Wednesday, 13 December 2017

اے ابن آدم تو تو کم ظرف نکلا

اے ابن آدم 
تو تو کم ظرف نکلا

تو بھول گیا
تو اسکا ہر کرم بھول گیا
تو اپنے رب کا ہر کرم بھول گیا

تجھے یاد نہ رہا
تیرے رب نے تیرے لئے کیا کیا نہ کیا

تو پانی کا اک قطرہ تھا
تو مشت بھر مٹی تھا

تیرے رب نے کرم کیا
تجھے انسان کی مورت بنایا
تجھ میں روح پھونکی
تجھے آدم بنایا
تجھے ابن آدم بنایا

کیا تو دیکھتا نہیں
پانی میں تیرنے والی
زمین پر بھاگنے والی
ہواؤں میں اڑنے والی
کیا یہ سب اسکی مخلوق نہیں

کیا رب قادر نہ تھا
کہ تجھے بھی چوپایہ بنادیتا

وہ چاہتا تو تجھے چیونٹی بنا دیتا
وہ چاہتا تو تجھے ہاتھی بنا دیتا

مگر اے ابن آدم

اس نے تجھ پر کرم کیا
اس نے تجھے انسان بنایا

اور تو نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ
کیا اس نے تجھ پر یہ کرم
کسی سے پوچھ کر کیا

اس نے وہی کیا جو وہ چاہتا تھا
اس سے پوچھنے والا کون تھا

وہ قہار ہے
وہ مختار ہے
وہ جابر ہے
وہ قادر ہے


اس نے تجھ پر کرم کیا

تو نے چلنا چاہا
اس نے تجھے چلنا سکھایا

تو نے بولنا چاہا
اس نے تجھے کلام سکھایا

تجھے رزق کی ضرورت تھی
اس نے پوری دنیا کو تیرا
دسترخوان بنایا

تو بے لباس تھا
تجھے لباس پہنایا 

تو نے اڑنا چاہا
اس نے تجھے اڑنا سکھایا

تو نے تیرنا چاہا
اس نے تجھے تیرنا سکھایا

مگر اے ابن آدم

تو تو ناشکرا نکلا
تو بھول گیا

 کہ گر وہ چاہتا تو تجھے
پتھروں کا پجاری بنا دیتا
گر وہ چاہتا تو تجھے اپنی مخلوق
کیعبادت کرنے والا بنا دیتا

کیا تو دیکھتا نہیں
کہ انسان آگ کو پوجتے ہیں
سانپ کو پوجتے ہیں
پتھروں کو پوجتے ہیں
ہزاروں سال نسل در نسل
کفر پر جیتے ہیں

مگر تجھ پر اس نے کرم کیا
تجھے امت محمدی کیلئے چن لیا
تجھے اپنا کلمہ سکھایا
تجھے اپنا دین سکھایا
تجھے اپنا بنایا
تجھے محمدی بنایا

تیرا رب اتنا رحیم
تیرا رب اتنا کریم
تیرا رب اتنا شفیق

تو کمزور تھا
اس نے تجھے طاقت بخشی
تیرے نحیف بازوؤں کو دم بخشا
تیرے سینے کو وسعت بخشی
تیرے ڈگمگاتے قدموں کو
استقامت بخشی

تو جاہل تھا
تجھے علم بخشا
اپنی کائنات میں تجھے
اشرف المخلوقات کا شرف بخشا

مگر اے ابن آدم
تو تو ناشکرا نکلا
تو اسکا ہر کرم بھول گیا

تو بھول گیا
کہ تو تو پانی کا اک قطرہ تھا
تو تو مشت بھر مٹی کا ڈھیر تھا

تجھے دین کا علم سکھایا
کہ تو رب تک جانے
کا راستہ ڈھونڈھے
اسکی مخلوق کو اس سے ملانے
کا بہانہ ڈھونڈھے

اور آج تو اتنا طاقتور ہوگیا
آج تو اپنے رب کا احسان بھول بیٹھا
تو جنت اور جہنم کا مالک بن بیٹھا

اللہ نے تو اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا
مگر تو تو انکا حاکم بن بیٹھا
تو تو انکا رب ہی بن بیٹھا

Thursday, 19 October 2017

اگالدان



اصل کھیل، اصل کھلاڑی اور تاریخ کا اگالدان 

نوازشریف سے پوچھا جا رہا تھا کہ اس کے بچوں نے لندن کے فلیٹ کیسے لئے. اسکے بچے بتانے کو اور حساب کتاب دینے کو تیار تھے. مگر مکمل کیس کو ایسے چلایا گیا کہ مقدمہ کے اختتام پر نوازشریف کرپٹ ثابت ہو یا نہ ہو اسکا ووٹ بینک ضرور خراب ہو جائے

