Thursday, 24 December 2015

نبی رحمت ﷺ - مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام



  نبی رحمت 
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

اللهم صلي على محمد و على آل محمد
كما صليت على إبراهيم و على ألإبراهيم ا نك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد و على آل محمد
كما بار كت على إبراهيم و على أل إبراهيم ا نك حميد مجيد

کائنات کا اک اصول ہے کہ جو لوگ جتنی اونچی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں انہیں اتنی ہی مشقت اور زحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تاریخ میں شاید ہی محمد صل الله علیہ وسلم بن عبدللہ کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت ہو جس نے اتنی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی ہوں

آج میلاد النبی ﷺ کا جشن نہ صرف فرش والے منا رہے ہیں بلکہ عرش والوں میں بھی حضور ﷺ کی آمد کے چرچے ہو رہے ہونگے. ملائکہ قطار در قطار گنبد خضری کے مکیں کو سلام کرنے کے لئے عرش سے فرش پر آرہے ہونگے. 

چھوٹا تھا جب سے لوگوں کو حضور ﷺ کی مدح سرائی کرتے ہوئے آپ ﷺ کی کرامات اور معجزوں کا کرتے ہوئے دیکھا. وہ حضور ﷺ کی جود و سخا کے قصے سناتے، غزوات میں انکے معجزات کا ذکر کرتے،  انصاف و شجاعت کی بات کرتے مگر کبھی میں نے کسی کو آمنہ کے لعل کے ان مصائب کا ذکر کرتے نا سنا جنکا سامنا حضور ﷺ نے اپنے بچپن میں کیا.

 -معزرت
مگر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ان علماء حضرات نے آپ ﷺ کی ذات اقدس کو عام انسان کی فہم و فراست سے کچھ دور کر دیا ہے. حضور ﷺ گو اس وقت بھی نبی تھے جب صرف الله کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا اور تب بھی نبی ہونگے جب یہ کائنات بھی نہ ہوگی مگر اسکے باوجود حضور ﷺ نے اپنی نبوت کے ظہور سے پہلے جو زندگی گزاری یہ بہت ضروری ہے کہ اسے عام لوگوں کے ساتھ شئیر کیا جائے تاکہ لوگوں کو اپنے دنیاوی معاملات درست کرنے کی ترغیب مل سکے

قریش کے قبیلے ہاشم کے سربراہ حضرت عبدالمطلب  نے نرینہ اولاد کیلئے منت مانی کہ اگر الله نے انہیں دس بیٹے دیئے تو وہ اپنے دسویں بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردینگے. الله نے انکی دعا قبول کی اور انہیں دس بیٹے عطا کئے. انکے آخری فرزند کا اسم گرامی عبداللہ تھا جو باقی بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ خوبرو اور حسین تھے. جب منت پوری کرنے کا وقت آیا تو حضرت عبدالمطلب مدینہ کے اک صاحب علم کے پاس تشریف لے گئے اور عرض کی کہ کیا وہ بیٹے کی قربانی کی جگہ کسی اور چیز کی قربانی دے سکتے ہیں. اس عارف نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور کہا کہ اگر اونٹوں کی قربانی دی جائے تو غالب امکان ہے کہ الله تعالی انکی قربانی قبول فرمالے گا. اونٹوں کی تعداد 10 سے شروع ہوئی اور آخر 100 اونٹوں پر جاکر اللہ تعالی نے انکی قربانی کی درخواست قبول کرلی. 100 اونٹوں کی یہ وہی تعداد ہے جو بعد میں ابن عبدالله محمد رسول الله ﷺ  نے کسی بے گناہ کو غلطی سے قتل کرنے پر دیت کیلئے مقرر فرمائی تھی

حضور پرنور صل الله علیہ وسلم نے مکہ کے ریگزاروں میں آنکھ کھولی تو والد کا سایہ رحمت پہلے ہی سر سے آٹھ چکا تھا اور رہتی انسانیت کو ماں سے محبت اور اسکے ادب کا درس دینے والے آقا ﷺ کو والدہ کی رفاقت بھی چند ماہ ہی نصیب ہوئی. پیدائش کے بعد عرب کے رواج کے مطابق 5 سال تک عرب کے صحراؤں میں اپنی رضائی والدہ حلیمہ دائی کے ساتھ رہے-

واپس اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی الله تعالی عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انکے ساتھ یثرب (مدینہ منورہ) چلے گئے جہاں والدہ کے ساتھ اپنے والد حضرت عبدللہ رضی اللہ تعالی عنہہ کی قبر پر حاضری دی- واپسی کے سفر میں حضرت آمنہ  رضی الله تعالی عنہا کو مرض الموت نے آگھیرا اور عرب کے عام رواج کے مطابق قبیلے کی دیگر خواتین آپ ﷺ کی والدہ کے گرد دائرۂ بنا کر بیٹھ گئیں اور باتیں شروع کردیں تاکہ موت کا خوف کچھ کم ہوجائے. حضرت آمنہ رضی الله تعالی عنہا کی نظر اپنے لخت جگر کے روشن چہرے پر ٹکی تھی اور آپ نے کچھ اشعار کہے

 ہر اک کو فنا ہونا ہے
ہر نئی چیز کو پرانا ہونا ہے
ہر کثرت والی اور عظمت والی چیز کو مٹ جانا ہے
اور یقینا مجھے بھی اک روز مرجانا ہے
مگر لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے
کیونکہ میں لوگوں میں اپنا بیٹا مہربان مستقبل کے طور پر چھوڑے جا رہی ہوں

کچھ دیر بعد آقا علیہ سلام نے دیکھا کہ انکی والدہ اب انکی باتوں کا جواب نہیں دے رہیں تو آپ ﷺ  نے اپنا سر اقدس والدہ کے سینے پر رکھا اور ماں ماں کہہ کر بلانے لگے. لیکن ان کی روح تو قفس عصری سے پرواز کر چکی تھی. انہیں غسل دیا گیا اور کچھ دیر بعد آپ کو مدینہ سے 190 میل دور ابوہ نامی قبرستان میں بغیر تابوت کے دفنا دیا گیا. عزیز و اقارب جب تدفین کے بعد لوٹنے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ آمنہ کا لعل اپنی والدہ کی قبر سے لپٹا اپنی اماں کو پکار رہا تھا اور کہہ رہا ہے کہ ماں تو گھر کیوں نہیں چلتی کیا تو نہیں جانتی کہ تیرے سوا میرا دنیا میں اور کوئی نہیں ہے. روایات میں حضور ﷺ کی عمر اس وقت 6 سال بتائی جاتی ہے اور اس کمسنی میں والدہ کے بچھڑنے کا اس قدر غم ہوا کہ کھانا پینا ترک کر دیا اور بہت کمزور ہوگئے. جس پر حضور ﷺ کے رشتہ داروں نے آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کے ایک سو آٹھ سالہ دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچا دیا.

ڈارون کا کہنا تھا کہ حیوانات کی دنیا میں وہی زندہ رہتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں جن میں اپنے ماحول اور گرد وپیش کے تقاضے پورا کرنے کی اہلیت موجود ہو. کمزور، بزدل، ناتواں اور بےعقل حیوان جلد ہی نابودی اور نیستی کے گرداب میں پھنس کر فنا ہوجاتے ہیں.

جزیرہ عرب کے سہمناک صحراؤں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی وہاں صرف وہ لوگ ہی زندہ بچتے تھے جو نہ صرف جسمانی توانائی بلکہ روحانی لحاظ سے بھی زندہ رہنے کے مستحق ہوتے تھے. عرب کے ان صحراؤں میں گو پھول نہ اگتے تھے مگر یہاں کے کانٹے بھی اپنی خوشبو کیلئے مشہور تھے.

