بنی گالہ کا محل - حصہ سوئم
اک سناٹے کا عالم تھا – ایسے لگتا تھا کہ زمین آسمان کو اوڑھے گہری نیند سو رہی ہے. دن بھر کے معمولات سے تھکے لوگ آنے والے کل کی صعوبتوں سے بےخبر اپنے اپنے انجانے خوابوں میں مگن سو رہے تھے. ایسے میں اچانک محل کے اک حصہ سے بادشاہ سلامت کے اپنے خیراتی ہسپتال کے بجٹ سے خریدے گئے موبائل فون پر اونچی اونچی بات کرنے کی آواز سنائی دینے لگی. ایسے لگتا تھا کہ جہاں پناہ کسی سرکاری افسر پر برس رہے تھے. کچھ دیر بعد فون بند ہوا تو ملکہ عالیہ کمرہ میں داخل ہوئیں اور بادشاہ سلامت سے اپنی جان کی امان طلب کرتے ہوئے عرضگزار ہوئیں – میرے سرتاج – اتنی رات گئے یہ ہنگامہ سا کیسا برپا تھا. نصیب دشمناں – آپکی طبیعت تو خراب نہیں ہے
ہاں ہاں میں ٹھیک ہوں – مجھے کیا
ہونا ہے. بادشاہ سلامت نے بےزاری سے اپنی بیگم کے لہجہ میں چھپے استفسار کو نظر
انداز کرتے ہوئے جواب دیا اور ٹی وی کی بند آواز کو کھول دیا. اوئے یہ دیکھو –
کراچی ایئر پورٹ پر جہاز یمن سے پاکستانی لیکر آیا ہے– میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ تمام چینلز اس خبر کو بار بار کیوں دکھا رہے ہیں. ہر روز بیسیوں
فلائٹس کراچی ائیرپورٹ پر اترتی ہیں مگر ٹی وی پر کبھی بھی ایسے خبر نہیں چلتی.
میں کئی سال سے ترین کا جہاز لیکر گھومتا رہتا رہا– آخر اس میں ایسی کیا بات ہے.
اور آج تو 10 گھنٹے ہو گئے ہیں کسی چینل نے مرے نام سے کوئی بریکنگ نیوز نشر نہیں
کی. بادشاہ سلامت کی آواز میں انکی جھنجھلاہت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی
ملکہ عالیہ نے ایک گہرا سانس لیا
اور بچوں کے کمروں سے آتی انکی ہلکی ہلکی ہنسنے کی آواز کو نظر انداز کرنے کی کوشش
کرتے ہوئے اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر غور کرنے لگیں
کچھ ساعتیں گزریں تو بادشاہ سلامت کی بیچینی کو دیکھتے ہوئے دوبارہ عرض کرنے کی جسارت کا ارادہ کیا اور چند قدم چل کر بادشاہ سلامت کے سامنے مغلیہ سلام عرض کیا اور بولیں. حضور آپکی بیچنی بے سبب نہیں ہے اور مجھے ڈر ہے کہ نصیب دشمناں آپکی طبیعت کہیں خراب نہ ہو جائے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم اگلی ہی فلائٹ سے کراچی چلے جاتے ہیں
نہیں ملکہ عالیہ – بخدا ہمیں میڈیا کے سامنے رہنے کا بہت شوق ہے مگر حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہم عام پبلک میں جانے کا خطرہ مول لے سکیں. بدتمیز لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو مجھے دیکھتے ہی جگتیں لگانے لگتے ہیں. اوئے میں تو سادہ جگت برداشت نہیں کرتا اور وہ جاہل گنوار پینڈو پاکستانی مجھے فیصل آبادی جگتیں بھی لگانی شروع کر دیتے ہیں
اب تم خود ہی بتاؤ---- بادشاہ سلامت نے مثال دیتے ہوئے کہا. جب مجھے نیولا ہی کہہ دیا ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ مجھے یہودی نیولا بھی کہا جائے
ملکہ عالیہ نے بادشاہ سلامت کے چہرے پر کرب کے آثار دیکھے تو خود بھی غمگین ہوگئیں. جی بادشاہ سلامت یہودیوں کے کھوتے والی بات تو میں نے بھی سنی تھی اور سوچتی تھی کہ خالی کھوتے پر تو آپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر یہودییوں کا کھوتا کہنے کی واقعی کیا ضرورت تھی مگر.... آپ انکے متعلق نہ سوچیں اور... سونے کی کوشش کریں - بندی آپکے سر کی مالش کر دیتی ہے. ملکہ عالیہ نے موضوع بدلنے کیلئے بادشاہ سلامت کے سر کو ہاتھ سے دباتے ہوئے کہا