یہاں ججوں کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ نواز شریف پر کوئی الزام بھی ثابت نہ ہوسکا مگر اسے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کہنے والے ججوں اور انکے سہولت کاروں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ موجود نہ تھا اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کیلئے بیٹے سے نہ لی جانے والی تنخواہ کو بنیاد بناتے ہوئے میاں صاحب کو نااہل قرار دیکر انہیں جس قدر سیاسی نقصان پہنچا سکتے تھے اسکی انہوں نے مقدور بھر کوشش کی

یہاں ان ججوں سے یہ غلطی ہوگئی کہ وہ بھول گئے کہ پاکستانی عوام کا سیاسی شعور بہت بلند ہوچکا ہے اور انہتائی غیرموافق حالات کے باوجود انہوں نے میاں صاحب کی پنڈی سے لاہور ریلی اور حلقہ این اے 120 میں اپنے ووٹ کے ذریعہ اسکا برملا اظہار بھی کیا

اب آئیے عمران خان کی طرف
تھو تھو تھو

معذرت دوستو
 عمران خان کا تصور آتے ہی اس پر تھوکنے کو دل کرتا ہے

عمران خان پر اپنے اثاثے چھپانے کا مقدمہ ہے. اگر تیسری دفعہ وزیراعظم بننے والا میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے باوجود نہ لی جانے والی دس ہزار درہم تنخواہ پر نااہل ہو سکتا ہے تو عمران خان کے جرم کی نوعیت تو بہت سنگین تھی

 اس نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ ٹیکس چوری کرنے کیلئے اپنا اربوں روپے مالیت کا بنی گالہ محل بیوی کا تحفہ ظاہر کیا اور اپنی باقی تمام جائیداد اس باپ کی وراثت ظاہر کی جو اپنی تنخواہ سے انہیں خریدنے کی سکت نہ رکھتا تھا

عمران خان کے مقدمہ میں اسکی نااہلی تو نوشتہ دیوار تھی مگر بھوٹانی ججوں کا کمال دیکھیں کہ انہوں نے پارٹی فنڈز میں گھپلہ، ہسپتال کی زکات وخیرات میں کرپشن، کرکٹ میچز پر جوا اور سٹہ بازی اور امیر عورتوں سے پیسے کیلئے شادی کرنے جیسے گناہوں میں لتھڑے عمران خان کی ڈرائی کلیننگ شروع کردی

وہ بجائے اس پہلو پر غور کرتے کہ عمران خان نے کہیں ہسپتال کے فنڈز سے تو اپنے اثاثے نہیں بنائے، یا اس نے پارٹی کے فنڈز اپنی ذات پر تو خرچ نہیں کیے، بھوٹان کے ان جج حضرات نے پوری بھوٹانی قوم کو عمران خان اور اسکی سابقہ بیوی جمائمہ کے درمیان ہونے والے لین دین کے پیچھے لگا دیا ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ عمران خان کے وہ ووٹرز اور سپورٹرز جو پیدائشی طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں وہ مایوس ہوکر جرومِ یروشلم سے ایسے سوال پوچھنا نہ شروع کردیں جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے

مثلاّ اگر اسکے سپورٹرز عمران خان سے یہ پوچھیں کہ جناب آپ ہمیں خود داری کا سبق دیتے ہیں، لیکن آپ اپنی بیٹی اور بیٹوں کو خود پالنے کی بجائے انہیں اپنے سابقہ یہودی سسرال کے اس مال پر کیوں پال رہے ہیں جو آپ کیلئے حرام ہے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جاسکے کہ جناب آپ کے بچے اس یہودی خاندان میں کیوں پرورش پارہے ہیں جہاں شراب اور لحم خنزیر کا استعمال حلال ہے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ کیا کوئی مسلمان پاکستانی اتنا بغیرت ہوسکتا ہے کہ اسکے سگے بیٹے اور بیٹی اسکی سابقہ غیر مسلم بیوی کے گھر یہودی مال پر پرورش پائیں اور وہ اس پر فخر محسوس کرے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ کیا اسے طلاق کے بعد بھی اپنی بیوی سے پیسے مانگتے شرم نہیں آتی اور کیا اسے یہ سوچ کر اپنے وجود سے گھِن نہیں آتی کہ اسکے بچے یہودیوں کے صدقات اور خیرات پر پل رہے ہیں؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ آپ کے بچے کعبہ کی طرف منہ کرکے پانچ نمازیں پڑھتے ہیں کہ یروسشلم کی طرف منہ کرکے تین نمازیں پڑھتے ہیں اور یا پھر وہ ہر اتوار چرچ کی گھنٹیاں بجا کر ہی روحانیت کے مدارج طے کر رہے ہیں

