کر رکھا تھا

ان تین دنوں میں
میں نے بہت کچھ دیکھا
ہر چیز یاد ہے
مگر وہ لمحہ نہیں بھولتا جب میں نے حسین کو بازوؤں میں اپنے چھ ماہ کے لخت جگر کو اٹھائے میدان کربلا میں آتے دیکھا

میں نے دیکھا
کہ حسین نے یزید کے لشکر سے چھ ماہ کے بچے کیلئے پانی مانگا اور جواب میں تیروں کی بوچھاڑ ہوئی اور اک تیر ننھے شہزادے کے پیاس سے سوکھے حلق کے آر پار ہوگیا


میں حیرت میں آگیا
اور صدیوں میں اسی حیرت کا شکار رہا کہ
حسین نے یزیدی لشکر سے پانی کیوں مانگا


مالک حوض کوثر  کا نواسہ اگر یزیدی لشکر کی بجائے الله سے پانی مانگتا تو مجھے عصائے موسی کی قسم دریائے فرات کا پانی خود چل کر آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتا

میں نے بہت سوچا
اور پھر صدیوں بعد سمجھ آئی کہ
مقصد پانی یا پیاس کا بجھانا نہ تھا
مقصد اپنی سب سے قیمتی شئے کو الله کی بارگاہ میں قربان کرنا تھا

گر حسین اس روز اپنے شہزادے کو اپنے بازوؤں میں تھامے خیمے سے باہر میدان جنگ میں نہ لاتے تو ہو سکتا تھا کہ
جنگ ختم ہوجاتی
اور لشکر یزید ننھے علی اصغر کو دودھ پیتا بچہ سمجھ کر انہیں شہادت سے محروم کر دیتا



یارو
میرا دل کہتا ہے کہ
ہمیں شعور نہیں
ہم سمجھ نہیں سکتے
ہمیں سن نہیں سکتے

ورنہ ہمیں آج کائنات کا ہر اک زرہ حسین حسین کہتا ہوا سنائی دیتا. میری اس بات سے کسی کو گر کسی خاص فقہہ کی بو آتی ہو تو مہربانی فرما کر درگرز فرمادیں
لیکن یہ سچ ہے
کہ حسین ہم سب کے ہیں
حسین ہمارے لئے کربلا کے میدان میں شہید ہوئے
گر وہ شہید نہ ہوتے
اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان دین پر قربان نہ کرتے تو شاید خود تو بچ جاتے مگر انکے نانا کا دین شہید ہوجاتا

  

Tuesday, 26 January 2016

کبھی خود بھی ذرا سوچئے؟





ڈاکٹر پالش کی کسی بھی دوسرے ڈاکٹر کے ساتھ کسی بھی طرح کی مماثلث محض اتفاق ہوگی اور ادارے کو اسکا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے



 کبھی خود بھی ذرا سوچئے؟

ڈاکٹر پالش ابھی چھوٹے سے تھے. عمر ہوگی یہی کوئی دس سال کے لگ بھگ، معصوم اور بھولا بھالا سا چہرہ، جو اک نظر دیکھتا سبحان الله کہنے پر مجبور ہو جاتا اور شرمیلے ایسے کہ جونہی احساس ہوتا کہ کوئی انکی طرف متوجہ ہے تو کان کی لوئیں سرخ ہوجاتیں


گھر بھر کے لاڈلے، جب اپنی توتلی سے زبان میں باتیں کرتے تو لوگ بہت ہنستے تھے مگر کسے معلوم تھا کہ ننھے منے پالش کی لوگوں کو ہنسانے کی یہ عادت اس قدر پختہ ہوجائے گی کہ ایک دن وہی اسکا ذریعہ معاش بن جائیگا


اس نئی نسل کے بگڑے بچے دیکھ کر یہی گلہ رہتا ہے کہ ماؤں نے اپنے بچوں کو وہ تربیت ہی دینا چھوڑ دی جو ڈاکٹر پالش صاحب کو نصیب ہوئی. آج کل کے بچے بھلا کیا جانیں کہ بزرگوں کا ادب کیسے کرتے ہیں.

