اللهم صلي على محمد و على آل محمد
كما صليت على إبراهيم و على ألإبراهيم ا نك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد و على آل محمد
كما بار كت على إبراهيم و على أل إبراهيم ا نك حميد مجيد
کائنات کا اک اصول ہے کہ جو لوگ جتنی اونچی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں انہیں اتنی ہی مشقت اور زحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تاریخ میں شاید ہی محمد صل الله علیہ وسلم بن عبدللہ کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت ہو جس نے اتنی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی ہوں
آج میلاد النبی ﷺ کا جشن نہ صرف فرش والے
منا رہے ہیں بلکہ عرش والوں میں بھی حضور ﷺ کی آمد کے چرچے ہو رہے ہونگے. ملائکہ
قطار در قطار گنبد خضری کے مکیں کو سلام کرنے کے لئے عرش سے فرش پر آرہے ہونگے.
چھوٹا تھا جب سے لوگوں کو حضور ﷺ کی مدح
سرائی کرتے ہوئے آپ ﷺ کی کرامات اور معجزوں کا کرتے ہوئے دیکھا. وہ حضور ﷺ کی جود و سخا کے قصے سناتے، غزوات میں انکے معجزات کا ذکر کرتے، انصاف
و شجاعت کی بات کرتے مگر کبھی میں نے کسی کو آمنہ کے لعل کے ان مصائب کا ذکر
کرتے نا سنا جنکا سامنا حضور ﷺ نے اپنے بچپن میں کیا.
-معزرت
مگر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ان علماء حضرات نے آپ ﷺ کی ذات اقدس کو عام انسان کی فہم و فراست سے کچھ دور کر دیا ہے.
حضور ﷺ گو اس وقت بھی نبی تھے جب صرف الله کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا اور تب بھی
نبی ہونگے جب یہ کائنات بھی نہ ہوگی مگر اسکے باوجود حضور ﷺ نے اپنی نبوت کے ظہور
سے پہلے جو زندگی گزاری یہ بہت ضروری ہے کہ اسے عام لوگوں کے ساتھ شئیر کیا جائے
تاکہ لوگوں کو اپنے دنیاوی معاملات درست کرنے کی ترغیب مل سکے
قریش کے قبیلے ہاشم کے سربراہ حضرت عبدالمطلب
نے نرینہ اولاد کیلئے منت مانی کہ اگر الله نے انہیں دس بیٹے دیئے تو وہ
اپنے دسویں بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردینگے. الله نے انکی دعا قبول کی اور
انہیں دس بیٹے عطا کئے. انکے آخری فرزند کا اسم گرامی عبداللہ تھا جو باقی بھائیوں
کے مقابلے میں زیادہ خوبرو اور حسین تھے. جب منت پوری کرنے کا وقت آیا تو حضرت
عبدالمطلب مدینہ کے اک صاحب علم کے پاس تشریف لے گئے اور عرض کی کہ کیا وہ بیٹے کی
قربانی کی جگہ کسی اور چیز کی قربانی دے سکتے ہیں. اس عارف نے آسمان کی طرف نگاہ
کی اور کہا کہ اگر اونٹوں کی قربانی دی جائے تو غالب امکان ہے کہ الله تعالی انکی
قربانی قبول فرمالے گا. اونٹوں کی تعداد 10 سے شروع ہوئی اور آخر 100 اونٹوں پر
جاکر اللہ تعالی نے انکی قربانی کی درخواست قبول کرلی. 100 اونٹوں کی یہ وہی تعداد
ہے جو بعد میں ابن عبدالله محمد رسول الله ﷺ نے کسی بے گناہ کو
غلطی سے قتل کرنے پر دیت کیلئے مقرر فرمائی تھی
حضور پرنور صل الله علیہ وسلم نے مکہ کے
ریگزاروں میں آنکھ کھولی تو والد کا سایہ رحمت پہلے ہی سر سے آٹھ چکا تھا اور رہتی
انسانیت کو ماں سے محبت اور اسکے ادب کا درس دینے والے آقا ﷺ کو والدہ کی رفاقت
بھی چند ماہ ہی نصیب ہوئی. پیدائش کے بعد عرب کے رواج کے مطابق 5 سال تک عرب کے صحراؤں میں اپنی رضائی والدہ حلیمہ دائی کے ساتھ رہے-
