Thursday, 19 March 2015

بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ دوئم



بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ دوئم 


گاڑیوں کی آواز کچھ دور تک آتی رہی اور پھر ماحول میں مکمل خاموشی چھاگئی. احتجاج کرنے کیلئے آنے والے بھی رات بسر کرنے کیلئے مناسب جگہ کیلئے ادھر ادھر دیکھنے لگے. نوجوان لڑکے محل کے سامنے ٹولی بنا کر ایسے بیٹھ گئے کہ بادشاہ سلامت کی خوابگاہ کی کھڑکی انکی نظروں کے سامنے ہی تھی

کچھ ہی دیر بعد وہاں ڈی چوک دھرنے کے دوران ہٹ ہونے والے فحش گانے موبائل پر بجنے لگے. کچھ نوجوان تاش کی محفل سجا کر بیٹھ گئے

کافی دیر تک یہ سب چلتا رہا لیکن پھرچند نوجوان تھکن محسوس کرنے لگے اور گو انکی اکثریت سونا چاہتی تھی مگر جوئے میں لگی ہوئی انکی رقم ان کو جاگنے پر مجبور کر رہی تھی

ایسے میں سب سے زیادہ رقم ہارنے والے نے اپنی گلوگیر آواز میں باقی ساتھیوں سے کہا کہ کہ ہم یہاں کس کام کیلئے آئے تھے، ہمارا مقصد کتنا عظیم تھا مگر اب ہم کن حرام کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں اور یہ کہتا ہوا اٹھ کر محل کے مرکزی دروازے کے حوالدار سے سگریٹ مانگنے کیلئے چل گیا 

حوالدار نے اسے آتے دیکھا تو اسے وہیں رکنے کا اشارہ کیا. نوجوان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ کیا چاہتا ہے. حوالدار نے ترس کھا کر اسے آنے کو کہا.

 کتنے پیسے ہار چکے ہو اب تک؟ اس نوجوان کے قریب آنے پر حوالدار نے پوچھا

 پیسے تو زیادہ نہیں ہارا مگر سگریٹ ختم ہو چکے ہیں اور یہاں سے مارکیٹ بہت دور ہے اگر اک سگریٹ مل جائے تو کچھ سکوں مل سکے. نوجوان نے بڑی مسکین سی آواز نکلتے ہوئے کہا

 حوالدار نے اسکی بات سنی اور مسکرا کر اپنی ساتھی سے کہا کہ اسے بھی سکون والا سگریٹ ہی چاہیے اور قہقہہ لگا کر ہںسنے لگا

دوسرے حوالدار نے اسے پاس بلایا اور اسے کچھ جلے ہوئے آدھے سگریٹ کے ٹوٹے دیے اور کہا کہ انکے کش لگائے. یہ کیا ہے؟ نوجوان نے جلدی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا. گھبراؤ نہیں، پہلے والے حوالدار اسے تسلی دیتے ہوئے کہا. یہ بادشاہ سلامت کے اس سگریٹ کے بچے ہوے ٹکڑے ہیں جو جہاں پناہ اپنی ریاست کی زبوں حالی اور اپنی بےبسی کی وجہ سے اورمیاں صاحب کی تصویر دیکھ دیکھ کر صبح شام  پیتے رہتے ہیں. محل میں جابجا اس سگریٹ کے ادھ جلے ٹکڑے  ادھرادھر بکھرے رہتے ہیں جو ملازم آپس میں بانٹ لیتے ہیں یہ سنکر نوجوان کی دلچسپی بڑھ گئی اور اسنے وہ سگریٹ کے ٹکڑے اٹھا لئے اور شکریہ ادا کرتا ہوا واپس چلا گیا