اور اوپر سے پالش صاحب کی ملنساری اور خوش مزاجی کے تو کیا ہی کہنے. محلہ بھر میں انکے ہی چرچے رہتے تھے


 ....حرام ہے جو کسی کو کبھی انکار کرنا سیکھا ہو

جو ملتا بس انہیں کا گرویدہ ہوجاتا. بسا اوقات تو لوگوں کو شک بھی گزرتا کہ ڈاکٹر صاحب کی عادات میں شائد بناوٹ کا عنصر کچھ زیادہ ہی ہے مگر  پھر انکی کم عمری  اور معصومیت دیکھ کر انہیں نظر انداز کر دیتے






ہائے افسوس! کہ ایسے اچھے دن اور ایسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں

ایسے ہی اک دن کا واقعہ ہے کہ جب اباجان بھی خلاف توقع گھر پر ہی تھے کہ اچانک سے انکے دوست بلا بتلائے انکے گھر آگئے. عموماّ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ اباجان گھر پر ہوں کیونکہ کاروبار کے سلسلہ میں ان کا زیادہ تر وقت سفر ہی میں گزرتا تھا. لیکن اس روز جب مہمان آئے تو وہ گھر پر ہی تھے

مہمان کے ساتھ محفل اپنے عروج پر تھی. کھانے کی میز طرح طرح کے لوازمات سے آراستہ تھی اور مہمان صاحب میزبان سے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اتنے میں ڈاکٹر پالش صاحب اپنے چھوٹے چھوٹے جوتے سے لکڑی کے فرش پر ٹھک ٹھک کرتے گھر میں داخل ہوئے اور جونہی انکی نظرکھانے کی میز پر بیٹھے لوگوں پر پڑی تو رخ تبدیل کرکے اپنے کمرے کی طرف بھاگ دیئے


اباجان کو کچھ اچنبھہ سا ہوا، والدہ کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر مالی کو کام جلد ختم کرنے کا اشارہ کر رہی تھیں. دل میں خیال آیا کہ بیٹے کو سمجھانے کا یہ نادر موقع ہے کیوں نے بیٹے کو بتلایا جائے کہ جب مہمان موجود ہوں تو انہیں کیا کرنا چاہیے. ملازم شرفو جو چائے کہ برتن باورچی خانہ میں لے جارہا تھا. اسے اشارہ کرکے اپنے پاس طلب کیا. 

سبحان الله، یہ ہیں خاندانی لوگ اور انکی رواداری. چاہتے تو خود بیٹے کو پکار سکتے تھے مگر شائستگی اور نرم خوئی تو گویا خاندان کے ہر فرد کا وصف اول ٹھہری. شرفو سے کہا کہ میاں ذرا پالش صاحب کو تو یہاں لے کر  آئیے

ملازم نے جیسے ہی پالش صاحب کو پیغام پہنچایا، پالش صاحب کھانے کی میز آگئے.  حالانکہ ابھی جوتے اتارنا  مگر، وہی تربیت، اور ایسی تربیت کہ والد گرامی کا حکم ملتے ہی اک لمحہ بھی گنوانا مناسب نہ سمجھا اور بھاگے چلے آئے

والد گرامی نے بیٹے کو اپنے پاس بلا کربڑے لاڈ سے اپنے پاس  بٹھا کر کہا "بیٹا ہم سے کوئی ناراضگی ہے کیا؟

 پالش صاحب نے سر ہلا کر انکار کردیا

تو پھر یہ کیا حرکت ہے؟ اباجان نے دوبارہ پوچھا. گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں اور آپ نے انکو اور اپنے ابا کو سلام تک نہیں کیا


ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر اپنی اماں کی طرف دیکھا، پھر ابا کے بازو میں بیٹھے انکے دوست کی طرف دیکھا جو بلا وجہ مسکرا رہے تھے. شرم سے آنکھیں جھک گئیں. اپنے جوتوں کے تسموں کو بےترتیب دیکھ کر انہیں ٹھیک کرنے کا خیال آیا 


ابھی ایک تسمہ ہی کو ٹھیک سے گرہ لگا سکے تھے کہ ابا کی آواز دوبارہ سنائی دی، "بیٹا، میں نے پوچھا ہے کہ تم نے اپنے ابا کو سلام کیوں نہیں کیا"

اور بیٹا دیکھو منصور انکل بھی تو یہاں بیٹھے ہیں، بھلا وہ تمہارے بارے میں کیا سوچیں گے کہ ہم نے تمہیں تمیز نہیں سکھلائی