دادا کی معاشی حالت کچھ ایسی اچھی نہ تھی اور آقا ﷺ اپنی دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے عرب کے انہی ضروریات پوری کرنے صحراؤں میں گلہ چرانے کا کام کرنے لگے. اس دور میں گندم کی ایک روٹی 4 دینار میں بکا کرتی تھی اور عام لوگ روٹی کھانے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے اور آپ ﷺ  بھی انہی لوگوں کی طرح دودھ  کھجوریں اور صحرا میں موجود دیگر نباتات سے سے اپنا پیٹ بھر لیا کرتے. کائنات کے یہ وہ واحد یتیم تھے جںکے لئے الله تعالی نے کائنات کو ایسے مسخر فرما دیا تھا کہ آپ  ﷺ  اپنی والدہ کی گود میں بیٹھے چاند سے کھیلا کرتے تھے اور مکہ کے لوگوں نے وہ وقت بھی دیکھا کہ وہ نبی رحمت ﷺ  جنکے قدمیں شریفین کو چومنے کو پوری کائنات ترستی ہے وہ دو جہانوں کے والی ہوکر بھی ان صحراؤں کی تپتی ریت اور پتھروں پر برہنہ پا چلا کرتے تھے. یہ ان حالات کا اک انتہائی مختصر ذکر ہے جو آقا علیہ سلام نے اپنے بچپن میں دیکھے

حضور ﷺ کا زیادہ تر وقت صحرا میں جانوروں کی دیکھ بھال کرتے گزرتا اور اور عرب کے صحرا کی وسعت اور خاموشی نے بچپن ہی میں آپ ﷺ  کو غور فکر کرنے عادت ڈال دی.

یہاں مجھے اپنے استاتذہ اور علماء کرام سے یہ گلہ رہے گا کہ ہم تک دین کا صحیح فہم پہنچانے میں یا تو بہت حد تک  مبالغہ آرائی کی گئی اور یا پھر حد درجہ کنجوسی سے کام لیا گیا.

 مجھے اس جسارت کی اجازت دیجئے کہ ہم نبی رحمت کے امتی اپنے نبی کی اصل سیرت پاک سے بہت حد تک لاعلم ہیں. کیا کبھی کسی نے سنا کہ حضور ﷺ جب پہلی دفعہ مدینہ منورہ والدہ کے ساتھ تشریف لے گئے تو انہیں وہاں کے تالابوں میں تیراکی کرنا بہت پسند آیا تھا. یا مکہ کے سخنوروں کی صحبت اور انکے اشعار حضور ﷺ   کو بہت پسند آیا کرتے تھے. یا کسی عالم صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں یہ بتلایا ہو کہ جب حضرت خدیجہ رضی الله تعالی عنہا حضور ﷺ  سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں تو اس وقت انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی تھی

یہ الله کی حکمت ہے کہ کبھی یوسف جیسے پیغمبر کو مصر کے بازاروں کی جنس بنا دیتا ہے اور کبھی انہیں سالوں مصر کی جیل میں قید کروا دیتا ہے. عطا کرنے آئے تو کبھی نبوت بانٹ دیتا ہے اور امتحان لینے پر آئے تو حضرت ایوب علیہ سلام جیسے برگزیدہ نبی کو بھی اولاد کے ہاتھوں اس قدر ازیت پہنچتی ہے کہ رو رو کر بینائی ختم ہو جائے.

آج پاکستان کے گلی کوچوں میں حضور ﷺ کے جشن میلاد کے نام پر جس ناچ گانا اور جن دیگر لغویات کا مظاہرہ کیا جائے گا میں پاکستان کے تمام علماء حضرات کو اسکا ذمہ دار سمجھتا ہوں جو اسے دیکھتے ہوئے بھی مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں-

حضور ﷺ کی آمد کا جشن منانا ہے تو یتیموں کی کفالت کا اعلان کرو، درود و سلام کی محفلیں منعقد کرو اور محافل کے شرکاء کو یہ بتلاؤ کہ ہم کس عظیم ہستی کے امتی ہیں اور ہم ان کے متعلق کس قدر کم جانتے ہیں

میری دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر سیرت النبی کا روایت سے ہٹ کر مطالعہ کرنا ہو توکونسٹن ورجیل جورجیو، جو یونان کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں کی کتاب "محمد - ایسے پیغمبر جنہیں مزید جاننے کی ضرورت ہے" کا مطالعہ لازمی کریں. اس یورپین محقق نے یہ کتاب 20 سال عرب میں رہ کر لکھی ہے. اسکا ترجمہ سیارہ ڈائجسٹ والوں نے اپریل 2000 میں شائع کیا تھا. اگر کسی صاحب کو اسکی کاپی چاہیئے ہو تو وہ مجھ سے مزید معلومات کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

Wednesday, 10 June 2015

ورَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ


ورَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ


    :قال رسول صلى الله عليه وسلم

لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے 
والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں

پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر زی روح کی جان جان ہے - درود سلام ان پر کہ جن کی شان اور عظمت کا ادراک صرف اسی کو ہے جس نے انہیں پیدا فرمایا

سورہ یٰس پڑھتے مدتیں گزر گئیں اور اسے اتنا پڑھا کہ زبانی یاد ہو گئی مگر اس کا مفہوم  تب عطا ہوا جب اک رات حضور داتا گنج بخش ہجویری کی بارگاہ سے متصل برآمدے میں اسکی تلاوت کر رہا تھا. آدھی رات کا وقت تھا کہ جب نظر آیت نمبر 76 پر رک گئی. ترجمہ پڑھا اور بار بار پڑھا اور پھر واپس پلٹا اور آیت نمبر 3 کا ترجمہ دیکھا. تفسیر دیکھی اور سورۂ یسین کی شان نزول پڑھکر دیکھی اور پھر الله کریم نے اس سورۂ مبارکہ کا اک ایسا نیا مفہوم عطا کیا کہ آج بھی جب اسکی تلاوت کرتا ہوں تو دل حضور ﷺ کی عظمت سے منور ہو جاتا ہے

مکہ کے کفار آقا علیہ اسلام کی نبوت کا انکار کیا کرتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آمنہ کے لعل ﷺ انکی باتوں سے رنجیدہ ہوجایا کرتے. الله کریم کو اپنے محبوب ﷺ کی رنجیدگی اس قدر گراں گزری کہ خود قسمیں کھا کھا کرحضور ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ الله کہ رسول ہیں

آپ بھی پڑھکر دیکھئے

وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ (2)
قسم ہے قران کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے


إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (3) 
بےشک اے (محمدﷺ) آپ رسولوں میں سے ہو

پھر 72 مزید آیات میں ماضی میں گزرے انبیا کرام علیہ السلام کے قصے بیان فرمائے. پھر توحید و رسالت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا. پھر جنت اور جہنم کا ذکر فرمایا. اور پھر جب الله تعالی یہ سب کچھ بیان فرما چکا تو پھر آیت 76 میں حضور ﷺ سے مخاطب ہو کر دوبارہ ارشاد فرمایا

فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ (76)

اے محبوب ﷺ ان کفار کی باتیں آپ ﷺ کو غم ناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

الله کی شان اس سے کہیں تر بلند و بالا ہے کہ وہ اپنی بات کا یقین دلانے کیلئے قسمیں کھائے - لیکن یہاں مقصود حضور ﷺ کی دلجوئی تھی اور بلکل ایسا ہی انداز اپنایا جو کوئی اپنے محبوب کو منانے کیلئے اپناتا ہے

آپ کو یہ انداز بیان قران و حدیث میں اکثر ملے گا - کہیں حضور ﷺ کی اعلی ارفع شان کا ذکر ہوتا ہے اور کہیں آپ ﷺ کی رحمت اللعلمینی کا - کہیں آپ ﷺ کی زلفوں کی قسم کھائی جاتی ہے اور کہیں آپ ﷺ کے زمانے کی 

کہیں یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ الله کریم آپ ﷺ کو امت کے معاملے میں خوش کر دیگا اور کہیں خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے ذکر کو بلند فرما دیگا

ورَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند فرما دیا

الله رب العزت نے حضور ﷺ کا ذکر کس طرح بلند فرمایا اس پر بہت کچھ لکھا گیا اور کہا گیا اور قیامت تک لکھا اور کہا جاتا رہے گا - جب جہاں اللہ کریم کا ذکر ہوگا وہاں ذکر محمد ﷺ بھی لازمی ہوگا

حتی کہ منکر نکیرین جب قبر میں مردے سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے اور اگر وہ حالت ایمان میں فوت ہوا ہو اور وہ بتا بھی دے کہ اسکا رب الله ہے تو سوال و جواب کا سلسہ تو یہیں ختم ہو جانا چاہئے اور دین کا کیوں پوچھا جائیگا. لیکن اب حکم آ چکا کہ پوچھا جائیگا تو سر آنکھوں پر.