بادشاہ سلامت کو خبر ملی کہ ہجوم نے محل کے سامنے ہی رات بھر دھرنہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو کچھ بےچینی سی محسوس کرنے لگے. ہاتھ میں تھامے تولیہ ایک سائیڈ پر رکھ کر سوچنے لگے کہ موقع اچھا ہے جاکر اک تقریر کر آؤں. پتہ نہیں پھر اتنے لوگ اکٹھے دھرنہ کیلئے ملیں یا نہ ملیں. اسی سوچ میں گم تھے کہ ملکہ عالیہ بنی گالہ کے شاہی گرم حمام سے باہر تشریف لے آئیں. اور کمرے میں آتے ہی بادشاہ سلامت کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے تو خود بھی پریشان ہو گئیں اور عرض کی بادشاہ سلامت کیا خیر تو ہے کیا لندن سے کوئی بری خبر تو نہیں آگئی. بادشاہ سلامت نے ملکہ عالیہ کے چہرے پر پھیلی ہوئی معصومیت کو دیکھا اور سمجھ نہ پائے کہ وہ پریشانی کا سبب جاننا چاہتی ہیں یا جگتیں لگانے کے موڈ میں ہیں.

اسی سوچ بچار میں بادشاہ سلامت نے اپنا سر نیچے کیا تو اپنے جوتے کی چمک نے انہیں متوجہ کر لیا جس پر کچھ دیر پہلے ہی تازہ تازہ پالش ہوئی تھی. دل بھر آیا اور سوچنے لگے کہ میرا حال بھی کچھ اس بدقسمت جوتے جیسا ہی ہے. میک اپ نہ کرواؤ تو شیشہ دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا. سر اٹھایا اور ملکہ عالیہ سے بڑی رقت کے ساتھ گویا ہوئے. ملکہ عالیہ محل سے باہر میری رعایا کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں سوچتا ہوں کہ ان سے خطاب کرلوں لیکن رات کے اس پہر میڈیا بھی نہیں ہوگا اور آج فیشل بھی نہیں کروایا اور پھر بغیر میک اپ کے عوام سے ملنے چلا گیا تو شائد وہ پہچان بھی نہ پائیں.


ملکہ عالیہ نے جہاں پناہ کے چہرے پر پھیلی میڈیا کے سامنے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرنے کی خواہش کو رقصاں دیکھا تو انکا بھی دل بھر سا آیا اور بولیں جہاں پناہ، اس میں ایسی کیا مشکل بات ہے. میں آپ کے ساتھ چلی جاتی ہوں، لوگ نہ آپ کی طرف دیکھیں گے اور نہ ہی انکو آپ کے چہرے کی سلوٹوں کے بےترتیب ہونے کا احساس ہوگا. اور میڈیا کا کیا ہے، میں ابھی ان کو فون کرکے بلائے دیتی ہوں

نہیں ملکہ عالیہ، بادشاہ سلامت نے ایک دم سے ہاتھ اٹھا کر انہیں منع کرتے ہوئے کہا. آپ رہنے دیجیے

 لوگ آپ کے سامنے تو کچھ نہیں کہتے مگر بعد میں میرا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں. بعض بدقماش تو یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے شادی ہی دوبارہ دھرنے کی رونق بڑھانے کیلئے کی ہے. مرا خیال ہے ان لوگوں سے صبح بات کرلی جائیگی. رات ہی کی تو بات ہے. یہ کہکر بادشاہ سلامت نے سونے کی نیت سے تکیہ سے ٹیک لگالی اور دھرنے کے دنوں کو یاد کرکے دل بہلانے لگے

