Thursday, 19 October 2017

اگالدان



اصل کھیل، اصل کھلاڑی اور تاریخ کا اگالدان 

نوازشریف سے پوچھا جا رہا تھا کہ اس کے بچوں نے لندن کے فلیٹ کیسے لئے. اسکے بچے بتانے کو اور حساب کتاب دینے کو تیار تھے. مگر مکمل کیس کو ایسے چلایا گیا کہ مقدمہ کے اختتام پر نوازشریف کرپٹ ثابت ہو یا نہ ہو اسکا ووٹ بینک ضرور خراب ہو جائے

یہاں ججوں کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ نواز شریف پر کوئی الزام بھی ثابت نہ ہوسکا مگر اسے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کہنے والے ججوں اور انکے سہولت کاروں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ موجود نہ تھا اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کیلئے بیٹے سے نہ لی جانے والی تنخواہ کو بنیاد بناتے ہوئے میاں صاحب کو نااہل قرار دیکر انہیں جس قدر سیاسی نقصان پہنچا سکتے تھے اسکی انہوں نے مقدور بھر کوشش کی

یہاں ان ججوں سے یہ غلطی ہوگئی کہ وہ بھول گئے کہ پاکستانی عوام کا سیاسی شعور بہت بلند ہوچکا ہے اور انہتائی غیرموافق حالات کے باوجود انہوں نے میاں صاحب کی پنڈی سے لاہور ریلی اور حلقہ این اے 120 میں اپنے ووٹ کے ذریعہ اسکا برملا اظہار بھی کیا

اب آئیے عمران خان کی طرف
تھو تھو تھو

معذرت دوستو
 عمران خان کا تصور آتے ہی اس پر تھوکنے کو دل کرتا ہے

عمران خان پر اپنے اثاثے چھپانے کا مقدمہ ہے. اگر تیسری دفعہ وزیراعظم بننے والا میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے باوجود نہ لی جانے والی دس ہزار درہم تنخواہ پر نااہل ہو سکتا ہے تو عمران خان کے جرم کی نوعیت تو بہت سنگین تھی

 اس نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ ٹیکس چوری کرنے کیلئے اپنا اربوں روپے مالیت کا بنی گالہ محل بیوی کا تحفہ ظاہر کیا اور اپنی باقی تمام جائیداد اس باپ کی وراثت ظاہر کی جو اپنی تنخواہ سے انہیں خریدنے کی سکت نہ رکھتا تھا

عمران خان کے مقدمہ میں اسکی نااہلی تو نوشتہ دیوار تھی مگر بھوٹانی ججوں کا کمال دیکھیں کہ انہوں نے پارٹی فنڈز میں گھپلہ، ہسپتال کی زکات وخیرات میں کرپشن، کرکٹ میچز پر جوا اور سٹہ بازی اور امیر عورتوں سے پیسے کیلئے شادی کرنے جیسے گناہوں میں لتھڑے عمران خان کی ڈرائی کلیننگ شروع کردی

وہ بجائے اس پہلو پر غور کرتے کہ عمران خان نے کہیں ہسپتال کے فنڈز سے تو اپنے اثاثے نہیں بنائے، یا اس نے پارٹی کے فنڈز اپنی ذات پر تو خرچ نہیں کیے، بھوٹان کے ان جج حضرات نے پوری بھوٹانی قوم کو عمران خان اور اسکی سابقہ بیوی جمائمہ کے درمیان ہونے والے لین دین کے پیچھے لگا دیا ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ عمران خان کے وہ ووٹرز اور سپورٹرز جو پیدائشی طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں وہ مایوس ہوکر جرومِ یروشلم سے ایسے سوال پوچھنا نہ شروع کردیں جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے

مثلاّ اگر اسکے سپورٹرز عمران خان سے یہ پوچھیں کہ جناب آپ ہمیں خود داری کا سبق دیتے ہیں، لیکن آپ اپنی بیٹی اور بیٹوں کو خود پالنے کی بجائے انہیں اپنے سابقہ یہودی سسرال کے اس مال پر کیوں پال رہے ہیں جو آپ کیلئے حرام ہے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جاسکے کہ جناب آپ کے بچے اس یہودی خاندان میں کیوں پرورش پارہے ہیں جہاں شراب اور لحم خنزیر کا استعمال حلال ہے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ کیا کوئی مسلمان پاکستانی اتنا بغیرت ہوسکتا ہے کہ اسکے سگے بیٹے اور بیٹی اسکی سابقہ غیر مسلم بیوی کے گھر یہودی مال پر پرورش پائیں اور وہ اس پر فخر محسوس کرے؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ کیا اسے طلاق کے بعد بھی اپنی بیوی سے پیسے مانگتے شرم نہیں آتی اور کیا اسے یہ سوچ کر اپنے وجود سے گھِن نہیں آتی کہ اسکے بچے یہودیوں کے صدقات اور خیرات پر پل رہے ہیں؟

اور اگر عمران خان سے پوچھا جائے کہ آپ کے بچے کعبہ کی طرف منہ کرکے پانچ نمازیں پڑھتے ہیں کہ یروسشلم کی طرف منہ کرکے تین نمازیں پڑھتے ہیں اور یا پھر وہ ہر اتوار چرچ کی گھنٹیاں بجا کر ہی روحانیت کے مدارج طے کر رہے ہیں

جناب یہی سوالات ہیں جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے معزز عدلیہ کے ججوں نے عمران خان کو بدکردار، جواری اور دھوکہ باز کہنے کی بجائے اسکے تمام گناہوں کو میاں بیوی کے درمیان معاملات کا رنگ دے دیا ہے

یارو – یہ عمران خان کی ذاتی زندگی ہے اور ہمیں شائد یہ سوال نہیں پوچھنے چاہیئیں لیکن اگر اسے پاکستان کا وزیراعظم بننے کا شوق ہے تو اسے کبھی نہ کبھی ان سوالوں کا جواب لازمی دینا ہوگا

کاش کوئی شخص سپریم کورٹ کی اگلی پیشی میں اک آئنہ اپنے ساتھ لے جائے اور ججوں سے کہے جناب پہلے آپ نوازشریف کا چہرہ آلودہ کرنا چاہ رہے تھے اور اب  آپ عمران خان کے چہرے سے غلاظت صاف کرنا چاہ رہے ہیں لیکن اس آئنہ میں اپنا چہرہ دیکھیں کہ اصل میں آپ نے اپنے ہی چہرے کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ آنے والی نسلیں جب پاکستان کی تاریخ پڑھیں گی تو وہ آپکے نام اور منہ پر اتنا تھوکیں گے کہ آپ کا چہرہ تاریخ میں اگالدان  (spittoon) کی حیثیت اختار کر جائے گا