پوچھا جائیگا. تیرا دین کیا ہے. مرنے والا گر دین اسلام پر فوت ہوا ہے تو وہ پکار اٹھے گا کہ اسکا دین اسلام ہے.

رب اگرالله کی ذات ہے اور دین اسلام ہے، تو  پھر کسی اور سوال کی گنجائش  کہاں بچتی ہے. لیکن اگر رب تعالی نے فرما دیا کہ وہ اپنے محبوب ﷺ کا ذکر بلند فرمائے گا تو کیسے ہو سکتا ہے کہ یہاں اسکی توحید کا ذکر تو ہو مگرآپ ﷺ کی شان رسالت کا ذکر نہ ہو

آپ ﷺ تشبیہہ مبارک دکھائی جائیگی اور یا ایک اور عقیدے کے مطابق آپ ﷺ خود قبر میں تشریف لائیں گے اور منکر نکیرین مرنے والے سے پوچھیں گے کہ وہ حضور پرنور ﷺ کے متعلق دنیا میں کیا کہا کرتا تھا - یہ وہ مقام فکر ہے جہاں میں آپ کو لانا چاہ رہا تھا

 رب الله کی ذات ہے، دین اسلام ہے مگر یہ سب کہنے کے بعد بھی دنیا میں حضور ﷺ کے متعلق جو خیالات تھے انکا حساب دینا ہوگا.  نور و بشر کے جھگڑوں میں الجھے ذہنوں کو اپنے آپ کو اسی دنیا میں وہ اعتدال کا رستہ اپنانا ہوگا جو انہیں منکر نکیرین کے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے میں مددگار ہو سکے

میری دعا ہے کہ فرشتے جب مجھ سے یہ سوال کریں تو میری زبان پر درود شریف جاری ہوجائے. اور بلکہ اگر قسمت کی یاوری ہو تو  فرشتوں کو وہ جواب دوں جو امام احمد رضا خان صاحب فرما گئے تھے.

قبر میں سرکار آئیں تو میں قدموں میں جھکوں
گر فرشتے بھی اٹھائیں تو میں ان سے یہ کہوں
اب تو پائے ناز سے میں اے فرشتو کیوں اٹھوں
مر کے پہنچا ہوں یہاں اس دلربا کے واسطے


آمین

Saturday, 25 April 2015

بنی گالہ کا محل - حصہ چہارم





بنی گالہ کا محل - حصہ چہارم


بارش پورے زوروں پر تھی ایسے میں بادشاہ سلامت اپنے محل کے مغربی حصہ میں واقع سیبوں کے باغ میں آرام فرما تھے – پچھلے کچھ دنوں سے یہی معمول تھا – رات محل کے چوبدار کے کوارٹر میں بسر ہوتی اور دن محل کے گرد و نواح میں پھیلے باغات میں – بات کوئی اتنی سنجیدہ نہ تھی کہ عالم پناہ اپنی ہی ریاست میں بےگھر ہو جاتے مگر ملکہ عالیہ سے کسی بات پر تکرار جب حد سے بڑھی تو قسم کھا بیٹھے تھے کہ اب لوٹ کر محل واپس نہیں آئینگے – ملکہ نے لاکھ جتن کیے معافی بھی مانگی اور درخواست بھی کی مگر بادشاہ سلامت کا یو(U) نیگیٹو خون خلاف توقع جوش میں تھا اور عمر کے تقاضوں کے برعکس اپنے فیصلہ پر ڈٹے رہے.


سوچا تھا کہ محل کے باہر کھلی اب و ہوا میں کچھ اچھا وقت گزرے گا مگر قدرت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے. موسم کی سختیاں برداشت سے باہر ہوئیں تو محل کے دربانوں سے سازباز کرکے ان میں سے ایک چوبدار کے کمرے میں عارضی ٹھکانہ بنا لیا مگر یہ احتیاط برتی کہ انہیں ملکہ کے ساتھ ہونے والی لڑائی کا پتہ نہیں چلنے دیا بلکہ الٹا ان پر یہ کہہ کر احسان بھی فرما دیا کہ جہاں پناہ  عوام کے حالات زندگی جاننے کیلئے انکے درمیان کچھ دن گزارنا چاہتے ہیں

محل کے اکثر ملازمین بادشاہ سلامت کی اس قربانی سے بہت متاثر ہوئے اور ایک ہی دن میں حوالدار میڈیا نے نیلسن منڈیلا ثانی کی پاکستان میں ظہور کی پیشین گوئیاں شروع کردیں. بادشاہ سلامت نے پہلے تو اپنی سفید رنگت کی وجہ سے انکی مذمت کی مگر بعد میں کسی نے نیلسن منڈیلا کا تعارف کروایا تو جہاں پناہ نے فوری طور پر یہ انکشاف فرما دیا کہ انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز نیلسن منڈیلا سے متاثر ہو کر ہی کیا تھا

اب ڈھلتے دن کے اس پہر اسی سوچ میں غلطاں تھے کہ اک ضد سی ہے جسکا نبھایا جانا لازم ہے لیکن پھر بھی آس سی تھی کہ واپس جانے کا کوئی نہ کوئی باعزت رستہ نکل ہی آئے گا.


اچانک موبائل فون کی بجتی گھنٹی نے انہیں چونکا دیا. فون دیکھا تو سات انچ کی سکرین پر بھی عمران اسماعیل کا منہہ پورا نہیں آرہا تھا. گر نام نہ لکھا ہوتا تو یہ جاننا مشکل ہوتا کہ کس کا فون تھا. فون کان سے لگایا تو دوسری طرف عمران اسماعیل کی بجائے عارف علوی کی مخصوص آواز سنائی دی.

اوئے یہ نمبر تو عمران اسماعیل کا ہے، مگر یہ تو تم ہو علوی. بادشاہ سلامت نے بیزاری سے کہا

جناب عالی میں گزارش یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ آپ میرا فون اٹھاتے ہی نہیں اسی لئے عمران اسماعیل صاحب کا فون عارضی طور پر مانگا تھا. عارف علوی نے بڑی لجاحت سے بات شروع ہی کی تھی کہ بادشاہ سلامت نے جلدی سے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا، اوئے، پہلے بھی تمہاری کال اٹینڈ کرکے میں نے جو اپنی بےعزتی کروائی تھی کیا اس سے تمہارا دل نہیں بھرا جو تم دوبارہ مجھے فون کرتے رہتے ہو. تہیں جو بھی کہنا ہو یہاں آکر کہا کرو.

جناب میں تو آیا تھا مگر مجھے محل کے دروازہ پر ہی بتایا گیا تھا کہ آپ محل میں موجود نہیں ہیں. علوی صاحب نے قریباً ممیاتے ہوئے جواب دیا.

کیا مطلب؟ بادشاہ سلامت نے چونکتے ہوئے میں پوچھا. کیا تمہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ میں آج کل محل کے  باغات میں ہوتا ہوں؟ ہاں مگر محل کے عملہ کو چند مخصوص لوگوں علاوہ کسی کو بھی یہ بتانے کی اجازت نہیں

اوہو، یہ تو بہت غلطی ہو گئی جناب – علوی صاحب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا. میں بھی کہوں کہ محل کے دروازے پر تعینات حوالدار مجھے باغ کی طرف جانے کو کیوں کہہ رہا تھا. مگر میں بلا وجہ ہی اسکے اشارے کا غلط مطلب سمجھ کر ڈر کے مارے بھاگ آیا. میں کل دوبارہ حاضر ہو جاؤنگا. مگر فی الوقت آپ سے ایک اور گزارش بھی کرنی تھی اگر اجازت ہو تو وہ ابھی عرض کرلوں. علوی صاحب کی آواز میں اس قدر مسکینی تھی کہ بادشاہ سلامت کو ترس گیا. ہاں بولو کیا کہنا چاہتے ہو. 