ہر
اک کو فنا ہونا ہے
ہر نئی چیز کو پرانا ہونا ہے
ہر کثرت والی اور عظمت والی چیز کو مٹ جانا ہے
اور یقینا مجھے بھی اک روز مرجانا ہے
مگر لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے
کیونکہ میں لوگوں میں اپنا بیٹا مہربان مستقبل
کے طور پر چھوڑے جا رہی ہوں
کچھ دیر بعد آقا علیہ سلام نے دیکھا کہ انکی
والدہ اب انکی باتوں کا جواب نہیں دے رہیں تو آپ ﷺ نے اپنا سر
اقدس والدہ کے سینے پر رکھا اور ماں ماں کہہ کر بلانے لگے. لیکن ان کی روح تو قفس عصری
سے پرواز کر چکی تھی. انہیں غسل دیا گیا اور کچھ دیر بعد آپ کو مدینہ سے 190 میل
دور ابوہ نامی قبرستان میں بغیر تابوت کے دفنا دیا گیا. عزیز و اقارب جب
تدفین کے بعد لوٹنے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ آمنہ کا لعل اپنی والدہ کی قبر سے
لپٹا اپنی اماں کو پکار رہا تھا اور کہہ رہا ہے کہ ماں تو گھر کیوں نہیں چلتی کیا
تو نہیں جانتی کہ تیرے سوا میرا دنیا میں اور کوئی نہیں ہے. روایات میں حضور ﷺ
کی عمر اس وقت 6 سال بتائی جاتی ہے اور اس کمسنی میں والدہ کے بچھڑنے کا اس
قدر غم ہوا کہ کھانا پینا ترک کر دیا اور بہت کمزور ہوگئے. جس پر حضور ﷺ کے رشتہ
داروں نے آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کے ایک سو آٹھ سالہ دادا حضرت عبدالمطلب
کے پاس پہنچا دیا.
ڈارون کا کہنا تھا کہ حیوانات کی دنیا میں وہی
زندہ رہتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں جن میں اپنے ماحول اور گرد وپیش کے تقاضے پورا
کرنے کی اہلیت موجود ہو. کمزور، بزدل، ناتواں اور بےعقل حیوان جلد ہی نابودی اور
نیستی کے گرداب میں پھنس کر فنا ہوجاتے ہیں.
جزیرہ عرب کے سہمناک صحراؤں میں بھی کچھ ایسی
ہی صورتحال تھی وہاں صرف وہ لوگ ہی زندہ بچتے تھے جو نہ صرف جسمانی توانائی بلکہ
روحانی لحاظ سے بھی زندہ رہنے کے مستحق ہوتے تھے. عرب کے ان صحراؤں میں گو پھول نہ
اگتے تھے مگر یہاں کے کانٹے بھی اپنی خوشبو کیلئے مشہور تھے.
دادا کی معاشی حالت کچھ ایسی اچھی نہ تھی اور
آقا ﷺ اپنی دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے عرب کے انہی ضروریات پوری کرنے صحراؤں میں گلہ
چرانے کا کام کرنے لگے. اس دور میں گندم کی ایک روٹی 4 دینار میں بکا کرتی تھی اور
عام لوگ روٹی کھانے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے اور آپ ﷺ بھی انہی لوگوں کی
طرح دودھ کھجوریں اور صحرا میں موجود دیگر نباتات سے سے اپنا پیٹ بھر لیا
کرتے. کائنات کے یہ وہ واحد یتیم تھے جںکے لئے الله تعالی نے کائنات کو ایسے مسخر
فرما دیا تھا کہ آپ ﷺ اپنی والدہ کی گود میں بیٹھے چاند سے کھیلا کرتے
تھے اور مکہ کے لوگوں نے وہ وقت بھی دیکھا کہ وہ نبی رحمت ﷺ جنکے قدمیں شریفین کو چومنے کو پوری کائنات ترستی ہے وہ دو جہانوں کے والی
ہوکر بھی ان صحراؤں کی تپتی ریت اور پتھروں پر برہنہ پا چلا کرتے تھے. یہ ان حالات کا اک انتہائی مختصر ذکر ہے جو آقا علیہ سلام نے اپنے بچپن میں دیکھے
حضور ﷺ کا زیادہ تر وقت صحرا میں جانوروں
کی دیکھ بھال کرتے گزرتا اور اور عرب کے صحرا کی وسعت اور خاموشی نے بچپن ہی میں
آپ ﷺ کو غور فکر کرنے عادت ڈال دی.