کچھ ساعتیں گزریں تو بادشاہ سلامت کی بیچینی کو دیکھتے ہوئے دوبارہ عرض کرنے کی جسارت کا ارادہ کیا اور چند قدم چل کر بادشاہ سلامت کے سامنے مغلیہ سلام عرض کیا اور بولیں. حضور آپکی بیچنی بے سبب نہیں ہے اور مجھے ڈر ہے کہ نصیب دشمناں آپکی طبیعت کہیں خراب نہ ہو جائے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم اگلی ہی فلائٹ سے کراچی چلے جاتے ہیں
نہیں ملکہ عالیہ – بخدا ہمیں میڈیا کے سامنے رہنے کا بہت شوق ہے مگر حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہم عام پبلک میں جانے کا خطرہ مول لے سکیں. بدتمیز لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو مجھے دیکھتے ہی جگتیں لگانے لگتے ہیں. اوئے میں تو سادہ جگت برداشت نہیں کرتا اور وہ جاہل گنوار پینڈو پاکستانی مجھے فیصل آبادی جگتیں بھی لگانی شروع کر دیتے ہیں
اب تم خود ہی بتاؤ---- بادشاہ سلامت نے مثال دیتے ہوئے کہا. جب مجھے نیولا ہی کہہ دیا ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ مجھے یہودی نیولا بھی کہا جائے
ملکہ عالیہ نے بادشاہ سلامت کے چہرے پر کرب کے آثار دیکھے تو خود بھی غمگین ہوگئیں. جی بادشاہ سلامت یہودیوں کے کھوتے والی بات تو میں نے بھی سنی تھی اور سوچتی تھی کہ خالی کھوتے پر تو آپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر یہودییوں کا کھوتا کہنے کی واقعی کیا ضرورت تھی مگر.... آپ انکے متعلق نہ سوچیں اور... سونے کی کوشش کریں - بندی آپکے سر کی مالش کر دیتی ہے. ملکہ عالیہ نے موضوع بدلنے کیلئے بادشاہ سلامت کے سر کو ہاتھ سے دباتے ہوئے کہا
بادشاہ سلامت نے ملکہ عالیہ کا ہاتھ ایک طرف ہٹایا اور اسے
ہاتھ کے اشارے سے دور رکھی کرسی پر بیٹھنے کو کہا. اوئے ملکہ – تم یہ بتاؤ - تمہیں
سر کی مالش بھی کرنی آتی ہے. مجھے تو لگتا ہے کہ میں نے تم سے جس کام کیلئے شادی
کی تھی تمہیں اس کام کے علاوہ ہر کام آتا ہے
ملکہ عالیہ بادشاہ سلامت کے سامنے سے ہٹ گئیں اور عرض کی کہ حضور میں تو صرف آپکا دل بہلانے کیلئے کہہ رہی تھی ورنہ تو آپکی وگ کی وجہ سے آپکے سر کی مالش ممکن ہی نہیں. اگر آپ کو اچھا نہیں لگا تو معاف کر دیجیے
بادشاہ سلامت نے ملکہ کے چہرے پر تشویش کے آثار دیکھے تو دل میں کچھ رنج سا ہوا اور اپنے کان کے اوپر سے سگریٹ پکڑ کر ملکہ کو ماچس یا لائٹر ڈھونڈھنے کا اشارہ کیا. ملکہ عالیہ نے فوراً اپنے لباس سے لائٹر نکالا اور بادشاہ سلامت کی طرف اچھال دیا. بادشاہ سلامت نے لائٹر کیچ کیا اور سگریٹ جلا کر حیرت سے پوچھا ....اوئے تم لائٹر ہر وقت جیب میں رکھتی ہو . ملکہ عالیہ شرما گئیں اور بولیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں مجھے لگا کہ شائد آپ کسی بھی وقت مانگ لیں اسی لئے اسے اپنے ساتھ رکھا تھا. اور ویسے بھی یہ میری جیب نہیں ہے
ملکہ عالیہ بادشاہ سلامت کے سامنے سے ہٹ گئیں اور عرض کی کہ حضور میں تو صرف آپکا دل بہلانے کیلئے کہہ رہی تھی ورنہ تو آپکی وگ کی وجہ سے آپکے سر کی مالش ممکن ہی نہیں. اگر آپ کو اچھا نہیں لگا تو معاف کر دیجیے