جناب یہی سوالات ہیں جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے معزز عدلیہ کے ججوں نے عمران خان کو بدکردار، جواری اور دھوکہ باز کہنے کی بجائے اسکے تمام گناہوں کو میاں بیوی کے درمیان معاملات کا رنگ دے دیا ہے

یارو – یہ عمران خان کی ذاتی زندگی ہے اور ہمیں شائد یہ سوال نہیں پوچھنے چاہیئیں لیکن اگر اسے پاکستان کا وزیراعظم بننے کا شوق ہے تو اسے کبھی نہ کبھی ان سوالوں کا جواب لازمی دینا ہوگا

کاش کوئی شخص سپریم کورٹ کی اگلی پیشی میں اک آئنہ اپنے ساتھ لے جائے اور ججوں سے کہے جناب پہلے آپ نوازشریف کا چہرہ آلودہ کرنا چاہ رہے تھے اور اب  آپ عمران خان کے چہرے سے غلاظت صاف کرنا چاہ رہے ہیں لیکن اس آئنہ میں اپنا چہرہ دیکھیں کہ اصل میں آپ نے اپنے ہی چہرے کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ آنے والی نسلیں جب پاکستان کی تاریخ پڑھیں گی تو وہ آپکے نام اور منہ پر اتنا تھوکیں گے کہ آپ کا چہرہ تاریخ میں اگالدان  (spittoon) کی حیثیت اختار کر جائے گا

Friday, 29 September 2017

ہم سب کے حسین












محرم کا وہ دن آ پہنچا
وہ شام، وہ رات اور
وہ لمحات آپہنچے

آج ہی کے دن پیارے آقا صل الله علیہ وسلم کے اہل بیت میدان کربلا میں تین دن کی بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد اللہ کریم کی مقدس بارگاہ میں اپنی پاک جانوں کا نذرانہ لئے پیش ہوئے ہونگے

ان اہل بیت میں
بچے بھی تھے
جوان بھی تھے
بوڑھے بھی تھے

آج سب کا خیال آتا ہے اور دل بھر آتا ہے

مگر جب چھ ماہ کے ننھے شہزادے علی اصغر کا خیال آتا ہے تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں

دوستو
ہم اس دور میں موجود نہ تھے
جن لوگوں نے وہ وقت دیکھا ہوگا
وہ آج ہم میں موجود نہیں

کاش کوئی بتا سکتا
کہ جب دریائے فرات کے کنارے آل نبی  کے جلتے خیموں کی تمازت پھیلی اور انکی راکھ ہوا کے دوش اڑتی پھر رہی ہوگی تو سبز گنبد کے مکین کے نواسے کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی

کاش کوئی بتا سکتا
کہ جوان سال علی اکبر کی والدہ نے جب اپنے جگر کے ٹکرے کو مقتل کی جانب رخصت کیا تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی


دوستو
غور کریں تو آج اس کائنات میں سورج اور چاند کے سوا اور کوئی نہیں جو سانحہ کربلا کا عینی شاہد ہو

تو آؤ
اک لمحہ کیلئے
آسمان پر روشن چاند اور سورج سے پوچھتے ہیں
کہ آج چودہ صدیاں گزر گئیں

تم نے تو کربلا کے مقتل میں وہ دن اور وہ راتیں حسین کے ساتھ گزاری تھیں

تم آج چودہ سو سال بعد بھی ہر روز کربلا کے ان ریگزاروں کو سلام کرکے آتے ہو
یہ تو بتاؤ کہ تب تم نے ایسا کیا دیکھا تھا
جو اس پہلے اور اسکے بعد کبھی نہ دیکھا ہو

اے چاند تجھ سے شروع کرتے ہیں
تو بتا
تجھے ان راتوں کی قسم
جب آمنہ کے لعل  اپنے پنگھوڑے میں لیٹے تجھ سے کھیلا کرتے تھے

ہمیں بتا کہ کربلا کے میدان میں تو نے کیا دیکھا تھا

یارو
گر سن سکتے
تو گنبد خضری اور مزار حسین پر ہر روز حاضری دینے والے چاند کی زبان سے اس کا گریہ سن لیتے

