ورَفَعْنَا لَكَ
ذِكْرَكَ
:قال رسول صلى
الله عليه وسلم
لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس
اجمعین
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں
اسے اس کے
والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں
والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں
پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر زی روح کی جان جان ہے - درود سلام ان پر کہ جن کی شان اور عظمت کا ادراک صرف اسی کو ہے جس نے انہیں پیدا فرمایا
سورہ یٰس پڑھتے مدتیں گزر گئیں اور اسے اتنا پڑھا کہ زبانی یاد ہو گئی مگر اس کا مفہوم تب عطا ہوا جب اک رات حضور داتا گنج بخش ہجویری کی بارگاہ سے متصل برآمدے میں اسکی تلاوت کر رہا تھا. آدھی رات کا وقت تھا کہ جب نظر آیت نمبر 76 پر رک گئی. ترجمہ پڑھا اور بار بار پڑھا اور پھر واپس پلٹا اور آیت نمبر 3 کا ترجمہ دیکھا. تفسیر دیکھی اور سورۂ یسین کی شان نزول پڑھکر دیکھی اور پھر الله کریم نے اس سورۂ مبارکہ کا اک ایسا نیا مفہوم عطا کیا کہ آج بھی جب اسکی تلاوت کرتا ہوں تو دل حضور ﷺ کی عظمت سے منور ہو جاتا ہے
مکہ کے کفار آقا علیہ اسلام کی نبوت کا انکار کیا کرتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آمنہ کے لعل ﷺ انکی باتوں سے رنجیدہ ہوجایا کرتے. الله کریم کو اپنے محبوب ﷺ کی رنجیدگی اس قدر گراں گزری کہ خود قسمیں کھا کھا کرحضور ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ الله کہ رسول ہیں
آپ بھی پڑھکر دیکھئے
وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ (2)
قسم ہے قران کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے
إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (3)
بےشک اے (محمدﷺ) آپ رسولوں میں سے ہو
پھر 72 مزید آیات میں ماضی میں گزرے انبیا کرام علیہ السلام کے قصے بیان فرمائے. پھر توحید و رسالت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا. پھر جنت اور جہنم کا ذکر فرمایا. اور پھر جب الله تعالی یہ سب کچھ بیان فرما چکا تو پھر آیت 76 میں حضور ﷺ سے مخاطب ہو کر دوبارہ ارشاد فرمایا
فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ
وَمَا يُعْلِنُونَ (76)
اے محبوب ﷺ ان کفار کی باتیں آپ ﷺ کو غم ناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے
الله کی شان اس سے کہیں تر بلند و بالا ہے کہ وہ اپنی بات کا یقین دلانے کیلئے قسمیں کھائے - لیکن یہاں مقصود حضور ﷺ کی دلجوئی تھی اور بلکل ایسا ہی انداز اپنایا جو کوئی اپنے محبوب کو منانے کیلئے اپناتا ہے
آپ کو یہ انداز بیان قران و حدیث میں اکثر ملے گا - کہیں حضور ﷺ کی اعلی ارفع شان کا ذکر ہوتا ہے اور کہیں آپ ﷺ کی رحمت اللعلمینی کا - کہیں آپ ﷺ کی زلفوں کی قسم کھائی جاتی ہے اور کہیں آپ ﷺ کے زمانے کی
کہیں یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ الله کریم آپ ﷺ کو امت کے معاملے میں خوش کر دیگا اور کہیں خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے ذکر کو بلند فرما دیگا
ورَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند فرما دیا
الله رب العزت نے حضور ﷺ کا ذکر کس طرح بلند فرمایا اس پر بہت کچھ لکھا گیا اور کہا گیا اور قیامت تک لکھا اور کہا جاتا رہے گا - جب جہاں اللہ کریم کا ذکر ہوگا وہاں ذکر محمد ﷺ بھی لازمی ہوگا
اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند فرما دیا
الله رب العزت نے حضور ﷺ کا ذکر کس طرح بلند فرمایا اس پر بہت کچھ لکھا گیا اور کہا گیا اور قیامت تک لکھا اور کہا جاتا رہے گا - جب جہاں اللہ کریم کا ذکر ہوگا وہاں ذکر محمد ﷺ بھی لازمی ہوگا
حتی کہ منکر نکیرین جب قبر میں مردے سے پوچھتے ہیں کہ
تیرا رب کون ہے اور اگر وہ حالت ایمان میں فوت ہوا ہو اور وہ بتا بھی دے کہ اسکا
رب الله ہے تو سوال و جواب کا سلسہ تو یہیں ختم ہو جانا چاہئے اور دین کا کیوں
پوچھا جائیگا. لیکن اب حکم آ چکا کہ پوچھا جائیگا تو سر آنکھوں پر.
پوچھا جائیگا. تیرا دین کیا ہے. مرنے والا گر دین اسلام پر فوت ہوا ہے تو وہ پکار اٹھے گا کہ اسکا دین اسلام ہے.
رب اگرالله کی ذات ہے اور دین اسلام ہے، تو پھر کسی اور سوال کی گنجائش کہاں بچتی ہے. لیکن اگر رب تعالی نے فرما دیا کہ وہ اپنے محبوب ﷺ کا ذکر بلند فرمائے گا تو کیسے ہو سکتا ہے کہ یہاں اسکی توحید کا ذکر تو ہو مگرآپ ﷺ کی شان رسالت کا ذکر نہ ہو
آپ ﷺ تشبیہہ مبارک دکھائی جائیگی اور یا ایک اور عقیدے کے مطابق آپ ﷺ خود قبر میں تشریف لائیں گے اور منکر نکیرین مرنے والے سے پوچھیں گے کہ وہ حضور پرنور ﷺ کے متعلق دنیا میں کیا کہا کرتا تھا - یہ وہ مقام فکر ہے جہاں میں آپ کو لانا چاہ رہا تھا
آپ ﷺ تشبیہہ مبارک دکھائی جائیگی اور یا ایک اور عقیدے کے مطابق آپ ﷺ خود قبر میں تشریف لائیں گے اور منکر نکیرین مرنے والے سے پوچھیں گے کہ وہ حضور پرنور ﷺ کے متعلق دنیا میں کیا کہا کرتا تھا - یہ وہ مقام فکر ہے جہاں میں آپ کو لانا چاہ رہا تھا
رب الله کی ذات ہے، دین اسلام ہے مگر یہ سب کہنے کے بعد بھی دنیا میں حضور ﷺ کے متعلق جو خیالات تھے انکا حساب دینا ہوگا. نور و بشر کے جھگڑوں میں الجھے ذہنوں کو اپنے آپ کو اسی دنیا میں وہ اعتدال کا رستہ اپنانا ہوگا جو انہیں منکر نکیرین کے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے میں مددگار ہو سکے
میری دعا ہے کہ فرشتے جب مجھ سے یہ سوال کریں تو میری
زبان پر درود شریف جاری ہوجائے. اور بلکہ اگر قسمت کی یاوری ہو تو فرشتوں کو
وہ جواب دوں جو امام احمد رضا خان صاحب فرما گئے تھے.
قبر میں سرکار آئیں تو میں قدموں میں جھکوں
گر فرشتے بھی اٹھائیں تو میں ان سے یہ کہوں
اب تو پائے ناز سے میں اے فرشتو کیوں اٹھوں
مر کے پہنچا ہوں یہاں اس دلربا کے واسطے
آمین