کچھ دیر بعد محل میں مکمل خاموشی چھا گئی. لیکن فضا میں کچھ دیر بعد دھرنا بند نوجوانوں کے قہقہوں کی آواز گونجتی اور ملکہ عالیہ کروٹ بدل کر دوبارہ سو جاتیں. اچانک شور کی آواز زیادہ ہو گئی اور ملکہ عالیہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئیں. کھڑکی کی طرف گئیں اور محل کے باہر موجود لوگوں کو دیکھ کر ٹھٹھک گئیں. پھر بھاگتی ہوئی واپس آئیں اور سوئے ہوئے بادشاہ سلامت کو ہاتھ بڑھا کراٹھانے کی کوشش کی . بادشاہ سلامت ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے. موبائل تلاش کر کے پہلے ٹائم دیکھا اور پھر ملکہ عالیہ کی طرح دیکھا اور پریشانی میں کھڑکی کی طرف اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے. کھڑکی کھولی اوراس سے پہلے کے چھلانگ لگا سکتے ملکہ عالیہ کی چیخ نے انکے قدم روک لئے. پلٹ کر دیکھا تو ملکہ عالیہ انہیں ہاتھ کے اشارے سے واپس آنے کو کہہ رہی تھیں

اوہ تو کیا اعجاز واپس نہیں آیا. بادشاہ سلامت نے اطمینان کا سانس لیتے سوچا. واپس بیڈ کی طرف پلٹے تو دیوار پر لگی ہوئی اپنی اور ملکہ عالیہ کی حالیہ شادی کی تصویر دیکھی تو یکدم یاد آیا کہ وہ تو اپنے گھر میں اپنی بیگم کے ساتھ محو استراحت تھے. اک شرمندگی کے عالم میں واپس بستر پر لیٹ گئے.  پھر آہستہ سے ملکہ عالیہ کے سوالیہ چہرے پر اک نظر ڈالی اور بولے کہ ایسے ہی دیکھنا چاہتا تھا کے میرے ٹائیگرز اس شدید سردی میں واپس تو نہیں چلے گئے اور ایسی تو کوئی بات نہیں جو تم سوچ رہی ہو.... ہاں لیکن یہ تو بتلاؤ کہ تم مجھے کیوں اٹھا رہی تھیں؟بادشاہ سلامت کو اچانک سے یاد آ گیا

بادشاہ سلامت جان کی امان چاہتی ہوں مگر کنیز کو مجبوری کے تحت آپ کو بےآرام کرنا پڑا. کافی دیر سے سونے کی کوشش کر رہی تھی مگر باہر سے گانے اور شور شرابے کی آوازیں آرہی تھیں. واہیات سے گانے بھی گائے جارہے تھے لیکن اچانک باہر دھرنے میں بیٹھے کچھ اوباش نوجوانوں نے تو تمام حدود ہی پار کرلیں اور گانا شروع کردیا کہ "دھرنہ تاں سجدا جے نچے ملکہ عالیہ". پہلے تو میں نے اسے نظر انداز کر دیا مگر مجھے لگا شائد وہ اصل میں مجھے باہر نہ بلانا چاہ رہے ہوں. میں نے کھڑکی تھوڑی سی کھول کر دیکھا تو باقی سب کچھ تو ٹھیک تھا مگر پریشانی اس بات پر ہوئی کہ ان نوجوانوں کا یہ واہیات  مطالبہ سن کر دھرنے میں موجود کچھ لڑکیوں نے اٹھ کر ناچنا بھی شروع کر دیا تھا. میں کچھ وہم کا شکار ہوگئی تھی اور جاننا چاہتی تھی کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیا آپ ان لڑکیوں کو بھی پہلے سے ہی جانتے ہیں.

ملکہ عالیہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہ ہوا کریں. اسکا مطلب تو ان ہی لوگوں سے پوچھا جانا چاہئے – اور میں تو ان میں کسی کو جانتا بھی نہیں. بچے ہیں ایسے ہی رات گزارنے کیلئے ناچ گانا چل رہا ہے. تم سو جاؤ. بادشاہ سلامت یہ فرما کر کمبل اپنے منہہ پر لیکر سونے کی کوشش کرنے لگے. ملکہ عالیہ بھی لیٹ گئیں. کچھ ہی پل گزرے تھے کہ بادشاہ سلامت اٹھے اور ایک کمبل اتار کر پھینک دیا. اور ملکہ عالیہ سے گویا ہوئے. مجھے اپنے آپ سے شرم آرہی ہے. میرے ووٹرز اور چاہنے والے باہر شدید سردی میں کھلے میدان میں بیٹھے ہیں اور میں یہاں دو دو کمبل لیکر سو رہا ہوں. خدا کیلئے ان میں سے ایک کمبل اتار کر لے جاؤ. میں صرف ایک ہی کمبل میں سوؤں گا 