ڈاکٹر صاحب نے سوچا کہ دوبارہ مہمان کی طرف دیکھوں کہ وہ ابھی بھی انہیں دیکھ کر مسکرا تو نہیں رہے. لیکن قربان جائیں انکو ملنے والی تربیت پر کہ باوجود خواہش انہیں پلکیں اٹھانے کی ہمت نہ ہوسکی


بمشکل ترچھی نظر سے اماں کے دوپٹے کو دیکھا جس نے انکے  پاؤں کو بھی چھپا رکھا تھا. دوپٹہ کو تھاما اور انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تو اماں نے دوپٹہ واپس کھینچ لیا. فرمانبردار پالش صاحب قریباً رونے والے ہوگئے اور پہلے مہمان کی طرف دیکھا اور پھر ابا جان کی طرف دیکھ کر گلوگیر آواز میں عرض کی، "میں تو سلام کرنا چاہتا ہوں مگر اماں نے کہہ رکھا ہے کہ خبردار اگر آپ کے سامنے کبھی ابا کو سلام کیا. اگر ایسا کیا تو آپ ہم سے ناراض ہوجائیںگے. یہ کہہ کر اٹھے اور دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئے. پیچھے اماں کے ہاتھ میں موجود پلیٹ گرکر ٹوٹنے کی آواز بھی آئی مگر ایسے معاملات میں بھاگنے میں مشہور پالش صاحب کہاں رکنے والے تھے

یوں تو بچپن کا شائد ہی کوئی ایسا لمحہ ہوگا جب پالش صاحب نے لوگوں کو اپنے اخلاق اور کردار سے متاثر نہ کیا. ایسا ہی اک اور واقعہ یاد آگیا جب پالش صاحب میٹرک کے امتحان سے نئے نئے فارغ ہوئے تھے اور گھر کے باہر کسی دوست کا بےصبری سے انتظار کر رہے تھے.


کافی وقت ہوچکا تھا اور مغرب کا وقت بھی ہوا چاہتا تھا اور اماں نے کہہ رکھا تھا کہ مغرب کے وقت گھر واپس آجانا. اسی پریشانی میں گم تھے کہ ایک اجنبی پالش صاحب کے پاس آیا اور بڑی شائشتہ اور پختہ سی اردو میں ان سے مسجد کا پتہ پوچھا

پالش صاحب نے اس انجانے شخص کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور انکے قیمتی لباس اور جوتوں سے بہت متاثر ہوگئے. دیکھنے میں کوئی نہایت ہی مناسب صاحب معلوم ہورہے تھے اور باوجود اسکے کہ اماں نے اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے بھی روک رکھا تھا، مگر پالش صاحب اپنے آپ کو ان صاحب سے بات کرنے سے نہ روک پائے

پہلے تو ہاتھ کے اشارے سے انہیں مسجد کی طرف جانے والی گلی کا بتلایا مگر پھر وہی والدین کی تربیت نے سر اٹھایا اور بجائے رستہ سمجھانے کے پالش صاحب نے ان صاحب کو اپنے ساتھ آنے کو کہا

مسجد تک پہنچنے میں صرف چند ہی منٹس لگے ہونگے اور وہاں پہنچتے ہی اس اجنبی نے انتہائی خلوص کے ساتھ ہمارے ننھے منے پالش صاحب کا شکریہ ادا کیا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ انعام بھی دینا چاہا مگر پالش صاحب نے جلدی سے انہیں منع کیا اور انکا ہاتھ پکڑ کر مسجد کے مرکزی دروازے کی طرف لے گئے. وہاں پہنچتے ہی ان صاحب نے جوتے اتارے اور انکا دوبارہ شکریہ ادا کرکے مسجد کے صحن کی طرف چل دیئے. واپس مر کر دیکھا تو پالش صاحب ابھی تک دروازہ پر موجود تھے. چند لمحوں بعد جب وہ صاحب مسجد کے ہال میں داخل ہوگئے تو پالش صاحب نے اس نیک کام پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور ان صاحب کے نئے جوتے اٹھا کر گھر کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے.
 

لیکن یہاں بھی والدین کی تربیت نے انکے اٹھتے قدم روک لئے. مسجد کی طرف دیکھا اور پھر سوچا کہ وہ مسافر بغیر جوتوں کے گھر کیسے واپس جائے گا. اک آہ سی انکے لبوں سے نکلی اور واپس مسجد کی طرف چل دیئے. رستہ میں بار بار جوتوں کی طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی طرف بھی دیکھتے اور ہر دفعہ انکا دل بھر آتا کہ جیسے اپنی کسی عزیز ترین چیز کی قربانی دینے کیلیے جارہے ہوں.

