Monday, 16 March 2015

بنی گالہ کا محل اور گرم حمام








بنی گالہ کا محل اور گرم حمام – حصہ اول


بنی  گالہ محل کے باہر لوگوں کا اک جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا.رات کے اس پہر لوگ  بادشاہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنی فریاد سنانا چاہتے تھے. ایسے میں کچھ بزرگوں کو خیال آیا کہ بادشاہ سلامت آجکل ملکہ عالیہ کی زلفوں کے اسیر ہیں اور شائد اس وقت رات کو باہر آنا انکو ناگوار گزرے. انہوں نے مشورہ کیا اور قبیلے کے دیگر نوجوانوں کو محل کے باہر کھلی  آب و ہوا میں رات گزارنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صبح اٹھ کر ہم بادشاہ سلامت کے ساتھ ہی ناشتہ کریں گے اور اپنے مطالبے بھی انکے سامنے رکھیں گے.


نوجوانوں نے بزرگوں کے چہرے پہ پھیلی سنجیدگی کو دیکھا اور انکا جوش و جذبہ مایوسی میں بدل گیا. تو کیا یہ سچ ہے کہ اس وقت بادشاہ سلامت اپنی رعایا سے نہیں مل سکتے. انہوں نے تو وعدے کیے تھے کہ وہ ہر وقت ہمارے ساتھ رہا کریں گے.

نہیں ایسا نہیں، محل پر کھڑے ایک حوالدار نے اپنی خوفناک آواز میں گرج کر کہا. بادشاہ حضور پہلے مل لیا کرتے تھے لیکن آجکل ملکہ عالیہ نے انکے باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے. وہ ڈرتی ہیں اور نہیں چاہتیں کہ عمر چیمہ کی بدنام زمانہ ایک اور ٹویٹ کہیں سے سامنے آجائے.

تو کیا ہم ساری رات یہاں ہی کھڑے رہیں- ہجوم میں شامل چند نوجوان غصہ سے بولے. ٹھیک ہے اگر بادشاہ سلامت باہر نہیں آئینگے تو ہم یہیں انکے محل کے باہر رات گزاریں گے. لیکن خدا کیلئے ہمیں محل کے وائی فائی کا پاسورڈ تو بتا دیا جائے.

محل کے گرد نواح میں انٹرنیٹ استعمال کرنا منع ہے. ایک اور محل کا حوالدار بولا. لیکن تم چاہو تو اپنے موبائل سرکاری کھمبے سے چارج کر سکتے ہو. جب محل کی بتی کٹی تھی تو باغ کی تمام لائٹس یہیں سے جلائی جاتی تھیں.

نہیں شکریہ . ہمارے پاس Q موبائل ہے جو 30 گھنٹے سے زاید چلتا ہے. نوجوانوں نے جل کر جواب دیا.

ابھی یہ بات جاری تھی کہ اچانک حکومت کی کچھ گاڑیاں وہاں آکر رکیں. تمام لوگوں نے گاڑیوں کو محل کے اندر جانے کا رستہ دے دیا. مگر ایک صاحب سرکاری کار کی پچھلی سیٹ سے اترے اور بزرگوں کے پاس جاکر سلام کیا اور بولے کہ میرا نام اعظم سواتی ہے اور مجھے بادشاہ سلامت نے آپ لوگوں سے مذاکرات کے لئے بلوایا ہے.

لیکن کیوں – ہم تو صبح بادشاہ سلامت سے ملکر جائیں گے تو پھر ان مذاکرات کی کیا ضرورت ہے. احتجاج کیلئے آئے لوگوں میں ایک دم بےچینی پھیل گئی اور وہ اضطراب کے عالم میں اک دوسرے کو ناروا اشارے کرنے لگے. قریب تھا کہ کچھ نوجوان انکے اشاروں کا ترجمہ کرتے اور اعظم سواتی صاحب کو جانے کا بولتے مگر اچانک حکومتی اہلکاروں نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور سواتی صاحب کو بات مکمل کرنے کیلئے کہا.

سواتی صاحب کے کہ چہرے پر کچھ اطمینان نظر آیا اور وہ دوبارہ بزرگوں کی طرف متوجہ ہوئے. دیکھئے بادشاہ سلامت کا خیال ہے کہ رات کے اس پہر اتنے لوگوں کا یہاں موجود ہونا خطرناک ہو سکتا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو شور کی آواز سے انکی بیگم کی نیند میں خلل آئے. اور ویسے بھی یہاں سے انکے بیڈ روم کی کھڑکی صاف دکھائی دیتی ہے.

سواتی صاحب یہ کیا کہہ رہے ہو، ایک حوالدار بھاگا ہوا آیا اور انکو کھینچتا ہوا ایک طرف لے گیا. سر آپ ان لوگوں کو کیسی باتیں بتا رہے ہیں. یہ کھڑکی والی بات بتانے کی کیا ضرورت تھی. اب تو وہ لوگ لازمی یہاں سے واپس نہیں جائیں گے.