جہاں پناہ، علوی صاحب نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا. ملکہ عالیہ کیلئے قلفیوں کا آرڈر کرنا تھا اور وہ قلفیوں والا کہہ رہا تھا کہ اگر انکے منہہ کا سائز مل جائے تو قلفی اور اسکا تنکہ بھی ان ہی کے سائز کا بن سکتا ہے.

اوئے علوی......... بادشاہ سلامت کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا. تم نے یہ قلفیاں کسی درزی سے بنوانی ہیں. خبردار اگر دوبارہ ایسی بیوقوفوں والی بات کرنے کیلئے مجھے فون کیا. علوی صاحب نے یہ سنتے ہی فون بند کر کے عمران اسماعیل کو پکڑا دیا جس نے جیب سے رومال نکالا، فون صاف کر کے رومال پھینک دیا اور موبائل اپنی جیب میں ڈال لیا.


ادھر بادشاہ سلامت نے بھی اپنا فون بند کیا اور محل کے کھلے دریچوں کی طرف دیکھ کر اس میں ہر دم میسر دنیا جہان کی آسائشات کو یاد کر کے سوچنے لگے کہ محل میں واپسی کا کوئی طریقه نکالا جائے. پھر انہیں اپنی قسم اور محل میں  نہ آنے کا وعدہ یاد آیا مگر پھر سوچا کہ اگر وعدے پورے کرتا رہتا تو آج اس بلند مقام تک کیسے پہنچ پاتا.... 

اس سے پہلے کہ بادشاہ سلامت کچھ مزید غور فکر کر پاتے انھیں محل کے بیرونی مرکزی دروازے سے لوگوں کی اونچی اونچی باتیں کرنے کی آوازیں آنے لگیں. غور سے سننے پر معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اس بارش میں بھی بادشاہ سلامت سے ملنے کی ضد کر رہے تھے اور لہجہ بھی کافی تلخ تھا.

قریب تھا کہ بادشاہ سلامت انکی گستاخانہ گفتگو پراپنے شاہی جلال میں آکر کوئی حکم صادر فرما دیتے کہ یکایک انہیں خیال آیا کہ ان سائلوں سے ملنے کے بہانے وہ محل میں واپس جا سکتے ہیں. کچھ دیر سوچا اور پھر پاس کھڑے محافظ کو حکم دیا کہ سائلین کو محل کے دربار عام میں بلایا جائے. 

محافظ مرکزی دروازے کے طرف چلا گیا تو خود بھی اٹھے اور محل کے اندرونی مرکزی دروازہ کی طرف چلنا شروع کر دیا. چوبدار نے بادشاہ سلامت کو آتے دیکھا تو بلند آواز سے انکی آمد کا اعلان کیا اور دروازہ کھول کر ایک طرف کھڑا ہوگیا. بادشاہ سلامت کھلے دروازہ سے محل کے دربار عام کی طرف جاتی ایک لمبی سی راہداری میں داخل ہو گئے. 

راہداری کے دونوں اطراف دیواروں پر کبھی بادشاہ سلامت کے آباؤ اجداد کی تصویریں لگی ہوا کرتی تھیں مگر اب تو صرف لکڑی کے فریمز ہی رہ گئے تھے، پچھلے کچھ عرصۂ سے بادشاہ سلامت کے نام سے منسوب کچھ ایسے قصے مشہور ہوئے کہ جس جس کی تصویر تھی یا تو وہ خود آکر لے گئے اور یا پھر انکے بچے اتار کر لے گئے اور آئندہ بادشاہ سلامت کو تنبیہہ بھی کرگئے کہ انکے نام کا کسی بھی طرح کا آئندہ استعمال نہ کیا جائے

دربار عام میں داخل ہوئے تو استقبال کیلئے پہلے سے موجود ملکہ عالیہ نے جھک کر سلام کیا اور عرض کی حضور محل میں آپکی آمد سے اسکی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں. بندی تو وہم کا شکار تھی کہ کہیں آپ اس دفعہ واقعی سنجیدہ تو نہیں ہو گئے.

ملکہ عالیہ کے الفاظ سے بادشاہ سلامت کے دل کو تسلی سی تو ہوئی مگر انہوں نے چہرے سے کچھ ظاہر نہ ہونے دیا اور بولے کہ اس محل کے درودیوار گواہ ہیں کہ ہم نے جب بھی اپنی زبان پر قائم رہنے کا عہد کیا تو ہمیں اپنی رعایا کی حالت کی وجہ سے اپنے اس عہد کو توڑنا پڑا. بخدا ہمیں اپنے اک اک حرف اور اسکی حرمت کا پاس ہے مگر میری ضد کی وجہ سے میرے ووٹرز پریشان تھے اور انکے مسائل کے حل کیلئے میں اپنی ذات اور آنا کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے

بیشک جہاں پناہ - لوگ اسی لئے تو آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں. ملکہ عالیہ نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے کہا. انہیں علم ہے کہ جہاں پناہ ہر وقت انکے بارے کس قدر فکرمند رہتے ہیں

یہ گفتگو مزید جاری رہتی کہ سائلین دربار میں داخل ہو گئے. بادشاہ سلامت فوراً تخت پر جا کر بیٹھ گئے اور سائلین کے نمائندے کو آگے آکر مدعا بیان کرنے کا اشارہ کیا

جہاں پناہ آپ کا اقبال بلند ہو. آپکے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہو. ایک بوڑھے مگر جہاندیدہ سائل نے آگے بڑھکر آداب بجا لاتے ہوے عرض کی.

بادشاہ سلامت – ہم بےگھر ہیں. کھانے کو کچھ نہیں ہے. پینے کو پانی اور پہننے کو لباس میسر نہیں. بیماری ہے مگر علاج کی سہولتیں میسر نہیں. ہم کام کرنا چاہتے ہیں مگر روزگار بھی نہیں. حالت ایسی ہے کہ ہم خود کشی کرنا چاہتے ہیں مگر...مگر زہر خریدنے کی سکت بھی نہیں ہے.... غم کی شدت سے سائل کی زبان لڑکھڑانے لگی... 

بادشاہ سلامت کا دل بھی پسیج گیا اور انہوں نے اپنی نم آنکھوں کو پوچھتے ہوئے سائل کو بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا


سائل کو کچھ حوصلہ ہوا تو اس نے اپنی داستان دوبارہ سنانا شروع کی. وہ بولتا جا رہا تھا اور سننے والے زارو قطار روتے جا رہے تھے. جب بادشاہ سلامت بھی اپنے جذبات پر مزید قابو نہ رکھ سکے تو سائلین کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش ہونے کا اشارہ کیا. دربار میں ایک دم سناٹا سا چھا گیا. کبھی کبھی کسی کے سسکی لینے کی آواز آتی تو بادشاہ سلامت اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کی تلقین کر دیتے.


 کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے اپنی نم آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، "ملکہ عالیہ، 

کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے اپنی نم آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، " ملکہ عالیہ، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مری ریاست میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے. کاش مجھے آج کا یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا".