کچھ ہی لمحوں میں  مسجد واپس پہنچ گئے اور اپنی پرانی ٹوٹی ہوئی چپل ان صاحب کلیے وہاں اتار کر دوبارہ گھر کی طرف چل دیئے. لیکن اس دفعہ بھاگے اس لیئے نہیں کیونکہ اب انکا دل مطمئن ہوچکا تھا 








Thursday, 24 December 2015

نبی رحمت ﷺ - مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام



  نبی رحمت 
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

اللهم صلي على محمد و على آل محمد
كما صليت على إبراهيم و على ألإبراهيم ا نك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد و على آل محمد
كما بار كت على إبراهيم و على أل إبراهيم ا نك حميد مجيد

کائنات کا اک اصول ہے کہ جو لوگ جتنی اونچی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں انہیں اتنی ہی مشقت اور زحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تاریخ میں شاید ہی محمد صل الله علیہ وسلم بن عبدللہ کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت ہو جس نے اتنی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی ہوں

آج میلاد النبی ﷺ کا جشن نہ صرف فرش والے منا رہے ہیں بلکہ عرش والوں میں بھی حضور ﷺ کی آمد کے چرچے ہو رہے ہونگے. ملائکہ قطار در قطار گنبد خضری کے مکیں کو سلام کرنے کے لئے عرش سے فرش پر آرہے ہونگے. 

چھوٹا تھا جب سے لوگوں کو حضور ﷺ کی مدح سرائی کرتے ہوئے آپ ﷺ کی کرامات اور معجزوں کا کرتے ہوئے دیکھا. وہ حضور ﷺ کی جود و سخا کے قصے سناتے، غزوات میں انکے معجزات کا ذکر کرتے،  انصاف و شجاعت کی بات کرتے مگر کبھی میں نے کسی کو آمنہ کے لعل کے ان مصائب کا ذکر کرتے نا سنا جنکا سامنا حضور ﷺ نے اپنے بچپن میں کیا.

 -معزرت
مگر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ان علماء حضرات نے آپ ﷺ کی ذات اقدس کو عام انسان کی فہم و فراست سے کچھ دور کر دیا ہے. حضور ﷺ گو اس وقت بھی نبی تھے جب صرف الله کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا اور تب بھی نبی ہونگے جب یہ کائنات بھی نہ ہوگی مگر اسکے باوجود حضور ﷺ نے اپنی نبوت کے ظہور سے پہلے جو زندگی گزاری یہ بہت ضروری ہے کہ اسے عام لوگوں کے ساتھ شئیر کیا جائے تاکہ لوگوں کو اپنے دنیاوی معاملات درست کرنے کی ترغیب مل سکے

قریش کے قبیلے ہاشم کے سربراہ حضرت عبدالمطلب  نے نرینہ اولاد کیلئے منت مانی کہ اگر الله نے انہیں دس بیٹے دیئے تو وہ اپنے دسویں بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردینگے. الله نے انکی دعا قبول کی اور انہیں دس بیٹے عطا کئے. انکے آخری فرزند کا اسم گرامی عبداللہ تھا جو باقی بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ خوبرو اور حسین تھے. جب منت پوری کرنے کا وقت آیا تو حضرت عبدالمطلب مدینہ کے اک صاحب علم کے پاس تشریف لے گئے اور عرض کی کہ کیا وہ بیٹے کی قربانی کی جگہ کسی اور چیز کی قربانی دے سکتے ہیں. اس عارف نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور کہا کہ اگر اونٹوں کی قربانی دی جائے تو غالب امکان ہے کہ الله تعالی انکی قربانی قبول فرمالے گا. اونٹوں کی تعداد 10 سے شروع ہوئی اور آخر 100 اونٹوں پر جاکر اللہ تعالی نے انکی قربانی کی درخواست قبول کرلی. 100 اونٹوں کی یہ وہی تعداد ہے جو بعد میں ابن عبدالله محمد رسول الله ﷺ  نے کسی بے گناہ کو غلطی سے قتل کرنے پر دیت کیلئے مقرر فرمائی تھی