بادشاہ سلامت نے ملکہ کے چہرے پر تشویش کے آثار دیکھے تو دل میں کچھ رنج سا ہوا اور اپنے کان کے اوپر سے سگریٹ پکڑ کر ملکہ کو ماچس یا لائٹر ڈھونڈھنے کا اشارہ کیا. ملکہ عالیہ نے فوراً اپنے لباس سے لائٹر نکالا اور بادشاہ سلامت کی طرف اچھال دیا. بادشاہ سلامت نے لائٹر کیچ کیا اور سگریٹ جلا کر حیرت سے پوچھا ....اوئے تم لائٹر ہر وقت جیب میں رکھتی ہو . ملکہ عالیہ شرما گئیں اور بولیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں مجھے لگا کہ شائد آپ کسی بھی وقت مانگ لیں اسی لئے اسے اپنے ساتھ رکھا تھا. اور ویسے بھی یہ میری جیب نہیں ہے
چلو جو بھی ہے اچھا ہے کوئی تو
فائدہ ہے اسکا. بادشاہ سلامت نے مسکراتے ہوئے کہا اور گہرے کش لگا کر ٹی وی کی طرف
دوبارہ متوجہ ہو گئے. اتنے میں موبائل پر دوبارہ کسی کی کال آئی. فون اٹھایا تو
دوسری طرف وہی سرکاری افسر تھا- بادشاہ سلامت نے ہیلو کہا اور اسکی بات سننے لگے.
کچھ ہی دیر میں چہرے کی رنگت بدل گئی – غصہ کے عالم میں جلتے ہوئے سگریٹ کو ملکہ
عالیہ کی طرف پھینک دیا اور اسے اشارہ کیا کہ اسے بجھنے نہ دے اور پھر دوبارہ فون
پر دھاڑنے لگے
اوئے، تم سب لوگ سن لو. اگر اسلام آباد کوئی جہاز اس وقت آیا تو میں تمہیں اپنے ہاتھ سے پھانسی دونگا. مگر بادشاہ سلامت اس میں ہماری کیا غلطی ہے. افسر نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا. میں تو صرف آپکو بتا رہا ہوں کہ یمنی پاکستانیوں کا دوسرا جہاز اسلام آباد ہی لینڈ کرے گا. مگر کیوں – بادشاہ سلامت کا خون کھولنے لگا. یہ تو سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال ہے. اگر ایک جہاز کراچی لینڈ ہوا ہے تو دوسرا جہاز اسلام آباد کیوں لینڈ کریگا. اوئے بیوقوفو تم سمجھتے کیوں نہیں – یہ یمنی پاکستانی نہیں ہیں حکومت کے پٹواری ہیں جو حکومت نے جان بوجھ کر یمن بھجوائے تھے تاکہ انکو واپس لاکر ائرپورٹس پر نعرے لگوائے جا سکیں. بادشاہ سلامت خاموش ہوئے تو انہیں محسوس ہوا کہ دوسری طرف کوئی بھی لائن پر نہیں تھا. شائد فون کا رابطہ منقطع ہو چکا تھا
اوئے، تم سب لوگ سن لو. اگر اسلام آباد کوئی جہاز اس وقت آیا تو میں تمہیں اپنے ہاتھ سے پھانسی دونگا. مگر بادشاہ سلامت اس میں ہماری کیا غلطی ہے. افسر نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا. میں تو صرف آپکو بتا رہا ہوں کہ یمنی پاکستانیوں کا دوسرا جہاز اسلام آباد ہی لینڈ کرے گا. مگر کیوں – بادشاہ سلامت کا خون کھولنے لگا. یہ تو سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال ہے. اگر ایک جہاز کراچی لینڈ ہوا ہے تو دوسرا جہاز اسلام آباد کیوں لینڈ کریگا. اوئے بیوقوفو تم سمجھتے کیوں نہیں – یہ یمنی پاکستانی نہیں ہیں حکومت کے پٹواری ہیں جو حکومت نے جان بوجھ کر یمن بھجوائے تھے تاکہ انکو واپس لاکر ائرپورٹس پر نعرے لگوائے جا سکیں. بادشاہ سلامت خاموش ہوئے تو انہیں محسوس ہوا کہ دوسری طرف کوئی بھی لائن پر نہیں تھا. شائد فون کا رابطہ منقطع ہو چکا تھا
دیکھا ملکہ عالیہ لوگ کیسے مجھ سے
ڈرتے ہیں – بادشاہ سلامت نے ملکہ سے سگریٹ واپس لیتے ہوئے کہا. ایک کش لگاتے ہی
سگریٹ کر دھنوے کے ساتھ لپسٹک کا مانوس سا ذائقہ بھی محسوس ہوا – ملکہ کی طرف غصہ
سے دیکھا جو ٹی وی دیکھنے میں مگن تھیں – اوئے تم یہ لپسٹک بدل کیوں نہیں لیتیں.
