بنی گالہ کا محل - حصہ چہارم
بارش
پورے زوروں پر تھی ایسے میں بادشاہ سلامت اپنے محل کے مغربی حصہ میں واقع سیبوں کے
باغ میں آرام فرما تھے – پچھلے کچھ دنوں سے یہی معمول تھا – رات محل کے چوبدار کے
کوارٹر میں بسر ہوتی اور دن محل کے گرد و نواح میں پھیلے باغات میں – بات کوئی
اتنی سنجیدہ نہ تھی کہ عالم پناہ اپنی ہی ریاست میں بےگھر ہو جاتے مگر ملکہ عالیہ
سے کسی بات پر تکرار جب حد سے بڑھی تو قسم کھا بیٹھے تھے کہ اب لوٹ کر محل واپس
نہیں آئینگے – ملکہ نے لاکھ جتن کیے معافی بھی مانگی اور درخواست بھی کی مگر
بادشاہ سلامت کا یو(U) نیگیٹو
خون خلاف توقع جوش میں تھا اور عمر کے تقاضوں کے برعکس اپنے فیصلہ پر ڈٹے رہے.
سوچا تھا کہ محل کے باہر کھلی اب و ہوا میں کچھ اچھا وقت گزرے گا مگر قدرت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے. موسم کی سختیاں برداشت سے باہر ہوئیں تو محل کے دربانوں سے سازباز کرکے ان میں سے ایک چوبدار کے کمرے میں عارضی ٹھکانہ بنا لیا مگر یہ احتیاط برتی کہ انہیں ملکہ کے ساتھ ہونے والی لڑائی کا پتہ نہیں چلنے دیا بلکہ الٹا ان پر یہ کہہ کر احسان بھی فرما دیا کہ جہاں پناہ عوام کے حالات زندگی جاننے کیلئے انکے درمیان کچھ دن گزارنا چاہتے ہیں
محل
کے اکثر ملازمین بادشاہ سلامت کی اس قربانی سے بہت متاثر ہوئے اور ایک ہی دن میں حوالدار میڈیا نے نیلسن منڈیلا ثانی کی پاکستان میں ظہور کی پیشین گوئیاں شروع کردیں. بادشاہ سلامت نے پہلے تو اپنی سفید رنگت کی وجہ سے انکی مذمت کی
مگر بعد میں کسی نے نیلسن منڈیلا کا تعارف کروایا تو جہاں پناہ نے فوری طور پر یہ
انکشاف فرما دیا کہ انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز نیلسن منڈیلا سے متاثر ہو کر ہی
کیا تھا
اب
ڈھلتے دن کے اس پہر اسی سوچ میں غلطاں تھے کہ اک ضد سی ہے جسکا نبھایا جانا لازم ہے لیکن پھر بھی آس سی تھی کہ واپس جانے کا کوئی نہ کوئی باعزت رستہ نکل ہی
آئے گا.
اچانک موبائل فون کی بجتی گھنٹی نے انہیں چونکا دیا. فون
دیکھا تو سات انچ کی سکرین پر بھی عمران اسماعیل کا منہہ پورا نہیں آرہا تھا. گر
نام نہ لکھا ہوتا تو یہ جاننا مشکل ہوتا کہ کس کا فون تھا. فون کان سے لگایا تو
دوسری طرف عمران اسماعیل کی بجائے عارف علوی کی مخصوص آواز سنائی دی.
اوئے یہ نمبر تو عمران
اسماعیل کا ہے، مگر یہ تو تم ہو علوی. بادشاہ سلامت نے بیزاری سے کہا
جناب
عالی میں گزارش یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ آپ میرا فون اٹھاتے ہی نہیں اسی لئے عمران
اسماعیل صاحب کا فون عارضی طور پر مانگا تھا. عارف علوی نے بڑی لجاحت سے بات شروع
ہی کی تھی کہ بادشاہ سلامت نے جلدی سے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا، اوئے، پہلے بھی
تمہاری کال اٹینڈ کرکے میں نے جو اپنی بےعزتی کروائی تھی کیا اس سے تمہارا دل نہیں
بھرا جو تم دوبارہ مجھے فون کرتے رہتے ہو. تہیں جو بھی کہنا ہو یہاں آکر کہا کرو.
جناب
میں تو آیا تھا مگر مجھے محل کے دروازہ پر ہی بتایا گیا تھا کہ آپ محل میں موجود
نہیں ہیں. علوی صاحب نے قریباً ممیاتے ہوئے جواب دیا.