حضور پرنور صل الله علیہ وسلم نے مکہ کے ریگزاروں میں آنکھ کھولی تو والد کا سایہ رحمت پہلے ہی سر سے آٹھ چکا تھا اور رہتی انسانیت کو ماں سے محبت اور اسکے ادب کا درس دینے والے آقا ﷺ کو والدہ کی رفاقت بھی چند ماہ ہی نصیب ہوئی. پیدائش کے بعد عرب کے رواج کے مطابق 5 سال تک عرب کے صحراؤں میں اپنی رضائی والدہ حلیمہ دائی کے ساتھ رہے-

واپس اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی الله تعالی عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انکے ساتھ یثرب (مدینہ منورہ) چلے گئے جہاں والدہ کے ساتھ اپنے والد حضرت عبدللہ رضی اللہ تعالی عنہہ کی قبر پر حاضری دی- واپسی کے سفر میں حضرت آمنہ  رضی الله تعالی عنہا کو مرض الموت نے آگھیرا اور عرب کے عام رواج کے مطابق قبیلے کی دیگر خواتین آپ ﷺ کی والدہ کے گرد دائرۂ بنا کر بیٹھ گئیں اور باتیں شروع کردیں تاکہ موت کا خوف کچھ کم ہوجائے. حضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا کی نظر اپنے لخت جگر کے روشن چہرے پر ٹکی تھی اور آپ نے کچھ اشعار کہے

 ہر اک کو فنا ہونا ہے
ہر نئی چیز کو پرانا ہونا ہے
ہر کثرت والی اور عظمت والی چیز کو مٹ جانا ہے
اور یقینا مجھے بھی اک روز مرجانا ہے
مگر لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے
کیونکہ میں لوگوں میں اپنا بیٹا مہربان مستقبل کے طور پر چھوڑے جا رہی ہوں

کچھ دیر بعد آقا علیہ سلام نے دیکھا کہ انکی والدہ اب انکی باتوں کا جواب نہیں دے رہیں تو آپ ﷺ  نے اپنا سر اقدس والدہ کے سینے پر رکھا اور ماں ماں کہہ کر بلانے لگے. لیکن ان کی روح تو قفس عصری سے پرواز کر چکی تھی. انہیں غسل دیا گیا اور کچھ دیر بعد آپ کو مدینہ سے 190 میل دور ابوہ نامی قبرستان میں بغیر تابوت کے دفنا دیا گیا. عزیز و اقارب جب تدفین کے بعد لوٹنے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ آمنہ کا لعل اپنی والدہ کی قبر سے لپٹا اپنی اماں کو پکار رہا تھا اور کہہ رہا ہے کہ ماں تو گھر کیوں نہیں چلتی کیا تو نہیں جانتی کہ تیرے سوا میرا دنیا میں اور کوئی نہیں ہے. روایات میں حضور ﷺ کی عمر اس وقت 6 سال بتائی جاتی ہے اور اس کمسنی میں والدہ کے بچھڑنے کا اس قدر غم ہوا کہ کھانا پینا ترک کر دیا اور بہت کمزور ہوگئے. جس پر حضور ﷺ کے رشتہ داروں نے آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کے ایک سو آٹھ سالہ دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچا دیا.

ڈارون کا کہنا تھا کہ حیوانات کی دنیا میں وہی زندہ رہتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں جن میں اپنے ماحول اور گرد وپیش کے تقاضے پورا کرنے کی اہلیت موجود ہو. کمزور، بزدل، ناتواں اور بےعقل حیوان جلد ہی نابودی اور نیستی کے گرداب میں پھنس کر فنا ہوجاتے ہیں.

جزیرہ عرب کے سہمناک صحراؤں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی وہاں صرف وہ لوگ ہی زندہ بچتے تھے جو نہ صرف جسمانی توانائی بلکہ روحانی لحاظ سے بھی زندہ رہنے کے مستحق ہوتے تھے. عرب کے ان صحراؤں میں گو پھول نہ اگتے تھے مگر یہاں کے کانٹے بھی اپنی خوشبو کیلئے مشہور تھے.

