ڈاکٹر پالش کی کسی بھی دوسرے ڈاکٹر کے ساتھ کسی بھی طرح کی مماثلث محض اتفاق ہوگی اور ادارے کو اسکا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے
کبھی خود بھی ذرا سوچئے؟
ڈاکٹر پالش ابھی چھوٹے سے تھے. عمر ہوگی یہی کوئی دس سال کے لگ بھگ، معصوم اور بھولا بھالا سا چہرہ، جو اک نظر دیکھتا سبحان الله کہنے پر مجبور ہو جاتا اور شرمیلے ایسے کہ جونہی احساس ہوتا کہ کوئی انکی طرف متوجہ ہے تو کان کی لوئیں سرخ ہوجاتیں
گھر بھر کے لاڈلے، جب اپنی توتلی سے زبان میں باتیں کرتے تو لوگ بہت
ہنستے تھے مگر کسے معلوم تھا کہ ننھے منے پالش کی لوگوں کو ہنسانے کی یہ عادت اس
قدر پختہ ہوجائے گی کہ ایک دن وہی اسکا ذریعہ معاش بن جائیگا
اس نئی نسل کے بگڑے بچے دیکھ کر یہی گلہ رہتا ہے کہ ماؤں نے اپنے
بچوں کو وہ تربیت ہی دینا چھوڑ دی جو ڈاکٹر پالش صاحب کو نصیب ہوئی. آج کل کے بچے
بھلا کیا جانیں کہ بزرگوں کا ادب کیسے کرتے ہیں.
اور اوپر سے پالش صاحب کی ملنساری اور خوش مزاجی کے تو کیا ہی کہنے. محلہ بھر میں انکے ہی چرچے رہتے تھے
....حرام ہے جو کسی کو کبھی انکار کرنا سیکھا ہو
جو ملتا بس انہیں کا گرویدہ ہوجاتا. بسا اوقات تو لوگوں کو شک بھی
گزرتا کہ ڈاکٹر صاحب کی عادات میں شائد بناوٹ کا عنصر کچھ زیادہ ہی ہے مگر پھر انکی کم عمری اور معصومیت دیکھ کر انہیں نظر انداز کر دیتے
ہائے افسوس! کہ ایسے اچھے دن اور ایسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں
ایسے ہی اک دن کا واقعہ ہے کہ جب اباجان بھی خلاف توقع گھر پر ہی تھے کہ اچانک سے انکے دوست بلا بتلائے انکے گھر آگئے. عموماّ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ اباجان گھر پر ہوں کیونکہ کاروبار کے سلسلہ
میں ان کا زیادہ تر وقت سفر ہی میں گزرتا تھا. لیکن اس روز جب مہمان آئے تو وہ گھر
پر ہی تھے
مہمان کے ساتھ محفل اپنے عروج پر تھی. کھانے کی میز طرح طرح کے
لوازمات سے آراستہ تھی اور مہمان صاحب میزبان سے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اتنے
میں ڈاکٹر پالش صاحب اپنے چھوٹے چھوٹے جوتے سے لکڑی کے فرش پر ٹھک ٹھک کرتے گھر
میں داخل ہوئے اور جونہی انکی نظرکھانے کی میز پر بیٹھے لوگوں پر پڑی تو رخ تبدیل
کرکے اپنے کمرے کی طرف بھاگ دیئے
اباجان
کو کچھ اچنبھہ سا ہوا، والدہ کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر مالی کو کام جلد ختم
کرنے کا اشارہ کر رہی تھیں. دل میں خیال آیا کہ بیٹے کو سمجھانے کا یہ نادر موقع
ہے کیوں نے بیٹے کو بتلایا جائے کہ جب مہمان موجود ہوں تو انہیں کیا کرنا چاہیے. ملازم شرفو جو چائے کہ برتن
باورچی خانہ میں لے جارہا تھا. اسے اشارہ کرکے اپنے پاس طلب کیا.
سبحان الله، یہ ہیں خاندانی لوگ اور انکی
رواداری. چاہتے تو خود بیٹے کو پکار سکتے تھے مگر شائستگی اور نرم خوئی تو گویا
خاندان کے ہر فرد کا وصف اول ٹھہری. شرفو سے کہا کہ میاں ذرا پالش صاحب کو تو یہاں
لے کر آئیے
ملازم نے جیسے ہی پالش صاحب کو پیغام پہنچایا، پالش صاحب کھانے
کی میز آگئے. حالانکہ ابھی جوتے اتارنا مگر، وہی تربیت، اور ایسی تربیت
کہ والد گرامی کا حکم ملتے ہی اک لمحہ بھی گنوانا مناسب نہ سمجھا اور بھاگے چلے
آئے
والد گرامی نے بیٹے کو اپنے پاس بلا کربڑے لاڈ سے اپنے پاس
بٹھا کر کہا "بیٹا ہم سے کوئی ناراضگی ہے کیا؟
پالش صاحب نے سر ہلا کر
انکار کردیا
تو
پھر یہ کیا حرکت ہے؟ اباجان نے دوبارہ پوچھا. گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں اور آپ
نے انکو اور اپنے ابا کو سلام تک نہیں کیا
ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر اپنی اماں کی طرف دیکھا، پھر ابا کے بازو میں
بیٹھے انکے دوست کی طرف دیکھا جو بلا وجہ مسکرا رہے تھے. شرم سے آنکھیں جھک گئیں.