کیا
مطلب؟ بادشاہ سلامت نے چونکتے ہوئے میں پوچھا. کیا تمہیں یہ نہیں بتایا گیا
کہ میں آج کل محل کے باغات میں ہوتا ہوں؟ ہاں مگر محل کے عملہ کو چند مخصوص
لوگوں علاوہ کسی کو بھی یہ بتانے کی اجازت نہیں
اوہو،
یہ تو بہت غلطی ہو گئی جناب – علوی صاحب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا. میں بھی
کہوں کہ محل کے دروازے پر تعینات حوالدار مجھے باغ کی طرف جانے کو کیوں کہہ رہا
تھا. مگر میں بلا وجہ ہی اسکے اشارے کا غلط مطلب سمجھ کر ڈر کے مارے بھاگ آیا. میں
کل دوبارہ حاضر ہو جاؤنگا. مگر فی الوقت آپ سے ایک اور گزارش بھی کرنی تھی اگر
اجازت ہو تو وہ ابھی عرض کرلوں. علوی صاحب کی آواز میں اس قدر مسکینی تھی کہ
بادشاہ سلامت کو ترس گیا. ہاں بولو کیا کہنا چاہتے ہو.
جہاں پناہ، علوی صاحب نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا. ملکہ عالیہ کیلئے قلفیوں کا آرڈر کرنا تھا اور وہ قلفیوں والا کہہ رہا تھا کہ اگر انکے منہہ کا سائز مل جائے تو قلفی اور اسکا تنکہ بھی ان ہی کے سائز کا بن سکتا ہے.
جہاں پناہ، علوی صاحب نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا. ملکہ عالیہ کیلئے قلفیوں کا آرڈر کرنا تھا اور وہ قلفیوں والا کہہ رہا تھا کہ اگر انکے منہہ کا سائز مل جائے تو قلفی اور اسکا تنکہ بھی ان ہی کے سائز کا بن سکتا ہے.
اوئے
علوی......... بادشاہ سلامت کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا. تم نے یہ قلفیاں کسی درزی
سے بنوانی ہیں. خبردار اگر دوبارہ ایسی بیوقوفوں والی بات کرنے کیلئے مجھے فون
کیا. علوی صاحب نے یہ سنتے ہی فون بند کر کے عمران اسماعیل کو پکڑا دیا جس نے جیب
سے رومال نکالا، فون صاف کر کے رومال پھینک دیا اور موبائل اپنی جیب میں ڈال لیا.
ادھر
بادشاہ سلامت نے بھی اپنا فون بند کیا اور محل کے کھلے دریچوں کی طرف دیکھ کر اس
میں ہر دم میسر دنیا جہان کی آسائشات کو یاد کر کے سوچنے لگے کہ محل میں واپسی کا
کوئی طریقه نکالا جائے. پھر انہیں اپنی قسم اور محل میں نہ آنے کا وعدہ یاد
آیا مگر پھر سوچا کہ اگر وعدے پورے کرتا رہتا تو آج اس بلند مقام تک کیسے پہنچ
پاتا....
اس سے پہلے کہ بادشاہ
سلامت کچھ مزید غور فکر کر پاتے انھیں محل کے بیرونی مرکزی دروازے سے لوگوں کی اونچی اونچی باتیں کرنے کی آوازیں آنے لگیں. غور سے سننے پر معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اس بارش میں بھی بادشاہ سلامت سے ملنے کی ضد کر رہے تھے اور لہجہ بھی کافی تلخ تھا.
قریب تھا کہ بادشاہ سلامت انکی گستاخانہ گفتگو پراپنے شاہی جلال میں آکر کوئی حکم صادر فرما دیتے کہ یکایک انہیں خیال آیا کہ ان سائلوں سے ملنے کے بہانے وہ محل میں واپس جا سکتے ہیں. کچھ دیر سوچا اور پھر پاس کھڑے محافظ کو حکم دیا کہ سائلین کو محل کے دربار عام میں بلایا جائے.
محافظ مرکزی دروازے کے طرف چلا گیا تو خود بھی اٹھے اور محل کے اندرونی مرکزی دروازہ کی طرف چلنا شروع کر دیا. چوبدار نے بادشاہ سلامت کو آتے دیکھا تو بلند آواز سے انکی آمد کا اعلان کیا اور دروازہ کھول کر ایک طرف کھڑا ہوگیا. بادشاہ سلامت کھلے دروازہ سے محل کے دربار عام کی طرف جاتی ایک لمبی سی راہداری میں داخل ہو گئے.