دادا کی معاشی حالت کچھ ایسی اچھی نہ تھی اور آقا ﷺ اپنی دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے عرب کے انہی ضروریات پوری کرنے صحراؤں میں گلہ چرانے کا کام کرنے لگے. اس دور میں گندم کی ایک روٹی 4 دینار میں بکا کرتی تھی اور عام لوگ روٹی کھانے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے اور آپ ﷺ  بھی انہی لوگوں کی طرح دودھ  کھجوریں اور صحرا میں موجود دیگر نباتات سے سے اپنا پیٹ بھر لیا کرتے. کائنات کے یہ وہ واحد یتیم تھے جںکے لئے الله تعالی نے کائنات کو ایسے مسخر فرما دیا تھا کہ آپ  ﷺ  اپنی والدہ کی گود میں بیٹھے چاند سے کھیلا کرتے تھے اور مکہ کے لوگوں نے وہ وقت بھی دیکھا کہ وہ نبی رحمت ﷺ  جنکے قدمیں شریفین کو چومنے کو پوری کائنات ترستی ہے وہ دو جہانوں کے والی ہوکر بھی ان صحراؤں کی تپتی ریت اور پتھروں پر برہنہ پا چلا کرتے تھے. یہ ان حالات کا اک انتہائی مختصر ذکر ہے جو آقا علیہ سلام نے اپنے بچپن میں دیکھے

حضور ﷺ کا زیادہ تر وقت صحرا میں جانوروں کی دیکھ بھال کرتے گزرتا اور اور عرب کے صحرا کی وسعت اور خاموشی نے بچپن ہی میں آپ ﷺ  کو غور فکر کرنے عادت ڈال دی.

یہاں مجھے اپنے استاتذہ اور علماء کرام سے یہ گلہ رہے گا کہ ہم تک دین کا صحیح فہم پہنچانے میں یا تو بہت حد تک  مبالغہ آرائی کی گئی اور یا پھر حد درجہ کنجوسی سے کام لیا گیا.

 مجھے اس جسارت کی اجازت دیجئے کہ ہم نبی رحمت کے امتی اپنے نبی کی اصل سیرت پاک سے بہت حد تک لاعلم ہیں. کیا کبھی کسی نے سنا کہ حضور ﷺ جب پہلی دفعہ مدینہ منورہ والدہ کے ساتھ تشریف لے گئے تو انہیں وہاں کے تالابوں میں تیراکی کرنا بہت پسند آیا تھا. یا مکہ کے سخنوروں کی صحبت اور انکے اشعار حضور ﷺ   کو بہت پسند آیا کرتے تھے. یا کسی عالم صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں یہ بتلایا ہو کہ جب حضرت خدیجہ رضی الله تعالی عنہا حضور ﷺ  سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں تو اس وقت انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی تھی

یہ الله کی حکمت ہے کہ کبھی یوسف جیسے پیغمبر کو مصر کے بازاروں کی جنس بنا دیتا ہے اور کبھی انہیں سالوں مصر کی جیل میں قید کروا دیتا ہے. عطا کرنے آئے تو کبھی نبوت بانٹ دیتا ہے اور امتحان لینے پر آئے تو حضرت ایوب علیہ سلام جیسے برگزیدہ نبی کو بھی اولاد کے ہاتھوں اس قدر ازیت پہنچتی ہے کہ رو رو کر بینائی ختم ہو جائے.

آج پاکستان کے گلی کوچوں میں حضور ﷺ کے جشن میلاد کے نام پر جس ناچ گانا اور جن دیگر لغویات کا مظاہرہ کیا جائے گا میں پاکستان کے تمام علماء حضرات کو اسکا ذمہ دار سمجھتا ہوں جو اسے دیکھتے ہوئے بھی مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں-

حضور ﷺ کی آمد کا جشن منانا ہے تو یتیموں کی کفالت کا اعلان کرو، درود و سلام کی محفلیں منعقد کرو اور محافل کے شرکاء کو یہ بتلاؤ کہ ہم کس عظیم ہستی کے امتی ہیں اور ہم ان کے متعلق کس قدر کم جانتے ہیں

میری دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر سیرت النبی کا روایت سے ہٹ کر مطالعہ کرنا ہو توکونسٹن ورجیل جورجیو، جو یونان کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں کی کتاب "محمد - ایسے پیغمبر جنہیں مزید جاننے کی ضرورت ہے" کا مطالعہ لازمی کریں. اس یورپین محقق نے یہ کتاب 20 سال عرب میں رہ کر لکھی ہے. اسکا ترجمہ سیارہ ڈائجسٹ والوں نے اپریل 2000 میں شائع کیا تھا. اگر کسی صاحب کو اسکی کاپی چاہیئے ہو تو وہ مجھ سے مزید معلومات کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