اور کچھ ہی دیر میں شاہی خوابگاہ سے دوبارہ خراٹوں کی آوازیں گونجنے لگیں

---

بنی گالہ کا محل - حصہ سوئم



بنی گالہ کا محل - حصہ چہارم


Monday, 16 March 2015

Everything Except Politics: بنی گالہ کا محل اور گرم حمام

Everything Except Politics: 









بنی گالہ کا محل اور گرم حمام: بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ اول بنی  گالہ محل کے باہر لوگوں کا اک جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا.رات کے اس پہر لوگ  بادشاہ حضور کی ...

بنی گالہ کا محل اور گرم حمام








بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ اول


بنی  گالہ محل کے باہر لوگوں کا اک جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا.رات کے اس پہر لوگ  بادشاہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنی فریاد سنانا چاہتے تھے. ایسے میں کچھ بزرگوں کو خیال آیا کہ بادشاہ سلامت آجکل ملکہ عالیہ کی زلفوں کے اسیر ہیں اور شائد اس وقت رات کو باہر آنا انکو ناگوار گزرے. انہوں نے مشورہ کیا اور قبیلے کے دیگر نوجوانوں کو محل کے باہر کھلی  آب و ہوا میں رات گزارنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صبح اٹھ کر ہم بادشاہ سلامت کے ساتھ ہی ناشتہ کریں گے اور اپنے مطالبے بھی انکے سامنے رکھیں گے.


نوجوانوں نے بزرگوں کے چہرے پہ پھیلی سنجیدگی کو دیکھا اور انکا جوش و جذبہ مایوسی میں بدل گیا. تو کیا یہ سچ ہے کہ اس وقت بادشاہ سلامت اپنی رعایا سے نہیں مل سکتے. انہوں نے تو وعدے کیے تھے کہ وہ ہر وقت ہمارے ساتھ رہا کریں گے.

نہیں ایسا نہیں، محل پر کھڑے ایک حوالدار نے اپنی خوفناک آواز میں گرج کر کہا. بادشاہ حضور پہلے مل لیا کرتے تھے لیکن آجکل ملکہ عالیہ نے انکے باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے. وہ ڈرتی ہیں اور نہیں چاہتیں کہ عمر چیمہ کی بدنام زمانہ ایک اور ٹویٹ کہیں سے سامنے آجائے.

تو کیا ہم ساری رات یہاں ہی کھڑے رہیں- ہجوم میں شامل چند نوجوان غصہ سے بولے. ٹھیک ہے اگر بادشاہ سلامت باہر نہیں آئینگے تو ہم یہیں انکے محل کے باہر رات گزاریں گے. لیکن خدا کیلئے ہمیں محل کے وائی فائی کا پاسورڈ تو بتا دیا جائے.

محل کے گرد نواح میں انٹرنیٹ استعمال کرنا منع ہے. ایک اور محل کا حوالدار بولا. لیکن تم چاہو تو اپنے موبائل سرکاری کھمبے سے چارج کر سکتے ہو. جب محل کی بتی کٹی تھی تو باغ کی تمام لائٹس یہیں سے جلائی جاتی تھیں.

نہیں شکریہ . ہمارے پاس Q موبائل ہے جو 30 گھنٹے سے زاید چلتا ہے. نوجوانوں نے جل کر جواب دیا.