خدا کیلئے وزیر خاص کو کہو کہ وہ محل کے چاروں طرف دیواروں کو اتنا اونچا اتنا اونچا کردے کہ آئندہ کسی کے بھی رونے چیخنے چلانے کی آواز اندر نہ آسکے اور.... بادشاہ سلامت نےروتے ہوئے سائلین کی طرف اشارہ کر کے کہا. ان لوگوں کو دھکے دیکر محل سے باہر نکال دو – ان ظالموں نے تو رلا رلا کر مرا برا حال کر دیا

بادشاہ سلامت نے اپنا فیصلہ سنایا، ملکہ عالیہ کا ہاتھ تھام کر محل کے اندرونی حصہ کی طرف چل پڑے

دربار عام سے نکلتے ہی ملکہ عالیہ کے کان میں بڑی رازداری سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا. ملکہ عالیہ کیا محل کے شاہی حمام کا گیزر اس وقت بھی چل رہا ہے

ملکہ عالیہ نے سر کے اشارے سے ہاں کہا اور پھر بادشاہ سلامت کے چہرے پر پھیلتے اطمینان کو دیکھ کر سوچنے لگیں کہ کسی کو سمجھنے کیلئے اسکی ذات سے جدا ہونا لازم ہے ورنہ اسکے وجود سے وابستہ آپکا مفاد آپکو گمراہ بھی کر سکتا ہے

Wednesday, 1 April 2015

بنی گالہ کا محل - حصہ سوئم

بنی گالہ کا محل - حصہ سوئم


اک  سناٹے کا عالم تھا – ایسے لگتا تھا کہ زمین آسمان کو اوڑھے گہری نیند سو رہی ہے. دن بھر کے  معمولات سے تھکے لوگ آنے والے کل کی صعوبتوں سے بےخبر اپنے اپنے انجانے خوابوں میں مگن سو رہے تھے. ایسے میں اچانک محل کے اک حصہ سے بادشاہ سلامت کے اپنے خیراتی ہسپتال کے بجٹ سے خریدے گئے موبائل فون پر اونچی اونچی بات کرنے کی آواز سنائی دینے لگی. ایسے لگتا تھا کہ جہاں پناہ کسی سرکاری افسر پر برس رہے تھے. کچھ دیر بعد فون بند ہوا تو ملکہ عالیہ کمرہ میں داخل ہوئیں اور بادشاہ سلامت سے اپنی جان کی امان طلب کرتے ہوئے عرضگزار ہوئیں – میرے سرتاج – اتنی رات گئے یہ ہنگامہ سا کیسا برپا تھا. نصیب دشمناں – آپکی طبیعت تو خراب نہیں ہے

ہاں ہاں میں ٹھیک ہوں – مجھے کیا ہونا ہے. بادشاہ سلامت نے بےزاری سے اپنی بیگم کے لہجہ میں چھپے استفسار کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا اور ٹی وی کی بند آواز کو کھول دیا. اوئے یہ دیکھو – کراچی ایئر پورٹ پر جہاز یمن سے پاکستانی لیکر آیا ہے– میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ تمام چینلز اس خبر کو بار بار کیوں دکھا رہے ہیں. ہر روز بیسیوں فلائٹس کراچی ائیرپورٹ پر اترتی ہیں مگر ٹی وی پر کبھی بھی ایسے خبر نہیں چلتی. میں کئی سال سے ترین کا جہاز لیکر گھومتا رہتا رہا– آخر اس میں ایسی کیا بات ہے. اور آج تو 10 گھنٹے ہو گئے ہیں کسی چینل نے مرے نام سے کوئی بریکنگ نیوز نشر نہیں کی. بادشاہ سلامت کی آواز میں انکی جھنجھلاہت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی

ملکہ عالیہ نے ایک گہرا سانس لیا اور بچوں کے کمروں سے آتی انکی ہلکی ہلکی ہنسنے کی آواز کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر غور کرنے لگیں

کچھ ساعتیں گزریں تو بادشاہ سلامت کی بیچینی کو دیکھتے ہوئے دوبارہ عرض کرنے کی جسارت کا ارادہ کیا اور چند قدم چل کر بادشاہ سلامت کے سامنے مغلیہ سلام عرض کیا اور بولیں. حضور آپکی بیچنی بے سبب نہیں ہے اور مجھے ڈر ہے کہ نصیب دشمناں آپکی طبیعت کہیں خراب نہ ہو جائے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم اگلی ہی فلائٹ سے کراچی چلے جاتے ہیں

نہیں ملکہ عالیہ – بخدا ہمیں میڈیا کے سامنے رہنے کا بہت شوق ہے مگر حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہم عام پبلک میں جانے کا خطرہ مول لے سکیں. بدتمیز لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو مجھے دیکھتے ہی جگتیں لگانے لگتے ہیں. اوئے میں تو سادہ جگت برداشت نہیں کرتا اور وہ جاہل گنوار پینڈو پاکستانی مجھے فیصل آبادی جگتیں بھی لگانی شروع کر دیتے ہیں

اب تم خود ہی بتاؤ---- بادشاہ سلامت نے مثال دیتے ہوئے کہا. جب مجھے نیولا ہی کہہ دیا ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ مجھے یہودی نیولا بھی کہا جائے

ملکہ عالیہ نے بادشاہ سلامت کے چہرے پر کرب کے آثار دیکھے تو خود بھی غمگین ہوگئیں. جی بادشاہ سلامت یہودیوں کے کھوتے والی بات تو میں نے بھی سنی تھی اور سوچتی تھی کہ خالی کھوتے پر تو آپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر یہودییوں کا کھوتا کہنے کی واقعی کیا ضرورت تھی مگر.... آپ انکے متعلق نہ سوچیں اور... سونے کی کوشش کریں - بندی آپکے سر کی مالش کر دیتی ہے. ملکہ عالیہ نے موضوع بدلنے کیلئے بادشاہ سلامت کے سر کو ہاتھ سے دباتے ہوئے کہا

بادشاہ سلامت نے ملکہ عالیہ کا ہاتھ ایک طرف ہٹایا اور اسے ہاتھ کے اشارے سے دور رکھی کرسی پر بیٹھنے کو کہا. اوئے ملکہ – تم یہ بتاؤ - تمہیں سر کی مالش بھی کرنی آتی ہے. مجھے تو لگتا ہے کہ میں نے تم سے جس کام کیلئے شادی کی تھی تمہیں اس کام کے علاوہ ہر کام آتا ہے

ملکہ عالیہ بادشاہ سلامت کے سامنے سے ہٹ گئیں اور عرض کی کہ حضور میں تو صرف آپکا دل بہلانے کیلئے کہہ رہی تھی ورنہ تو آپکی وگ کی وجہ سے آپکے سر کی مالش ممکن ہی نہیں. اگر آپ کو اچھا نہیں لگا تو معاف کر دیجیے

بادشاہ سلامت نے ملکہ کے چہرے پر تشویش کے آثار دیکھے تو دل میں کچھ رنج سا ہوا اور اپنے کان کے اوپر سے سگریٹ پکڑ کر ملکہ کو ماچس یا لائٹر ڈھونڈھنے کا اشارہ کیا. ملکہ عالیہ نے فوراً اپنے لباس سے لائٹر نکالا اور بادشاہ سلامت کی طرف اچھال دیا. بادشاہ سلامت نے لائٹر کیچ کیا اور سگریٹ جلا کر حیرت سے پوچھا  ....اوئے تم لائٹر ہر وقت جیب میں رکھتی ہو . ملکہ عالیہ شرما گئیں اور بولیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں مجھے لگا کہ شائد آپ کسی بھی وقت مانگ لیں اسی لئے اسے اپنے ساتھ رکھا تھا. اور ویسے بھی یہ میری جیب نہیں ہے

چلو جو بھی ہے اچھا ہے کوئی تو فائدہ ہے اسکا. بادشاہ سلامت نے مسکراتے ہوئے کہا اور گہرے کش لگا کر ٹی وی کی طرف دوبارہ متوجہ ہو گئے. اتنے میں موبائل پر دوبارہ کسی کی کال آئی. فون اٹھایا تو دوسری طرف وہی سرکاری افسر تھا- بادشاہ سلامت نے ہیلو کہا اور اسکی بات سننے لگے. کچھ ہی دیر میں چہرے کی رنگت بدل گئی – غصہ کے عالم میں جلتے ہوئے سگریٹ کو ملکہ عالیہ کی طرف پھینک دیا اور اسے اشارہ کیا کہ اسے بجھنے نہ دے اور پھر دوبارہ فون پر دھاڑنے لگے