اور ویسے بھی بادشاہ سلامت اس وقت گرم حمام کے باہر تولیہ لیے بیگم کا انتظار کر رہے ہونگے. اور انہوں نے سختی سے تمام ملازموں کو حمام کے پاس جانے سے منع کر رکھا ہے.

اوہ واقعی. غلطی ہو گئی. سواتی صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا. یار بادشاہ سلامت کو مت بتانا کہ میں نے یہ بات کی ہے.

ٹھیک ہے نہیں بتاتا. بس اب آپ یہاں سے نکلیں اور بادشاہ سلامت کو کہہ دیں کہ یہ لوگ یہاں سے نہیں جائیں گے. حوالدار نے انکو مشورہ دیتے ہوئے کہا.  بادشاہ حضور صبح جاگنگ کیلئے نکلیں گے تواتنے لوگ دیکھ کر شائد خوش ہوجائیں اور ایک عدد تقریر بھی کردیں.

سواتی صاحب نے شکریہ ادا کیا اور قبیلے کے لوگوں کو ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا اور واپس اپنی کار میں چلے گئے.

ڈرائیور نے کار سٹارٹ کی اور سواتی صاحب سے پوچھا کہ واپس چلنا ہے یہ یہیں بیٹھ کر گپ شپ لگانی ہے. پاگل ہو گئے ہو کیا. میں کیا تمہارے ساتھ گپ شپ لگاؤں گا. سواتی صاحب کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا اور غصہ سے ڈرائیور کو کار چلانے کااشارہ کیا.

سوری جناب.  آپ اکثر بیگم سے بےعزتی کروا کر میرے ساتھ کچھ دیر باتیں کرکے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں. مجھے لگا کہ ابھی بےعزتی کرواکر شائد آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہے ہوں. ڈرائیور سہمے ہوئے لہجہ میں بولا اور تیزی سے کار واپس وزرا کے محلات کی طرف مور لی.

17 comments:

  1. کمال لکھا ہے جی، ہاہاہا

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ خواجہ صاحب

      Delete
    2. واہ راحیل بھائی کیا خوب لکھا ہے

      Delete
    3. واہ راحیل بھائی کیا خوب لکھا ہے

      Delete
  2. واہ شارٹ نوٹس پہ زبردست کاوش

    ReplyDelete
    Replies
    1. واقعی
      صرف ایک ٹویٹ ہی کرنا تھی لیکن پھر لگا کہ یہ بنی گالہ کے انصافیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی

      Delete
    2. Raheel Sb wah kamaal ka Likha hai aap ne
      Hissa dom ka intzaar hai

      Delete
  3. رحیل صاحب میں کیا کمال کر دیتا جے. دوئم کا انتظار ہے

    ReplyDelete
  4. thank you Irfan :)
    for the second part we will have to wait till tomorrow when badshah slamat comes out for jogging and meets these people :)

    ReplyDelete
  5. اچھا لکھا ہے جاری رکھئے لکھنا

    ReplyDelete
  6. زبردست، دوسرے حصے كا انتظار رهے گا

    ReplyDelete
  7. واہ رانا صاحب کمال کر دِتا جے
    مائنڈ بلوؤِنگ, 👍👍👍👍
    اگلی قسط کا منتظر
    پینڈو

    ReplyDelete
  8. اک بات سمجھ نہیں آئی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے اک پارٹی کو بنے ہوئے ' اک مرتبہ بھی اقتدار میں نہیں آئی تھی ' باقی پارٹیز عیاشیاں کر چکی کئی کئی بار وفاقی و صوبائی حکومت میں حصہ پا کر ' پھر اتنا کیوں لتاڑا جا رہا ہے اس پارٹی کو جبکہ اس کے لیڈر نے آپ لوگوں کو براہ راست بذات خود کوئی گزند بھی نہیں پہنچائی ؟
    اور جن کو سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ان کو گلے لگایا جا رہا

    اگر آرمی یا ایسٹیبلشمنٹ پوری اصل محرک ہے تو ان کو گالیاں دی جائیں ' ان سے نفرت و برات کا اظہار کیا جائے یا جنہوں نے قوم کو لوٹا جمہوری و آمرانہ ادوار میں ان پر بلاگ لکھیں جائیں - چھتیس کے آنکڑے سے کب نکلیں گے آپ لوگ ؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. جمعہ جمعہ 8 دن کا مطلب ایک ہفتہ ہوتا ہے

      مگر 1996 کو بننے والی پارٹی کو آج 19 سال ہو چکے ہیں
      اور مقصد کسی سیاسی پارٹی پر تنقید نہیں تھی ایک عوامی چندہ و خیرات کے بل پر شاہانہ زندگی گزارنے والے عمران خان کی بےحسی کو اجاگر کرنا تھا

      کرک کے متاثرین تمام رات بنی گالہ کے محل کے باہر سردی میں بیٹھے رہے اور عوامی لیڈر کو اپنی خوابگاہ سے باہر آنے کی توفیق نہیں ہوئی

      Delete