ابھی یہ بات جاری تھی کہ اچانک حکومت کی کچھ گاڑیاں وہاں آکر رکیں. تمام لوگوں نے گاڑیوں کو محل کے اندر جانے کا رستہ دے دیا. مگر ایک صاحب سرکاری کار کی پچھلی سیٹ سے اترے اور بزرگوں کے پاس جاکر سلام کیا اور بولے کہ میرا نام اعظم سواتی ہے اور مجھے بادشاہ سلامت نے آپ لوگوں سے مذاکرات کے لئے بلوایا ہے.

لیکن کیوں – ہم تو صبح بادشاہ سلامت سے ملکر جائیں گے تو پھر ان مذاکرات کی کیا ضرورت ہے. احتجاج کیلئے آئے لوگوں میں ایک دم بےچینی پھیل گئی اور وہ اضطراب کے عالم میں اک دوسرے کو ناروا اشارے کرنے لگے. قریب تھا کہ کچھ نوجوان انکے اشاروں کا ترجمہ کرتے اور اعظم سواتی صاحب کو جانے کا بولتے مگر اچانک حکومتی اہلکاروں نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور سواتی صاحب کو بات مکمل کرنے کیلئے کہا.

سواتی صاحب کے کہ چہرے پر کچھ اطمینان نظر آیا اور وہ دوبارہ بزرگوں کی طرف متوجہ ہوئے. دیکھئے بادشاہ سلامت کا خیال ہے کہ رات کے اس پہر اتنے لوگوں کا یہاں موجود ہونا خطرناک ہو سکتا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو شور کی آواز سے انکی بیگم کی نیند میں خلل آئے. اور ویسے بھی یہاں سے انکے بیڈ روم کی کھڑکی صاف دکھائی دیتی ہے.

سواتی صاحب یہ کیا کہہ رہے ہو، ایک حوالدار بھاگا ہوا آیا اور انکو کھینچتا ہوا ایک طرف لے گیا. سر آپ ان لوگوں کو کیسی باتیں بتا رہے ہیں. یہ کھڑکی والی بات بتانے کی کیا ضرورت تھی. اب تو وہ لوگ لازمی یہاں سے واپس نہیں جائیں گے.

اور ویسے بھی بادشاہ سلامت اس وقت گرم حمام کے باہر تولیہ لیے بیگم کا انتظار کر رہے ہونگے. اور انہوں نے سختی سے تمام ملازموں کو حمام کے پاس جانے سے منع کر رکھا ہے.

اوہ واقعی. غلطی ہو گئی. سواتی صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا. یار بادشاہ سلامت کو مت بتانا کہ میں نے یہ بات کی ہے.

ٹھیک ہے نہیں بتاتا. بس اب آپ یہاں سے نکلیں اور بادشاہ سلامت کو کہہ دیں کہ یہ لوگ یہاں سے نہیں جائیں گے. حوالدار نے انکو مشورہ دیتے ہوئے کہا.  بادشاہ حضور صبح جاگنگ کیلئے نکلیں گے تواتنے لوگ دیکھ کر شائد خوش ہوجائیں اور ایک عدد تقریر بھی کردیں.

سواتی صاحب نے شکریہ ادا کیا اور قبیلے کے لوگوں کو ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا اور واپس اپنی کار میں چلے گئے.

ڈرائیور نے کار سٹارٹ کی اور سواتی صاحب سے پوچھا کہ واپس چلنا ہے یہ یہیں بیٹھ کر گپ شپ لگانی ہے. پاگل ہو گئے ہو کیا. میں کیا تمہارے ساتھ گپ شپ لگاؤں گا. سواتی صاحب کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا اور غصہ سے ڈرائیور کو کار چلانے کااشارہ کیا.

سوری جناب.  آپ اکثر بیگم سے بےعزتی کروا کر میرے ساتھ کچھ دیر باتیں کرکے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں. مجھے لگا کہ ابھی بےعزتی کرواکر شائد آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہے ہوں. ڈرائیور سہمے ہوئے لہجہ میں بولا اور تیزی سے کار واپس وزرا کے محلات کی طرف مور لی.