اوئے، تم سب لوگ سن لو. اگر اسلام آباد کوئی جہاز اس وقت آیا تو میں تمہیں اپنے ہاتھ سے پھانسی دونگا. مگر بادشاہ سلامت اس میں ہماری کیا غلطی ہے. افسر نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا. میں تو صرف آپکو بتا رہا ہوں کہ یمنی پاکستانیوں کا دوسرا جہاز اسلام آباد ہی لینڈ کرے گا. مگر کیوں – بادشاہ سلامت کا خون کھولنے لگا. یہ تو سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال ہے. اگر ایک جہاز کراچی لینڈ ہوا ہے تو دوسرا جہاز اسلام آباد کیوں لینڈ کریگا. اوئے بیوقوفو تم سمجھتے کیوں نہیں – یہ یمنی پاکستانی نہیں ہیں حکومت کے پٹواری ہیں جو حکومت نے جان بوجھ کر یمن بھجوائے تھے تاکہ انکو واپس لاکر ائرپورٹس پر نعرے لگوائے جا سکیں. بادشاہ سلامت خاموش ہوئے تو انہیں محسوس ہوا کہ دوسری طرف کوئی بھی لائن پر نہیں تھا. شائد فون کا رابطہ منقطع ہو چکا تھا

دیکھا ملکہ عالیہ لوگ کیسے مجھ سے ڈرتے ہیں – بادشاہ سلامت نے ملکہ سے سگریٹ واپس لیتے ہوئے کہا. ایک کش لگاتے ہی سگریٹ کر دھنوے کے ساتھ لپسٹک کا مانوس سا ذائقہ بھی محسوس ہوا – ملکہ کی طرف غصہ سے دیکھا جو ٹی وی دیکھنے میں مگن تھیں – اوئے تم یہ لپسٹک بدل کیوں نہیں لیتیں. کتنی دفعہ کہا ہے اسکا ذائقہ خراب ہے اور سگریٹ خراب ہو جاتا ہے. اور ویسے بھی پارٹی کے باقی لوگ بھی اسکی شکایت کر چکے ہیں

ملکہ نے حیرت سے بادشاہ سلامت کو دیکھا اور پھر کمرے میں لگے آئینہ میں اپنا عکس دیکھا اور پھر اپنی خفگی چھپاتے ہوئے گویا ہوئیں. جہاں پناہ – آپ نے ابھی شام کو فیشل اور میک اپ کروایا تھا اور شائد لپسٹک تبھی سے آپکے لبوں کے کچھ حصوں پر موجود ہے. اچھا ہوگا اگر آپ لپسٹک تبدیل کرنے کی ہدایت اپنی میک اپ آرٹسٹ کو بھی دے دیں

اوہ یہ دیکھو ٹی وی پر کیا دیکھا رہے ہیں – بادشاہ سلامت نے جلدی سے موضوع کو بدلنے کیلئے ٹی وی کی آواز مزید اونچی کردی. جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا ہے- یہ نہیں ہو سکتا – یہ جہاز بنی گالہ کی فضائی حدود سے گزرتا ہوا پٹواریوں کو لیکر اسلام آباد ائیرپورٹ اتر گیا اور اب اسلام آباد میں بھی نواز شریف زندہ باد کے نعرے گونجیں گے. اور یہ دیکھو پرویز رشید . بادشاہ سلامت نے ملکہ کو ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. اوئے آدھی رات کو یہ بندہ ان پٹواریوں کو لینے کے لئے ائیرپورٹ چلا گیا ہے . بہت ہی شوخا اور کیمرہ کے سامنے رہنے کا شوقین آدمی ہے. اور اوپر سے ہر چینل اس وقت یہی دکھا رہا ہے

مگر بادشاہ سلامت اس بندے نے آدھی رات کو کالا چشمہ کیوں لگا رکھا ہے. ملکہ عالیہ اپنی حیرت کو نہ چھپا سکیں .– ایسی کوئی خاص وجہ نہیں ہے– کسی بد بخت نے اسے بتا دیا ہے کہ میں ہر وقت ان لوگوں کو ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر جلتا رہتا ہوں اور میری نظربد سے بچنے کیلئے انہیں کوئی نہ کوئی کالی چیز ہر وقت ساتھ رکھنی چاہئے. بادشاہ سلامت نے جلدی جلدی چینلز بدلتے ہوئے جواب دیا. لیکن کالا چشمہ تو اکثر آپ نے بھی لگایا ہوتا ہے, بلکہ آپ تو نماز پڑھتے ہوئے بھی چشمہ لگا کر رکھتے ہیں – ملکہ کے لہجہ میں حیرت کا عنصر مزید گہرا ہو گیا اور بے ساختہ بول اٹھیں..... اوئے میری بات اور ہے، بادشاہ سلامت نے تلملاتے ہوئے جواب دیا. کہاں پرویز رشید اور کہاں میں تمہارا موجودہ خاوند

ملکہ عالیہ نے اک گہری سانس لی اور سوچنے لگیں کہ موسم کی خبریں سنانا اس قدر مشکل نہیں تھا جتنا بادشاہ سلامت کے موڈ کا اندازہ لگا کر بات کرنا. موسم تو انسانوں کی طرح اتنی جلدی نہیں بدلتے مگر وہ پھر بھی بدنام ہی رہتے ہیں

کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی

----


بنی گالہ کا محل - حصہ چہارم

Thursday, 19 March 2015

بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ دوئم



بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ دوئم 


گاڑیوں کی آواز کچھ دور تک آتی رہی اور پھر ماحول میں مکمل خاموشی چھاگئی. احتجاج کرنے کیلئے آنے والے بھی رات بسر کرنے کیلئے مناسب جگہ کیلئے ادھر ادھر دیکھنے لگے. نوجوان لڑکے محل کے سامنے ٹولی بنا کر ایسے بیٹھ گئے کہ بادشاہ سلامت کی خوابگاہ کی کھڑکی انکی نظروں کے سامنے ہی تھی

کچھ ہی دیر بعد وہاں ڈی چوک دھرنے کے دوران ہٹ ہونے والے فحش گانے موبائل پر بجنے لگے. کچھ نوجوان تاش کی محفل سجا کر بیٹھ گئے

کافی دیر تک یہ سب چلتا رہا لیکن پھرچند نوجوان تھکن محسوس کرنے لگے اور گو انکی اکثریت سونا چاہتی تھی مگر جوئے میں لگی ہوئی انکی رقم ان کو جاگنے پر مجبور کر رہی تھی

ایسے میں سب سے زیادہ رقم ہارنے والے نے اپنی گلوگیر آواز میں باقی ساتھیوں سے کہا کہ کہ ہم یہاں کس کام کیلئے آئے تھے، ہمارا مقصد کتنا عظیم تھا مگر اب ہم کن حرام کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں اور یہ کہتا ہوا اٹھ کر محل کے مرکزی دروازے کے حوالدار سے سگریٹ مانگنے کیلئے چل گیا 

حوالدار نے اسے آتے دیکھا تو اسے وہیں رکنے کا اشارہ کیا. نوجوان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ کیا چاہتا ہے. حوالدار نے ترس کھا کر اسے آنے کو کہا.

 کتنے پیسے ہار چکے ہو اب تک؟ اس نوجوان کے قریب آنے پر حوالدار نے پوچھا

 پیسے تو زیادہ نہیں ہارا مگر سگریٹ ختم ہو چکے ہیں اور یہاں سے مارکیٹ بہت دور ہے اگر اک سگریٹ مل جائے تو کچھ سکوں مل سکے. نوجوان نے بڑی مسکین سی آواز نکلتے ہوئے کہا

 حوالدار نے اسکی بات سنی اور مسکرا کر اپنی ساتھی سے کہا کہ اسے بھی سکون والا سگریٹ ہی چاہیے اور قہقہہ لگا کر ہںسنے لگا

دوسرے حوالدار نے اسے پاس بلایا اور اسے کچھ جلے ہوئے آدھے سگریٹ کے ٹوٹے دیے اور کہا کہ انکے کش لگائے. یہ کیا ہے؟ نوجوان نے جلدی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا. گھبراؤ نہیں، پہلے والے حوالدار اسے تسلی دیتے ہوئے کہا. یہ بادشاہ سلامت کے اس سگریٹ کے بچے ہوے ٹکڑے ہیں جو جہاں پناہ اپنی ریاست کی زبوں حالی اور اپنی بےبسی کی وجہ سے اورمیاں صاحب کی تصویر دیکھ دیکھ کر صبح شام  پیتے رہتے ہیں. محل میں جابجا اس سگریٹ کے ادھ جلے ٹکڑے  ادھرادھر بکھرے رہتے ہیں جو ملازم آپس میں بانٹ لیتے ہیں یہ سنکر نوجوان کی دلچسپی بڑھ گئی اور اسنے وہ سگریٹ کے ٹکڑے اٹھا لئے اور شکریہ ادا کرتا ہوا واپس چلا گیا