کتنی دفعہ کہا ہے اسکا ذائقہ خراب ہے اور سگریٹ خراب ہو جاتا ہے. اور ویسے بھی
پارٹی کے باقی لوگ بھی اسکی شکایت کر چکے ہیں
ملکہ نے حیرت سے بادشاہ سلامت کو دیکھا اور پھر کمرے میں لگے آئینہ میں اپنا عکس دیکھا اور پھر اپنی خفگی چھپاتے ہوئے گویا ہوئیں. جہاں پناہ – آپ نے ابھی شام کو فیشل اور میک اپ کروایا تھا اور شائد لپسٹک تبھی سے آپکے لبوں کے کچھ حصوں پر موجود ہے. اچھا ہوگا اگر آپ لپسٹک تبدیل کرنے کی ہدایت اپنی میک اپ آرٹسٹ کو بھی دے دیں
ملکہ نے حیرت سے بادشاہ سلامت کو دیکھا اور پھر کمرے میں لگے آئینہ میں اپنا عکس دیکھا اور پھر اپنی خفگی چھپاتے ہوئے گویا ہوئیں. جہاں پناہ – آپ نے ابھی شام کو فیشل اور میک اپ کروایا تھا اور شائد لپسٹک تبھی سے آپکے لبوں کے کچھ حصوں پر موجود ہے. اچھا ہوگا اگر آپ لپسٹک تبدیل کرنے کی ہدایت اپنی میک اپ آرٹسٹ کو بھی دے دیں
اوہ یہ دیکھو ٹی وی پر کیا دیکھا
رہے ہیں – بادشاہ سلامت نے جلدی سے موضوع کو بدلنے کیلئے ٹی وی کی آواز مزید اونچی
کردی. جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا ہے- یہ نہیں ہو سکتا – یہ جہاز بنی
گالہ کی فضائی حدود سے گزرتا ہوا پٹواریوں کو لیکر اسلام آباد ائیرپورٹ اتر گیا
اور اب اسلام آباد میں بھی نواز شریف زندہ باد کے نعرے گونجیں گے. اور یہ دیکھو
پرویز رشید . بادشاہ سلامت نے ملکہ کو ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. اوئے
آدھی رات کو یہ بندہ ان پٹواریوں کو لینے کے لئے ائیرپورٹ چلا گیا ہے . بہت ہی
شوخا اور کیمرہ کے سامنے رہنے کا شوقین آدمی ہے. اور اوپر سے ہر چینل اس وقت یہی
دکھا رہا ہے
مگر بادشاہ سلامت اس بندے نے آدھی رات کو کالا چشمہ کیوں
لگا رکھا ہے. ملکہ عالیہ اپنی حیرت کو نہ چھپا سکیں .– ایسی کوئی خاص وجہ نہیں ہے–
کسی بد بخت نے اسے بتا دیا ہے کہ میں ہر وقت ان لوگوں کو ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر
جلتا رہتا ہوں اور میری نظربد سے بچنے کیلئے انہیں کوئی نہ کوئی کالی چیز ہر وقت
ساتھ رکھنی چاہئے. بادشاہ سلامت نے جلدی جلدی چینلز بدلتے ہوئے جواب دیا. لیکن کالا
چشمہ تو اکثر آپ نے بھی لگایا ہوتا ہے, بلکہ آپ تو نماز پڑھتے ہوئے بھی چشمہ لگا کر رکھتے ہیں – ملکہ کے لہجہ میں حیرت کا عنصر مزید گہرا ہو گیا اور بے
ساختہ بول اٹھیں..... اوئے میری بات اور ہے، بادشاہ سلامت نے تلملاتے ہوئے جواب دیا.
کہاں پرویز رشید اور کہاں میں تمہارا موجودہ خاوند
ملکہ عالیہ نے اک گہری سانس لی اور سوچنے لگیں کہ موسم کی
خبریں سنانا اس قدر مشکل نہیں تھا جتنا بادشاہ سلامت کے موڈ کا اندازہ لگا کر بات
کرنا. موسم تو انسانوں کی طرح اتنی جلدی نہیں بدلتے مگر وہ پھر بھی بدنام ہی رہتے
ہیں
No comments:
Post a Comment