یہاں مجھے اپنے استاتذہ اور علماء کرام سے یہ گلہ
رہے گا کہ ہم تک دین کا صحیح فہم پہنچانے میں یا تو بہت حد تک مبالغہ آرائی کی گئی اور یا پھر حد درجہ کنجوسی سے کام لیا گیا.
مجھے اس جسارت کی اجازت دیجئے کہ ہم نبی رحمت کے امتی اپنے نبی کی اصل سیرت پاک سے بہت حد تک لاعلم ہیں. کیا کبھی کسی نے سنا کہ حضور ﷺ جب پہلی دفعہ مدینہ منورہ والدہ کے ساتھ تشریف لے گئے تو انہیں وہاں کے تالابوں میں تیراکی کرنا بہت پسند آیا تھا. یا مکہ کے سخنوروں کی صحبت اور انکے اشعار حضور ﷺ کو بہت پسند آیا کرتے تھے. یا کسی عالم صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں یہ بتلایا ہو کہ جب حضرت خدیجہ رضی الله تعالی عنہا حضور ﷺ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں تو اس وقت انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی تھی
مجھے اس جسارت کی اجازت دیجئے کہ ہم نبی رحمت کے امتی اپنے نبی کی اصل سیرت پاک سے بہت حد تک لاعلم ہیں. کیا کبھی کسی نے سنا کہ حضور ﷺ جب پہلی دفعہ مدینہ منورہ والدہ کے ساتھ تشریف لے گئے تو انہیں وہاں کے تالابوں میں تیراکی کرنا بہت پسند آیا تھا. یا مکہ کے سخنوروں کی صحبت اور انکے اشعار حضور ﷺ کو بہت پسند آیا کرتے تھے. یا کسی عالم صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں یہ بتلایا ہو کہ جب حضرت خدیجہ رضی الله تعالی عنہا حضور ﷺ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں تو اس وقت انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی تھی
یہ الله کی حکمت ہے کہ کبھی یوسف جیسے پیغمبر
کو مصر کے بازاروں کی جنس بنا دیتا ہے اور کبھی انہیں سالوں مصر کی جیل میں قید کروا دیتا
ہے. عطا کرنے آئے تو کبھی نبوت بانٹ دیتا ہے اور امتحان لینے پر آئے تو حضرت
ایوب علیہ سلام جیسے برگزیدہ نبی کو بھی اولاد کے ہاتھوں اس قدر ازیت پہنچتی ہے کہ
رو رو کر بینائی ختم ہو جائے.
آج پاکستان کے گلی کوچوں میں حضور ﷺ کے جشن میلاد کے نام پر جس ناچ گانا اور جن دیگر لغویات کا مظاہرہ کیا جائے گا میں پاکستان کے تمام علماء حضرات کو اسکا ذمہ دار سمجھتا ہوں جو اسے دیکھتے ہوئے بھی مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں-
میری دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر سیرت النبی کا
روایت سے ہٹ کر مطالعہ کرنا ہو توکونسٹن ورجیل جورجیو، جو یونان کے وزیر خارجہ بھی
رہ چکے ہیں کی کتاب "محمد - ایسے پیغمبر جنہیں مزید جاننے کی ضرورت ہے"
کا مطالعہ لازمی کریں. اس یورپین محقق نے یہ کتاب 20 سال عرب میں رہ کر لکھی ہے. اسکا ترجمہ سیارہ ڈائجسٹ والوں نے اپریل 2000 میں شائع کیا
تھا. اگر کسی صاحب کو اسکی کاپی چاہیئے ہو تو وہ مجھ سے مزید معلومات کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