بادشاہ سلامت کو خبر ملی کہ ہجوم نے محل کے سامنے ہی رات بھر دھرنہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو کچھ بےچینی سی محسوس کرنے لگے. ہاتھ میں تھامے تولیہ ایک سائیڈ پر رکھ کر سوچنے لگے کہ موقع اچھا ہے جاکر اک تقریر کر آؤں. پتہ نہیں پھر اتنے لوگ اکٹھے دھرنہ کیلئے ملیں یا نہ ملیں. اسی سوچ میں گم تھے کہ ملکہ عالیہ بنی گالہ کے شاہی گرم حمام سے باہر تشریف لے آئیں. اور کمرے میں آتے ہی بادشاہ سلامت کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے تو خود بھی پریشان ہو گئیں اور عرض کی بادشاہ سلامت کیا خیر تو ہے کیا لندن سے کوئی بری خبر تو نہیں آگئی. بادشاہ سلامت نے ملکہ عالیہ کے چہرے پر پھیلی ہوئی معصومیت کو دیکھا اور سمجھ نہ پائے کہ وہ پریشانی کا سبب جاننا چاہتی ہیں یا جگتیں لگانے کے موڈ میں ہیں.

اسی سوچ بچار میں بادشاہ سلامت نے اپنا سر نیچے کیا تو اپنے جوتے کی چمک نے انہیں متوجہ کر لیا جس پر کچھ دیر پہلے ہی تازہ تازہ پالش ہوئی تھی. دل بھر آیا اور سوچنے لگے کہ میرا حال بھی کچھ اس بدقسمت جوتے جیسا ہی ہے. میک اپ نہ کرواؤ تو شیشہ دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا. سر اٹھایا اور ملکہ عالیہ سے بڑی رقت کے ساتھ گویا ہوئے. ملکہ عالیہ محل سے باہر میری رعایا کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں سوچتا ہوں کہ ان سے خطاب کرلوں لیکن رات کے اس پہر میڈیا بھی نہیں ہوگا اور آج فیشل بھی نہیں کروایا اور پھر بغیر میک اپ کے عوام سے ملنے چلا گیا تو شائد وہ پہچان بھی نہ پائیں.


ملکہ عالیہ نے جہاں پناہ کے چہرے پر پھیلی میڈیا کے سامنے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرنے کی خواہش کو رقصاں دیکھا تو انکا بھی دل بھر سا آیا اور بولیں جہاں پناہ، اس میں ایسی کیا مشکل بات ہے. میں آپ کے ساتھ چلی جاتی ہوں، لوگ نہ آپ کی طرف دیکھیں گے اور نہ ہی انکو آپ کے چہرے کی سلوٹوں کے بےترتیب ہونے کا احساس ہوگا. اور میڈیا کا کیا ہے، میں ابھی ان کو فون کرکے بلائے دیتی ہوں

نہیں ملکہ عالیہ، بادشاہ سلامت نے ایک دم سے ہاتھ اٹھا کر انہیں منع کرتے ہوئے کہا. آپ رہنے دیجیے

 لوگ آپ کے سامنے تو کچھ نہیں کہتے مگر بعد میں میرا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں. بعض بدقماش تو یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے شادی ہی دوبارہ دھرنے کی رونق بڑھانے کیلئے کی ہے. مرا خیال ہے ان لوگوں سے صبح بات کرلی جائیگی. رات ہی کی تو بات ہے. یہ کہکر بادشاہ سلامت نے سونے کی نیت سے تکیہ سے ٹیک لگالی اور دھرنے کے دنوں کو یاد کرکے دل بہلانے لگے

کچھ دیر بعد محل میں مکمل خاموشی چھا گئی. لیکن فضا میں کچھ دیر بعد دھرنا بند نوجوانوں کے قہقہوں کی آواز گونجتی اور ملکہ عالیہ کروٹ بدل کر دوبارہ سو جاتیں. اچانک شور کی آواز زیادہ ہو گئی اور ملکہ عالیہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئیں. کھڑکی کی طرف گئیں اور محل کے باہر موجود لوگوں کو دیکھ کر ٹھٹھک گئیں. پھر بھاگتی ہوئی واپس آئیں اور سوئے ہوئے بادشاہ سلامت کو ہاتھ بڑھا کراٹھانے کی کوشش کی . بادشاہ سلامت ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے. موبائل تلاش کر کے پہلے ٹائم دیکھا اور پھر ملکہ عالیہ کی طرح دیکھا اور پریشانی میں کھڑکی کی طرف اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے. کھڑکی کھولی اوراس سے پہلے کے چھلانگ لگا سکتے ملکہ عالیہ کی چیخ نے انکے قدم روک لئے. پلٹ کر دیکھا تو ملکہ عالیہ انہیں ہاتھ کے اشارے سے واپس آنے کو کہہ رہی تھیں

اوہ تو کیا اعجاز واپس نہیں آیا. بادشاہ سلامت نے اطمینان کا سانس لیتے سوچا. واپس بیڈ کی طرف پلٹے تو دیوار پر لگی ہوئی اپنی اور ملکہ عالیہ کی حالیہ شادی کی تصویر دیکھی تو یکدم یاد آیا کہ وہ تو اپنے گھر میں اپنی بیگم کے ساتھ محو استراحت تھے. اک شرمندگی کے عالم میں واپس بستر پر لیٹ گئے.  پھر آہستہ سے ملکہ عالیہ کے سوالیہ چہرے پر اک نظر ڈالی اور بولے کہ ایسے ہی دیکھنا چاہتا تھا کے میرے ٹائیگرز اس شدید سردی میں واپس تو نہیں چلے گئے اور ایسی تو کوئی بات نہیں جو تم سوچ رہی ہو.... ہاں لیکن یہ تو بتلاؤ کہ تم مجھے کیوں اٹھا رہی تھیں؟بادشاہ سلامت کو اچانک سے یاد آ گیا

بادشاہ سلامت جان کی امان چاہتی ہوں مگر کنیز کو مجبوری کے تحت آپ کو بےآرام کرنا پڑا. کافی دیر سے سونے کی کوشش کر رہی تھی مگر باہر سے گانے اور شور شرابے کی آوازیں آرہی تھیں. واہیات سے گانے بھی گائے جارہے تھے لیکن اچانک باہر دھرنے میں بیٹھے کچھ اوباش نوجوانوں نے تو تمام حدود ہی پار کرلیں اور گانا شروع کردیا کہ "دھرنہ تاں سجدا جے نچے ملکہ عالیہ". پہلے تو میں نے اسے نظر انداز کر دیا مگر مجھے لگا شائد وہ اصل میں مجھے باہر نہ بلانا چاہ رہے ہوں. میں نے کھڑکی تھوڑی سی کھول کر دیکھا تو باقی سب کچھ تو ٹھیک تھا مگر پریشانی اس بات پر ہوئی کہ ان نوجوانوں کا یہ واہیات  مطالبہ سن کر دھرنے میں موجود کچھ لڑکیوں نے اٹھ کر ناچنا بھی شروع کر دیا تھا. میں کچھ وہم کا شکار ہوگئی تھی اور جاننا چاہتی تھی کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیا آپ ان لڑکیوں کو بھی پہلے سے ہی جانتے ہیں.