راہداری کے دونوں اطراف دیواروں پر کبھی بادشاہ سلامت کے آباؤ اجداد کی تصویریں لگی ہوا کرتی تھیں مگر اب تو صرف لکڑی کے فریمز ہی رہ گئے تھے، پچھلے کچھ عرصۂ سے بادشاہ سلامت کے نام سے منسوب کچھ ایسے قصے مشہور ہوئے کہ جس جس کی تصویر تھی یا تو وہ خود آکر لے گئے اور یا پھر انکے بچے اتار کر لے گئے اور آئندہ بادشاہ سلامت کو تنبیہہ بھی کرگئے کہ انکے نام کا کسی بھی طرح کا آئندہ استعمال نہ کیا جائے
قریب تھا کہ بادشاہ سلامت انکی گستاخانہ گفتگو پراپنے شاہی جلال میں آکر کوئی حکم صادر فرما دیتے کہ یکایک انہیں خیال آیا کہ ان سائلوں سے ملنے کے بہانے وہ محل میں واپس جا سکتے ہیں. کچھ دیر سوچا اور پھر پاس کھڑے محافظ کو حکم دیا کہ سائلین کو محل کے دربار عام میں بلایا جائے.
محافظ مرکزی دروازے کے طرف چلا گیا تو خود بھی اٹھے اور محل کے اندرونی مرکزی دروازہ کی طرف چلنا شروع کر دیا. چوبدار نے بادشاہ سلامت کو آتے دیکھا تو بلند آواز سے انکی آمد کا اعلان کیا اور دروازہ کھول کر ایک طرف کھڑا ہوگیا. بادشاہ سلامت کھلے دروازہ سے محل کے دربار عام کی طرف جاتی ایک لمبی سی راہداری میں داخل ہو گئے.
راہداری کے دونوں اطراف دیواروں پر کبھی بادشاہ سلامت کے آباؤ اجداد کی تصویریں لگی ہوا کرتی تھیں مگر اب تو صرف لکڑی کے فریمز ہی رہ گئے تھے، پچھلے کچھ عرصۂ سے بادشاہ سلامت کے نام سے منسوب کچھ ایسے قصے مشہور ہوئے کہ جس جس کی تصویر تھی یا تو وہ خود آکر لے گئے اور یا پھر انکے بچے اتار کر لے گئے اور آئندہ بادشاہ سلامت کو تنبیہہ بھی کرگئے کہ انکے نام کا کسی بھی طرح کا آئندہ استعمال نہ کیا جائے
دربار
عام میں داخل ہوئے تو استقبال کیلئے پہلے سے موجود ملکہ عالیہ نے جھک کر سلام کیا
اور عرض کی حضور محل میں آپکی آمد سے اسکی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں. بندی تو وہم
کا شکار تھی کہ کہیں آپ اس دفعہ واقعی سنجیدہ تو نہیں ہو گئے.
ملکہ
عالیہ کے الفاظ سے بادشاہ سلامت کے دل کو تسلی سی تو ہوئی مگر انہوں نے چہرے سے
کچھ ظاہر نہ ہونے دیا اور بولے کہ اس محل کے درودیوار گواہ ہیں کہ ہم نے جب بھی
اپنی زبان پر قائم رہنے کا عہد کیا تو ہمیں اپنی رعایا کی حالت کی وجہ سے اپنے اس عہد کو توڑنا پڑا. بخدا ہمیں اپنے اک اک حرف اور اسکی حرمت کا پاس ہے مگر میری ضد کی وجہ سے میرے ووٹرز پریشان تھے اور انکے مسائل کے حل کیلئے میں اپنی ذات اور آنا کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے
بیشک جہاں پناہ - لوگ اسی لئے تو آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں. ملکہ عالیہ نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے کہا. انہیں علم ہے کہ جہاں پناہ ہر وقت انکے بارے کس قدر فکرمند رہتے ہیں
یہ گفتگو مزید جاری رہتی کہ سائلین دربار میں داخل ہو گئے. بادشاہ سلامت فوراً تخت پر جا کر بیٹھ گئے اور سائلین کے نمائندے کو آگے آکر مدعا بیان کرنے کا اشارہ کیا
بیشک جہاں پناہ - لوگ اسی لئے تو آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں. ملکہ عالیہ نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے کہا. انہیں علم ہے کہ جہاں پناہ ہر وقت انکے بارے کس قدر فکرمند رہتے ہیں
یہ گفتگو مزید جاری رہتی کہ سائلین دربار میں داخل ہو گئے. بادشاہ سلامت فوراً تخت پر جا کر بیٹھ گئے اور سائلین کے نمائندے کو آگے آکر مدعا بیان کرنے کا اشارہ کیا
جہاں
پناہ آپ کا اقبال بلند ہو. آپکے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہو. ایک بوڑھے مگر
جہاندیدہ سائل نے آگے بڑھکر آداب بجا لاتے ہوے عرض کی.
