محرم کا وہ دن آ پہنچا
وہ شام، وہ رات اور
وہ لمحات آپہنچے
آج ہی کے دن پیارے آقا صل الله علیہ وسلم کے اہل
بیت میدان کربلا میں تین دن کی بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد اللہ کریم کی
مقدس بارگاہ میں اپنی پاک جانوں کا نذرانہ لئے پیش ہوئے ہونگے
ان اہل بیت میں
بچے بھی تھے
جوان بھی تھے
بوڑھے بھی تھے
آج سب کا خیال آتا ہے اور دل بھر آتا ہے
مگر جب چھ ماہ کے ننھے شہزادے علی اصغر کا خیال
آتا ہے تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں
دوستو
ہم اس دور میں موجود نہ تھے
جن لوگوں نے وہ وقت دیکھا ہوگا
وہ آج ہم میں موجود نہیں
کاش کوئی بتا سکتا
کہ جب دریائے فرات کے کنارے آل نبی ﷺ کے جلتے خیموں کی تمازت پھیلی اور انکی راکھ ہوا کے دوش اڑتی پھر رہی ہوگی تو سبز گنبد کے مکین ﷺ کے نواسے کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی
کاش کوئی بتا سکتا
کہ جوان سال علی اکبر کی والدہ نے جب اپنے جگر
کے ٹکرے کو مقتل کی جانب رخصت کیا تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی
دوستو
غور کریں تو آج اس کائنات میں سورج اور چاند کے
سوا اور کوئی نہیں جو سانحہ کربلا کا عینی شاہد ہو
تو آؤ
اک لمحہ کیلئے
آسمان پر روشن چاند اور سورج سے پوچھتے ہیں
کہ آج چودہ صدیاں گزر گئیں
تم نے تو کربلا کے مقتل میں وہ دن اور وہ راتیں حسین
کے ساتھ گزاری تھیں
تم آج چودہ سو سال بعد بھی ہر روز کربلا کے ان
ریگزاروں کو سلام کرکے آتے ہو
یہ تو بتاؤ کہ تب تم نے ایسا کیا دیکھا تھا
جو اس پہلے اور اسکے بعد کبھی نہ دیکھا ہو
اے چاند تجھ سے شروع کرتے ہیں
تو بتا
تجھے ان راتوں کی قسم
جب آمنہ کے لعل ﷺ اپنے پنگھوڑے
میں لیٹے تجھ سے کھیلا کرتے تھے
ہمیں بتا کہ کربلا کے میدان میں تو نے کیا دیکھا تھا
یارو
گر سن سکتے
تو گنبد خضری اور مزار حسین پر ہر روز حاضری
دینے والے چاند کی زبان سے اس کا گریہ سن لیتے
وہ ہمیں بتاتا کہ
اس روز میں جب کربلا کے میدان میں اترا
تو وہ رات ہی کا کوئی پہر تھا
اور مجھے رخ مصطفی ﷺ کی قسم
میں نے وہاں بھی رخ مصطفی ہی دیکھا
میں جس حسین کو کونین کے مالک ﷺ کے کندھوں پرسوار
دیکھا کرتا تھا، اس دن میں نے انہیں کربلا میں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے دیکھا
یہ کہہ کر اگر چاند خاموش ہوجائے تو یہ مت سمجھنا کہ اس کے پاس بتانے کو کچھ نہیں بلکہ یہ سمجھ جانا کہ اسکا حوصلہ جواب دے گیا ہے
یہی سوال گر سورج سے بھی پوچھیں کہ اس نے بھی وہ
منظر اپنی بوڑھی مگر جہاندیدہ آنکھوں سے دیکھا ہوگا
کیا اسے آج یہ یاد ہے کہ
اس نے کربلا کے میدان میں کیا دیکھا
گر سورج کو قوت گویائی مل جائے
تو وہ
بتائے گا کہ
میں نے آدم کا زمین پر اترنا دیکھا