ملکہ عالیہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہ ہوا کریں. اسکا مطلب تو ان ہی لوگوں سے پوچھا جانا چاہئے – اور میں تو ان میں کسی کو جانتا بھی نہیں. بچے ہیں ایسے ہی رات گزارنے کیلئے ناچ گانا چل رہا ہے. تم سو جاؤ. بادشاہ سلامت یہ فرما کر کمبل اپنے منہہ پر لیکر سونے کی کوشش کرنے لگے. ملکہ عالیہ بھی لیٹ گئیں. کچھ ہی پل گزرے تھے کہ بادشاہ سلامت اٹھے اور ایک کمبل اتار کر پھینک دیا. اور ملکہ عالیہ سے گویا ہوئے. مجھے اپنے آپ سے شرم آرہی ہے. میرے ووٹرز اور چاہنے والے باہر شدید سردی میں کھلے میدان میں بیٹھے ہیں اور میں یہاں دو دو کمبل لیکر سو رہا ہوں. خدا کیلئے ان میں سے ایک کمبل اتار کر لے جاؤ. میں صرف ایک ہی کمبل میں سوؤں گا 

اور کچھ ہی دیر میں شاہی خوابگاہ سے دوبارہ خراٹوں کی آوازیں گونجنے لگیں

---

بنی گالہ کا محل - حصہ سوئم



بنی گالہ کا محل - حصہ چہارم


Monday, 16 March 2015

Everything Except Politics: بنی گالہ کا محل اور گرم حمام

Everything Except Politics: 









بنی گالہ کا محل اور گرم حمام: بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ اول بنی  گالہ محل کے باہر لوگوں کا اک جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا.رات کے اس پہر لوگ  بادشاہ حضور کی ...

بنی گالہ کا محل اور گرم حمام








بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ اول


بنی  گالہ محل کے باہر لوگوں کا اک جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا.رات کے اس پہر لوگ  بادشاہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنی فریاد سنانا چاہتے تھے. ایسے میں کچھ بزرگوں کو خیال آیا کہ بادشاہ سلامت آجکل ملکہ عالیہ کی زلفوں کے اسیر ہیں اور شائد اس وقت رات کو باہر آنا انکو ناگوار گزرے. انہوں نے مشورہ کیا اور قبیلے کے دیگر نوجوانوں کو محل کے باہر کھلی  آب و ہوا میں رات گزارنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صبح اٹھ کر ہم بادشاہ سلامت کے ساتھ ہی ناشتہ کریں گے اور اپنے مطالبے بھی انکے سامنے رکھیں گے.


نوجوانوں نے بزرگوں کے چہرے پہ پھیلی سنجیدگی کو دیکھا اور انکا جوش و جذبہ مایوسی میں بدل گیا. تو کیا یہ سچ ہے کہ اس وقت بادشاہ سلامت اپنی رعایا سے نہیں مل سکتے. انہوں نے تو وعدے کیے تھے کہ وہ ہر وقت ہمارے ساتھ رہا کریں گے.

نہیں ایسا نہیں، محل پر کھڑے ایک حوالدار نے اپنی خوفناک آواز میں گرج کر کہا. بادشاہ حضور پہلے مل لیا کرتے تھے لیکن آجکل ملکہ عالیہ نے انکے باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے. وہ ڈرتی ہیں اور نہیں چاہتیں کہ عمر چیمہ کی بدنام زمانہ ایک اور ٹویٹ کہیں سے سامنے آجائے.

تو کیا ہم ساری رات یہاں ہی کھڑے رہیں- ہجوم میں شامل چند نوجوان غصہ سے بولے. ٹھیک ہے اگر بادشاہ سلامت باہر نہیں آئینگے تو ہم یہیں انکے محل کے باہر رات گزاریں گے. لیکن خدا کیلئے ہمیں محل کے وائی فائی کا پاسورڈ تو بتا دیا جائے.

محل کے گرد نواح میں انٹرنیٹ استعمال کرنا منع ہے. ایک اور محل کا حوالدار بولا. لیکن تم چاہو تو اپنے موبائل سرکاری کھمبے سے چارج کر سکتے ہو. جب محل کی بتی کٹی تھی تو باغ کی تمام لائٹس یہیں سے جلائی جاتی تھیں.

نہیں شکریہ . ہمارے پاس Q موبائل ہے جو 30 گھنٹے سے زاید چلتا ہے. نوجوانوں نے جل کر جواب دیا.

ابھی یہ بات جاری تھی کہ اچانک حکومت کی کچھ گاڑیاں وہاں آکر رکیں. تمام لوگوں نے گاڑیوں کو محل کے اندر جانے کا رستہ دے دیا. مگر ایک صاحب سرکاری کار کی پچھلی سیٹ سے اترے اور بزرگوں کے پاس جاکر سلام کیا اور بولے کہ میرا نام اعظم سواتی ہے اور مجھے بادشاہ سلامت نے آپ لوگوں سے مذاکرات کے لئے بلوایا ہے.

لیکن کیوں – ہم تو صبح بادشاہ سلامت سے ملکر جائیں گے تو پھر ان مذاکرات کی کیا ضرورت ہے. احتجاج کیلئے آئے لوگوں میں ایک دم بےچینی پھیل گئی اور وہ اضطراب کے عالم میں اک دوسرے کو ناروا اشارے کرنے لگے. قریب تھا کہ کچھ نوجوان انکے اشاروں کا ترجمہ کرتے اور اعظم سواتی صاحب کو جانے کا بولتے مگر اچانک حکومتی اہلکاروں نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور سواتی صاحب کو بات مکمل کرنے کیلئے کہا.

سواتی صاحب کے کہ چہرے پر کچھ اطمینان نظر آیا اور وہ دوبارہ بزرگوں کی طرف متوجہ ہوئے. دیکھئے بادشاہ سلامت کا خیال ہے کہ رات کے اس پہر اتنے لوگوں کا یہاں موجود ہونا خطرناک ہو سکتا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو شور کی آواز سے انکی بیگم کی نیند میں خلل آئے. اور ویسے بھی یہاں سے انکے بیڈ روم کی کھڑکی صاف دکھائی دیتی ہے.

سواتی صاحب یہ کیا کہہ رہے ہو، ایک حوالدار بھاگا ہوا آیا اور انکو کھینچتا ہوا ایک طرف لے گیا. سر آپ ان لوگوں کو کیسی باتیں بتا رہے ہیں. یہ کھڑکی والی بات بتانے کی کیا ضرورت تھی. اب تو وہ لوگ لازمی یہاں سے واپس نہیں جائیں گے.

اور ویسے بھی بادشاہ سلامت اس وقت گرم حمام کے باہر تولیہ لیے بیگم کا انتظار کر رہے ہونگے. اور انہوں نے سختی سے تمام ملازموں کو حمام کے پاس جانے سے منع کر رکھا ہے.

اوہ واقعی. غلطی ہو گئی. سواتی صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا. یار بادشاہ سلامت کو مت بتانا کہ میں نے یہ بات کی ہے.

ٹھیک ہے نہیں بتاتا. بس اب آپ یہاں سے نکلیں اور بادشاہ سلامت کو کہہ دیں کہ یہ لوگ یہاں سے نہیں جائیں گے. حوالدار نے انکو مشورہ دیتے ہوئے کہا.  بادشاہ حضور صبح جاگنگ کیلئے نکلیں گے تواتنے لوگ دیکھ کر شائد خوش ہوجائیں اور ایک عدد تقریر بھی کردیں.

سواتی صاحب نے شکریہ ادا کیا اور قبیلے کے لوگوں کو ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا اور واپس اپنی کار میں چلے گئے.

ڈرائیور نے کار سٹارٹ کی اور سواتی صاحب سے پوچھا کہ واپس چلنا ہے یہ یہیں بیٹھ کر گپ شپ لگانی ہے. پاگل ہو گئے ہو کیا. میں کیا تمہارے ساتھ گپ شپ لگاؤں گا. سواتی صاحب کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا اور غصہ سے ڈرائیور کو کار چلانے کااشارہ کیا.

سوری جناب.  آپ اکثر بیگم سے بےعزتی کروا کر میرے ساتھ کچھ دیر باتیں کرکے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں. مجھے لگا کہ ابھی بےعزتی کرواکر شائد آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہے ہوں. ڈرائیور سہمے ہوئے لہجہ میں بولا اور تیزی سے کار واپس وزرا کے محلات کی طرف مور لی.