بادشاہ
سلامت – ہم بےگھر ہیں. کھانے کو کچھ نہیں ہے. پینے کو پانی اور پہننے کو لباس میسر
نہیں. بیماری ہے مگر علاج کی سہولتیں میسر نہیں. ہم کام کرنا چاہتے ہیں مگر روزگار بھی نہیں. حالت ایسی ہے کہ ہم خود
کشی کرنا چاہتے ہیں مگر...مگر زہر خریدنے کی سکت بھی نہیں ہے.... غم کی شدت سے سائل کی زبان لڑکھڑانے لگی...
بادشاہ
سلامت کا دل بھی پسیج گیا اور انہوں نے اپنی نم آنکھوں کو پوچھتے ہوئے سائل کو بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا
سائل
کو کچھ حوصلہ ہوا تو اس نے اپنی داستان دوبارہ سنانا شروع کی. وہ بولتا جا رہا تھا
اور سننے والے زارو قطار روتے جا رہے تھے. جب بادشاہ سلامت بھی اپنے جذبات پر مزید قابو نہ
رکھ سکے تو سائلین کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش ہونے کا اشارہ کیا. دربار میں ایک
دم سناٹا سا چھا گیا. کبھی کبھی کسی کے سسکی لینے کی آواز آتی تو بادشاہ سلامت اسے
ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کی تلقین کر دیتے.
کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے اپنی نم آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، "ملکہ عالیہ،
کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے اپنی نم آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، " ملکہ عالیہ، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مری ریاست میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے. کاش مجھے آج کا یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا".
خدا کیلئے وزیر خاص کو کہو کہ وہ محل کے چاروں طرف دیواروں کو اتنا اونچا اتنا اونچا کردے کہ آئندہ کسی کے بھی رونے چیخنے چلانے کی آواز اندر نہ آسکے اور.... بادشاہ سلامت نےروتے ہوئے سائلین کی طرف اشارہ کر کے کہا. ان لوگوں کو دھکے دیکر محل سے باہر نکال دو – ان ظالموں نے تو رلا رلا کر مرا برا حال کر دیا
کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے اپنی نم آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، " ملکہ عالیہ، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مری ریاست میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے. کاش مجھے آج کا یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا".
خدا کیلئے وزیر خاص کو کہو کہ وہ محل کے چاروں طرف دیواروں کو اتنا اونچا اتنا اونچا کردے کہ آئندہ کسی کے بھی رونے چیخنے چلانے کی آواز اندر نہ آسکے اور.... بادشاہ سلامت نےروتے ہوئے سائلین کی طرف اشارہ کر کے کہا. ان لوگوں کو دھکے دیکر محل سے باہر نکال دو – ان ظالموں نے تو رلا رلا کر مرا برا حال کر دیا
بادشاہ
سلامت نے اپنا فیصلہ سنایا، ملکہ عالیہ کا ہاتھ تھام کر محل کے اندرونی حصہ کی طرف
چل پڑے
دربار عام سے نکلتے ہی ملکہ عالیہ کے کان میں بڑی رازداری سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا. ملکہ عالیہ کیا محل کے شاہی حمام کا گیزر اس وقت بھی چل رہا ہے
ملکہ عالیہ نے سر کے اشارے سے ہاں کہا اور پھر بادشاہ سلامت کے چہرے پر پھیلتے اطمینان کو دیکھ کر سوچنے لگیں کہ کسی کو سمجھنے کیلئے اسکی ذات سے جدا ہونا لازم ہے ورنہ اسکے وجود سے وابستہ آپکا مفاد آپکو گمراہ بھی کر سکتا ہے
دربار عام سے نکلتے ہی ملکہ عالیہ کے کان میں بڑی رازداری سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا. ملکہ عالیہ کیا محل کے شاہی حمام کا گیزر اس وقت بھی چل رہا ہے
ملکہ عالیہ نے سر کے اشارے سے ہاں کہا اور پھر بادشاہ سلامت کے چہرے پر پھیلتے اطمینان کو دیکھ کر سوچنے لگیں کہ کسی کو سمجھنے کیلئے اسکی ذات سے جدا ہونا لازم ہے ورنہ اسکے وجود سے وابستہ آپکا مفاد آپکو گمراہ بھی کر سکتا ہے
بنی گالہ کا محل اور گرم حمام - حصہ اول
بنی گالہ کا محل اور گرم حمام - حصہ دوئم
بنی گالہ کا محل اور گرم حمام - حصہ سوئم











.jpg)