وہ ہمیں بتاتا کہ
اس روز میں جب کربلا کے میدان میں اترا
تو وہ رات ہی کا کوئی پہر تھا
اور مجھے رخ مصطفی کی قسم
میں نے وہاں بھی رخ مصطفی ہی دیکھا
میں جس حسین کو کونین کے مالک کے کندھوں پرسوار دیکھا کرتا تھا، اس دن میں نے انہیں کربلا میں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے دیکھا

یہ کہہ کر اگر چاند خاموش ہوجائے تو یہ مت سمجھنا کہ اس کے پاس بتانے کو کچھ نہیں بلکہ یہ سمجھ جانا کہ اسکا حوصلہ جواب دے گیا ہے

یہی سوال گر سورج سے بھی پوچھیں کہ اس نے بھی وہ منظر اپنی بوڑھی مگر جہاندیدہ آنکھوں سے دیکھا ہوگا
کیا اسے آج یہ یاد ہے کہ
اس نے کربلا کے میدان میں کیا دیکھا

یارو
گر سورج کو قوت گویائی مل جائے
 تو وہ بتائے گا کہ

میں نے آدم کا زمین پر اترنا دیکھا
میں نے ابراہیم کا آگ میں کودنا دیکھا
میں نے نوح کا طوفان بھی دیکھا
میں نے موسی کو کوہ طور پراللہ سے ہم کلام بھی دیکھا
میں نے عیسی کو صلیب پر چڑھتے دیکھا
میں نے اک نگاہ محمد سے قبلہ بھی بدلتا دیکھا

میں نے یہ سب دیکھا
اور پھر وہ دن بھی آ پہنچا
جب میں نے وہ دیکھا
جو اس سے پہلےمیں نے نہ دیکھا تھا 

میں نے دیکھا 
کہ جس نبی رحمت نے اپنی امت سے روز محشر انکو حوض کوثر سے پانی پلانے کا وعدہ کر رکھا ہے اسی نبی کی اسی امت نے اسکے بچوں کا تین دن سے پانی بند کر رکھا تھا

ان تین دنوں میں
میں نے بہت کچھ دیکھا
ہر چیز یاد ہے
مگر وہ لمحہ نہیں بھولتا جب میں نے حسین کو بازوؤں میں اپنے چھ ماہ کے لخت جگر کو اٹھائے میدان کربلا میں آتے دیکھا

میں نے دیکھا
کہ حسین نے یزید کے لشکر سے چھ ماہ کے بچے کیلئے پانی مانگا اور جواب میں تیروں کی بوچھاڑ ہوئی اور اک تیر ننھے شہزادے کے پیاس سے سوکھے حلق کے آر پار ہوگیا


میں حیرت میں آگیا
اور صدیوں میں اسی حیرت کا شکار رہا کہ
حسین نے یزیدی لشکر سے پانی کیوں مانگا


مالک حوض کوثر  کا نواسہ اگر یزیدی لشکر کی بجائے الله سے پانی مانگتا تو مجھے عصائے موسی کی قسم دریائے فرات کا پانی خود چل کر آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتا

میں نے بہت سوچا
اور پھر صدیوں بعد سمجھ آئی کہ
مقصد پانی یا پیاس کا بجھانا نہ تھا
مقصد اپنی سب سے قیمتی شئے کو الله کی بارگاہ میں قربان کرنا تھا

گر حسین اس روز اپنے شہزادے کو اپنے بازوؤں میں تھامے خیمے سے باہر میدان جنگ میں نہ لاتے تو ہو سکتا تھا کہ
جنگ ختم ہوجاتی
اور لشکر یزید ننھے علی اصغر کو دودھ پیتا بچہ سمجھ کر انہیں شہادت سے محروم کر دیتا



یارو
میرا دل کہتا ہے کہ
ہمیں شعور نہیں
ہم سمجھ نہیں سکتے
ہمیں سن نہیں سکتے

ورنہ ہمیں آج کائنات کا ہر اک زرہ حسین حسین کہتا ہوا سنائی دیتا. میری اس بات سے کسی کو گر کسی خاص فقہہ کی بو آتی ہو تو مہربانی فرما کر درگرز فرمادیں
لیکن یہ سچ ہے
کہ حسین ہم سب کے ہیں
حسین ہمارے لئے کربلا کے میدان میں شہید ہوئے
گر وہ شہید نہ ہوتے
اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان دین پر قربان نہ کرتے تو شاید خود تو بچ جاتے مگر انکے نانا کا دین شہید ہوجاتا