اپنے جوتوں کے تسموں کو بےترتیب دیکھ کر انہیں ٹھیک کرنے کا خیال آیا
ابھی ایک تسمہ ہی کو ٹھیک سے گرہ لگا سکے تھے کہ ابا کی آواز دوبارہ
سنائی دی، "بیٹا، میں نے پوچھا ہے کہ تم نے اپنے ابا کو سلام کیوں نہیں
کیا"
اور بیٹا دیکھو منصور انکل بھی تو یہاں بیٹھے ہیں، بھلا وہ تمہارے بارے میں کیا سوچیں گے کہ ہم نے تمہیں تمیز نہیں سکھلائی
اور بیٹا دیکھو منصور انکل بھی تو یہاں بیٹھے ہیں، بھلا وہ تمہارے بارے میں کیا سوچیں گے کہ ہم نے تمہیں تمیز نہیں سکھلائی
ڈاکٹر صاحب نے سوچا کہ دوبارہ مہمان کی طرف دیکھوں کہ وہ ابھی بھی
انہیں دیکھ کر مسکرا تو نہیں رہے. لیکن قربان جائیں انکو ملنے والی تربیت پر کہ
باوجود خواہش انہیں پلکیں اٹھانے کی ہمت نہ ہوسکی
بمشکل ترچھی نظر سے اماں کے دوپٹے کو دیکھا جس نے انکے پاؤں کو
بھی چھپا رکھا تھا. دوپٹہ کو تھاما اور انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تو
اماں نے دوپٹہ واپس کھینچ لیا. فرمانبردار پالش صاحب قریباً رونے والے ہوگئے اور
پہلے مہمان کی طرف دیکھا اور پھر ابا جان کی طرف دیکھ کر گلوگیر آواز میں عرض کی،
"میں تو سلام کرنا چاہتا ہوں مگر اماں نے کہہ رکھا ہے کہ خبردار اگر آپ کے
سامنے کبھی ابا کو سلام کیا. اگر ایسا کیا تو آپ ہم سے ناراض ہوجائیںگے. یہ کہہ کر
اٹھے اور دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئے. پیچھے اماں کے ہاتھ میں موجود پلیٹ
گرکر ٹوٹنے کی آواز بھی آئی مگر ایسے معاملات میں بھاگنے میں مشہور پالش صاحب کہاں
رکنے والے تھے
کافی وقت ہوچکا تھا اور مغرب کا وقت بھی ہوا چاہتا تھا اور اماں نے
کہہ رکھا تھا کہ مغرب کے وقت گھر واپس آجانا. اسی پریشانی میں گم تھے کہ ایک اجنبی
پالش صاحب کے پاس آیا اور بڑی شائشتہ اور پختہ سی اردو میں ان سے مسجد کا پتہ پوچھا
پالش صاحب نے اس انجانے شخص کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور انکے قیمتی
لباس اور جوتوں سے بہت متاثر ہوگئے. دیکھنے میں کوئی نہایت ہی مناسب صاحب معلوم ہورہے
تھے اور باوجود اسکے کہ اماں نے اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے بھی روک رکھا تھا، مگر پالش صاحب اپنے آپ کو ان صاحب سے بات کرنے سے نہ روک پائے
پہلے تو ہاتھ کے اشارے سے انہیں مسجد کی طرف جانے والی گلی کا بتلایا
مگر پھر وہی والدین کی تربیت نے سر اٹھایا اور بجائے رستہ سمجھانے کے پالش صاحب نے
ان صاحب کو اپنے ساتھ آنے کو کہا
مسجد تک پہنچنے میں صرف چند ہی منٹس لگے ہونگے اور وہاں پہنچتے ہی اس
اجنبی نے انتہائی خلوص کے ساتھ ہمارے ننھے منے پالش صاحب کا شکریہ ادا کیا اور جیب
میں ہاتھ ڈال کر کچھ انعام بھی دینا چاہا مگر پالش صاحب نے جلدی سے انہیں منع کیا
اور انکا ہاتھ پکڑ کر مسجد کے مرکزی دروازے کی طرف لے گئے. وہاں پہنچتے ہی ان صاحب
نے جوتے اتارے اور انکا دوبارہ شکریہ ادا کرکے مسجد کے صحن کی طرف چل دیئے. واپس
مر کر دیکھا تو پالش صاحب ابھی تک دروازہ پر موجود تھے. چند لمحوں بعد جب وہ صاحب
مسجد کے ہال میں داخل ہوگئے تو پالش صاحب نے اس نیک کام پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر
ادا کیا اور ان صاحب کے نئے جوتے اٹھا کر گھر کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے.
لیکن یہاں بھی والدین کی تربیت نے انکے اٹھتے قدم روک لئے. مسجد کی
طرف دیکھا اور پھر سوچا کہ وہ مسافر بغیر جوتوں کے گھر کیسے واپس جائے گا. اک آہ سی انکے لبوں سے نکلی اور واپس مسجد کی طرف چل دیئے. رستہ میں بار بار جوتوں کی طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی طرف بھی دیکھتے اور ہر دفعہ انکا دل بھر آتا کہ جیسے اپنی کسی عزیز ترین چیز کی قربانی دینے کیلیے جارہے ہوں.
کچھ ہی لمحوں میں مسجد واپس پہنچ گئے اور اپنی پرانی ٹوٹی ہوئی چپل ان صاحب کلیے وہاں اتار کر دوبارہ گھر کی طرف چل دیئے. لیکن اس دفعہ بھاگے اس لیئے نہیں کیونکہ اب انکا دل مطمئن ہوچکا تھا
کچھ ہی لمحوں میں مسجد واپس پہنچ گئے اور اپنی پرانی ٹوٹی ہوئی چپل ان صاحب کلیے وہاں اتار کر دوبارہ گھر کی طرف چل دیئے. لیکن اس دفعہ بھاگے اس لیئے نہیں کیونکہ اب انکا دل مطمئن ہوچکا تھا