میں نے ابراہیم کا آگ میں کودنا دیکھا
میں نے نوح کا طوفان بھی دیکھا
میں نے موسی کو کوہ طور پراللہ سے ہم کلام بھی دیکھا
میں نے عیسی کو صلیب پر چڑھتے دیکھا
میں نے اک نگاہ محمد ﷺ سے قبلہ بھی بدلتا دیکھا
میں نے اک نگاہ محمد ﷺ سے قبلہ بھی بدلتا دیکھا
میں نے یہ سب دیکھا
اور پھر وہ دن بھی آ پہنچا
جب میں نے وہ دیکھا
جو اس سے پہلےمیں نے نہ دیکھا تھا
میں نے دیکھا
کہ جس نبی رحمت نے اپنی امت سے روز محشر انکو حوض کوثر سے پانی پلانے کا وعدہ کر رکھا ہے اسی نبی ﷺ کی اسی امت نے اسکے بچوں کا تین دن سے پانی بند کر رکھا تھا
کہ جس نبی رحمت نے اپنی امت سے روز محشر انکو حوض کوثر سے پانی پلانے کا وعدہ کر رکھا ہے اسی نبی ﷺ کی اسی امت نے اسکے بچوں کا تین دن سے پانی بند کر رکھا تھا
ان تین دنوں میں
میں نے بہت کچھ دیکھا
میں نے بہت کچھ دیکھا
ہر چیز یاد ہے
مگر وہ لمحہ نہیں بھولتا جب میں نے حسین کو بازوؤں
میں اپنے چھ ماہ کے لخت جگر کو اٹھائے میدان کربلا میں آتے دیکھا
میں نے دیکھا
کہ حسین نے یزید کے لشکر سے چھ ماہ کے بچے کیلئے
پانی مانگا اور جواب میں تیروں کی بوچھاڑ ہوئی اور اک تیر ننھے شہزادے کے پیاس سے
سوکھے حلق کے آر پار ہوگیا
میں حیرت میں آگیا
اور صدیوں میں اسی حیرت کا شکار رہا کہ
حسین نے یزیدی لشکر سے پانی کیوں مانگا
مالک حوض کوثر ﷺ کا نواسہ اگر یزیدی لشکر کی
بجائے الله سے پانی مانگتا تو مجھے عصائے موسی کی قسم دریائے فرات کا پانی خود چل
کر آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتا
میں نے بہت سوچا
اور پھر صدیوں بعد سمجھ آئی کہ
مقصد پانی یا پیاس کا بجھانا نہ تھا
مقصد اپنی سب سے قیمتی شئے کو الله کی بارگاہ
میں قربان کرنا تھا
گر حسین اس روز اپنے شہزادے کو اپنے بازوؤں میں تھامے خیمے سے باہر میدان
جنگ میں نہ لاتے تو ہو سکتا تھا کہ
جنگ ختم ہوجاتی
اور لشکر یزید ننھے علی اصغر کو دودھ پیتا بچہ
سمجھ کر انہیں شہادت سے محروم کر دیتا
یارو
میرا دل کہتا ہے کہ
ہمیں شعور نہیں
ہم سمجھ نہیں سکتے
ہمیں سن نہیں سکتے
ورنہ ہمیں آج کائنات کا ہر اک زرہ حسین حسین
کہتا ہوا سنائی دیتا. میری اس بات سے کسی کو گر کسی خاص فقہہ کی بو آتی ہو تو
مہربانی فرما کر درگرز فرمادیں
لیکن یہ سچ ہے
کہ حسین ہم سب کے ہیں
حسین ہمارے لئے کربلا کے میدان میں شہید ہوئے
گر وہ شہید نہ ہوتے
اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان دین پر قربان نہ کرتے تو شاید خود تو بچ جاتے مگر انکے نانا ﷺ کا دین شہید ہوجاتا
گر وہ شہید نہ ہوتے
اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان دین پر قربان نہ کرتے تو شاید خود تو بچ جاتے مگر انکے نانا ﷺ کا دین شہید ہوجاتا

No comments:
Post a Comment